Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / دونوں شہروں میں سروے کے دوران 88 فیصد مکینوں کا احاطہ

دونوں شہروں میں سروے کے دوران 88 فیصد مکینوں کا احاطہ

شہر کی سڑکیں سنسان، پٹرول پمپس، ہوٹلیں بھی بند، بعض مقامات پر عدم سروے کی شکایت

شہر کی سڑکیں سنسان، پٹرول پمپس، ہوٹلیں بھی بند، بعض مقامات پر عدم سروے کی شکایت
حیدرآباد 19 اگسٹ (سیاست نیوز) شہر میں سروے کے باعث آج تمام تر سرگرمیاں مفلوج رہیں اور شہر کی سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی تھیں۔ سڑکوں پر بس، آٹو یا کوئی اور سواری کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔ اِسی طرح شہر کے تمام بازار مکمل طور پر بند رکھے گئے تھے حتیٰ کہ سنیما گھر اور ہوٹلوں کو بھی پوری طرح سے بند رکھا گیا تھا۔ بعض مقامات پر ٹھیلہ بنڈی رانوں کی جانب سے فروخت کی جانے والی اشیائے خورد و نوش پر عوام کا ہجوم اُمڈ آیا تھا۔ صبح کی اولین ساعتوں سے ہی پٹرول پمپ ہی نہیں بلکہ تمام تجارتی سرگرمیاں مفلوج رہیں اور عوام نے گھروں میں رہتے ہوئے سروے میں حصہ لینے کو ترجیح دی۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں جامع سروے کے دوران 19 اگسٹ کو 88 فیصد سے زائد مکینوں کا احاطہ کرلیا گیا ہے اور دونوں شہروں میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے زائداز 20 ہزار شمار کنندگان کے علاوہ 40 ہزار معاونین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اِس نشانہ کو مکمل کیا گیا ہے۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر سومیش کمار نے بتایا کہ شام 5 بجے تک 60 فیصد سروے مکمل کرلیا گیا اور 15 لاکھ 24 ہزار مکانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ سروے کا عمل جاری ہے اور قطعی فیصد کے متعلق بہت جلد واقف کروایا جائے گا۔ اُنھوں نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں رہنے والے مکینوں کی جانب سے سروے کے دوران حوصلہ افزاء ردعمل کے اظہار پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بعض مقامات سے جو شکایات موصول ہوئی ہیں اُن شکایات کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ مسٹر سومیش کمار نے کہاکہ دونوں شہروں میں صبح 7 بجے سے ہی سروے کا آغاز کردیا گیا تھا اور مسلسل ہر علاقہ پر خصوصی توجہ دی جارہی تھی تاکہ کسی بھی قسم کی شکایت کا بروقت ازالہ کیا جاسکے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں شامل علاقوں بالا نگر، گچی باؤلی، کوکٹ پلی، دلسکھ نگر، ملک پیٹ، سعیدآباد، چارمینار، گولکنڈہ، ٹولی چوکی، مہدی پٹنم، آصف نگر، نامپلی، راجندر نگر، بہادر پورہ، کشن باغ، شیورام پلی، حسن نگر، تاڑبن، کالا پتھر، بارکس، چندرائن گٹہ، چنچل گوڑہ، حافظ بابا نگر، فلک نما، انجن باؤلی، جہاں نما، لال دروازہ، اپو گوڑہ، نشیمن نگر، تالاب کٹہ، عیدی بازار، سنتوش نگر، چمپا پیٹ کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں عوام نے جوش و خروش کے ساتھ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کروائے جارہے سروے میں حصہ لیتے ہوئے تفصیلات کے اندراج میں کوتاہی نہیں کی۔ اِسی طرح دونوں شہروں کے کئی مقامات پر شمار کنندگان کے نہ پہونچنے کے باعث متفکر عوام نہ صرف عہدیداروں کے فون نمبرات پر رابطہ قائم کررہے تھے بلکہ اخبارات کے دفاتر کو بھی مسلسل اِس بات کی شکایت موصول ہورہی تھی کہ اُن کے علاقوں میں شمار کنندگان نہیں پہونچ پائے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فراہم کردہ فون نمبرات پر عہدیدار بات کرنے سے گریز کررہے تھے چونکہ اُنھیں مسلسل شکایتوں کے فون آرہے تھے۔ دونوں شہروں کے بیشتر سلم علاقوں میں سروے کو بے انتہا اہمیت حاصل ہوئی اور متمول گھرانوں نے بھی سروے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جن علاقوں میں رہائشی کامپلکس موجود ہے وہاں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن مقامی عوام کے تعاون سے شمار کنندوں نے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے بدرجہ اتم کوشش کی۔ شیرلنگم پلی، کوکٹ پلی، گچی باؤلی، دلسکھ نگر، ملک پیٹ کے بعض علاقوں سے اِس بات کی بھی شکایت موصول ہوئی کہ اِن علاقوں میں موجود کالونیوں میں شمار کنندگان یا عہدیدار پہونچے ہی نہیں ہیں جس کے سبب عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عوام اِس بات کو جاننے کے لئے بے چین ہے کہ آیا سروے کے عمل کو تکمیل کرنے کیلئے کچھ توسیع دی جائے گی یا نہیں۔ چونکہ جو لوگ سروے میں حصہ لینے میں ناکام ہوئے ہیں اُنھیں اِس بات کی تشویش لاحق ہے کہ آیا مستقبل میں اُنھیں اُس کے نقصانات تو برداشت نہیں کرنے پڑیں گے۔

TOPPOPULARRECENT