Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / دونوں شہروں میں چھوٹے بیوپاری سود خوروں کا نشانہ

دونوں شہروں میں چھوٹے بیوپاری سود خوروں کا نشانہ

محنت کی کمائی سود میں ادائیگی ، سود سے متاثرہ افراد کو اپنی بپتا پیش کرنے کی ضرورت

محنت کی کمائی سود میں ادائیگی ، سود سے متاثرہ افراد کو اپنی بپتا پیش کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔ 15 ڈسمبر (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں سود خوروں کا آسان نشانہ روزمرہ کی تجارت کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے والے چھوٹے بیوپاری ہوتے ہیں جنہیں دن بھر کیلئے رقومات فراہم کرتے ہوئے سود خور شام ہونے تک ان چھوٹے تاجرین کی خون پسینہ کی کمائی میں سے اپنا حصہ اُڑا لے جاتے ہیں۔ شہر کے بیشتر بازار بالخصوص چارمینار کے قریب واقع ٹھیلہ بنڈی رانوں کے علاوہ دیگر کاروباریوں اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے افراد سودخوروں کا آسان نشانہ ہیں۔ اسی طرح سلطان بازار، کوٹھی، دلسکھ نگر، امیرپیٹکے علاقوں میں موجود تاجرین کی حالت بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ سودخور باضابطہ ایجنٹس کے ذریعہ رقومات صبح کے اوقات میں مارکٹ میں پھیلاتے ہیں اور شام ہونے کے ساتھ وصولی کے لئے ایجنٹس سرگرم ہوجاتے ہیں۔ 10 ہزار روپئے دن بھر کیلئے حاصل کرنے والے تاجر کو 9 ہزار روپئے دیئے جاتے ہیں اور رات ہونے تک تاجر کو 10 ہزار روپئے واپس لوٹانے ہوتے ہیں۔ قرض دہندہ کی جانب سے 10 ہزار روپئے کی عدم ادائیگی کی صورت میں اس سود پر مزید سود عائد کیا جاتا ہے جس کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ اس غیرقانونی کاروبار سے صرف بظاہر نظر آنے والے سود خور جڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ان ایجنٹس و سود خوروں کو بڑے تجارتی گھرانوں کے علاوہ سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے جو روزمرہ کے تاجرین سے محنت کرواتے ہوئے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانے میں مصروف ہیں۔ شہر کے موبائل فونس کیلئے مشہور بازار جگدیش مارکٹ کی حالت بھی کچھ اسی طرح ہے جہاں صبح کی اولین ساعتوں میں ایک فینانسر کی جانب سے کاؤنٹرس پر کاروبار کرنے والے نوجوانوں کو دن بھر کی تجارت کیلئے رقومات فراہم کی جاتی ہیں اور اس کا حساب بھی اسی طرح ہے جس طرح پرانے شہر کے علاوہ دلسکھ نگر کے علاقہ میں فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ مذکورہ شخص بھی صبح 9 ہزار روپئے بغرض تجارت ادا کرتا ہے جبکہ رات 8 بجے کے قریب یہ شخص وصولی کیلئے پہنچتا ہے۔ ایسی صورت میں کئی نوجوان ایسے ہیں جو دن بھر کی کوشش کے باوجود کاروبار نہ ہونے کے سبب فینانسر سے چھپتے پھرتے ہیں لیکن ان کی یہ کوشش کارگر اس لئے ثابت نہیں ہوتی چونکہ اگر وہ ایک دن رقم ادا نہ کرسکیں تو ایسی صورت میں ان کو دوسرے دن دو یوم کے سود کے ساتھ ساتھ تقریباً نصف سود بطور جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں اس غیرقانونی کاروبار میں ملوث افراد کو اس بات کا اندازہ ہے کہ انہیں نہ صرف سیاسی پشت پناہی حاصل ہوگی بلکہ وہ دولت کے بَل پر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ شہر میں موجود غیرقانونی کاروبار میں ملوث ان افراد میں جو احساس پیدا ہوا ہے اسے توڑنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ جن لوگوں نے سود پر رقومات حاصل کی ہیں اور سود خوروں کی اذیتوں سے بے بسی و لاچاری کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ آگے آئیں اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو اپنی مجبوریوں اور سود خوروں کے مظالم سے واقف کروائیں تاکہ محکمہ پولیس سود خوروں کے خلاف اپنا شکنجہ کسنے پر مجبور ہوجائے۔ سود خوروں کے مظالم کا شکار بعض افراد کا کہنا ہے کہ بسااوقات پولیس عہدیداروں کے ہمراہ سودخوروں کی تصاویر کے علاوہ سودخوروں سے پولیس کے دوستانہ تعلقات کے باعث وہ پولیس میں شکایت کرنے سے بھی خائف ہیں چونکہ شکایت کرنے کی صورت میں ان پر مظالم میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ شہر کے بیشتر آٹو ڈرائیورس بھی بحالت مجبوری ان سود خوروں سے بھاری سود پر رقومات حاصل کئے ہوئے ہیں اور کئی آٹو ڈرائیورس کی حالت یہ ہے کہ وہ رات کے اوقات میں اپنے گھر واپس ہونے سے بھی خوف زدہ ہوتے ہیں اور اکثر شہر کے کسی پارکنگ لاٹ میں آٹو کے ساتھ شب بسری میں عافیت تصور کرتے ہیں۔ آٹو ڈرائیورس جب سود پر رقم حاصل کرتے ہیں تو سود خوروں کی جانب سے ان کی ذرائع آمدنی گاڑی کے دستاویزات حاصل کرلئے جاتے ہیں اور اتنا ہی نہیں بلکہ سادہ کاغذوں کے علاوہ سادہ ٹرانسفر دستاویزات پر دستخط یا انگوٹھے کا نشان بھی لے لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آٹو ڈرائیورس بے انتہا مجبوری و بے بسی کے عالم میں نہ صرف خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اسے اپنا ذریعہ آمدنی ’’آٹو‘‘ کی بھی حفاظت مقصود ہوتی ہے۔ سود خوروں کے مظالم کا شکار افراد کو چاہئے کہ وہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ان کے متعلق تفصیلات فراہم کریں تاکہ اگر کسی ناگہانی واقعہ میں مقامی پولیس عہدیداروں سے سود خوروں کے روابط بہتر ہوں تو ایسی صورت میں بھی اعلیٰ عہدیدار نہ صرف سود خور بلکہ مقامی پولیس عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی انجام دے سکیں۔

TOPPOPULARRECENT