Sunday , July 22 2018
Home / عرب دنیا / دوما سے لاکھوں شہریوں کا تخلیہ

دوما سے لاکھوں شہریوں کا تخلیہ

فوجی کارروائی سے محفوظ رکھنے کی کوشش، حکومت شام کا غوطہ کے بے قصور شہریوں کے تخلیہ کا معاہدہ
دمشق ،یکم اپریل(سیاست ڈاٹ کام )شورش زدہ شام کے مشرقی غوطہ میں حکومت اور باغی گروپ جیش الاسلام کے درمیان مبینہ طور پر دوما سے سنگین طور پر زخمی افراد کے تخلیہکا معاہدہ ہوا ہے ۔دوما مشرقی غوطہ میں باغیوں کے زیر قبضہ آخری گڑھ تصور کیا جاتا ہے ۔اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ باغی گروپ جیش الاسلام، مقامی رہنماؤں اور روس کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد ہی ممکن ہو سکا ہے ۔زخمیوں کو شمالی شہر ادلب لے جایا جائے گا جو کہ ابھی تک باغیوں کے قبضے میں ہے ۔دریں اثنا دوما کو فوجی کارروائی سے محفوظ رکھنے کیلئے شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔ شامی فوج نے دوما کا محاصرہ کر رکھا ہے ۔دوما پر قابض باغیوں نے وہاں آباد ہزاروں افراد کے تخلیہ کے لیے کی جانے والی کسی بات چیت سے انکار کیا ہے ۔بہر حال عالمی خبررساں ادارے رائٹر کے مطابق ہفتہ کی شب روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت زخمیوں کو اس علاقے سے لے جانے کی اجازت ہوگی۔جبکہ باغیوں کو امید ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں انھیں ماسکو کی حفاظت میں دوما میں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔دوسری جانب چھ ہفتوں کی بمباری کے بعد ہزاروں باغیوں کو ‘محفوظ راہداری’ کے معاہدے کے تحت شمالی شہر ادلیب جانے کا موقع ملا ہے ۔جبکہ شامی فوج نے کہا ہے کہ جو ابھی تک دوما کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہیں وہ دوما چھوڑ دیں یا پھر بھرپور حملے کے لیے تیار رہیں۔لاکھوں افراد نے شامی دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے کو اب چھوڑ دیا ہے جہاں کبھی 20 لاکھ افراد رہا کرتے تھے۔
شامی فوج نے باغیوں کو یہ پیشکش کی ہے کہ یا تو وہ ان کے ساتھ آ جائیں یا پھر سپر ڈال دیں اور حکومت کے قبضے والے علاقوں میں جا کر رہیں۔فوج کے ایک ترجمان نے ہفتہ کو ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ فوج نے دارالحکومت یمن سکیورٹی بحال کی ہے اور ملک کے باقی حصوں سے اپنے رابطے کا تحفظ کیا ہے ۔خیال رہے کہ شامی حکومت نے مشرقی غوطہ کا 2013 سے محاصرہ کر رکھا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے وہاں کے حالات کو ‘عرضی جہنم’ قرار دیا ہے ۔بیروت سے موصولہ اطلاع کے بموجب مشرقی غوطہ سے لاکھوں شہریوں کے تخلیہ کا ایک معاہدہ حکومت شام کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے اس کی اطلاع دی ۔ تاہم مزید تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ تخلیہ کے آغاز سے قبل اس کی دیگر تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم اس کا مقصد بے قصور شہریوں کو فوجی کارروائی کے دوران محفوظ رکھتا ہے ۔ حکومت شام کا دعوی ہے کہ مشرقی غوطہ کے 95فیصد سے زیادہ حصہ پر حکومت کا قبضہ بحال ہوچکا ہے اور بے قصور شہریوں کی شام کے اس علاقہ سے روانگی کے سلسلہ میں ایک معاہدہ طئے ہوچکا ہے ۔ معاہدہ کی تکمیل کی اطلاع سنتے ہی لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس علاقہ سے تخلیہ کرنا شروع کردیا ہے ۔ ان کے ساتھ ان کے بیاگس تھے جن میں شدت کی سردی سے بچنے کیلئے بلانکٹس بھی موجود تھے ۔ 18فبروری سے روس کی تائید یافتہ حکومت شام نے مشرقی غوطہ پر قبضہ کی کارروائی شروع کردی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT