Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / دونوں شہروں کے تمام راشن کارڈس منسوخ، فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی پر غور

دونوں شہروں کے تمام راشن کارڈس منسوخ، فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی پر غور

13 تا 20 اکٹوبر کے درمیان ادخال درخواست کی مہلت، کلکٹر حیدرآباد مکیش کمار مینا کی پریس کانفرنس

13 تا 20 اکٹوبر کے درمیان ادخال درخواست کی مہلت، کلکٹر حیدرآباد مکیش کمار مینا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 10 اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود راشن کارڈس کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں۔ اب راشن کارڈس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی بلکہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کو فوڈ سکیورٹی کارڈ کے حصول کے لئے 13 تا 20 اکٹوبر درخواست داخل کرنی ہوگی۔ ضلع کلکٹر مسٹر مکیش کمار مینا نے آج پریس کانفرنس کے دوران یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے بتایا کہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کے لئے فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں تاحال سرکاری احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں لیکن ضلع انتظامیہ شہر کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر درخواستوں کی قبولیت کا آغاز کردیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ فوڈ سکیورٹی کارڈ کے لئے درخواست 13 تا 20 اکٹوبر کے درمیان اپنی قریبی راشن کی دوکان پر داخل کرنی ہوگی اور یہ درخواست سادہ کاغذ پر بھی تحریر کرتے ہوئے داخل کی جاسکتی ہے لیکن اِس کے ساتھ آدھار کارڈ نمبر یا اُس کی نقل منسلک کرنی ہوگی۔ مسٹر مکیش کمار مینا نے بتایا کہ حکومت نے شہریان حیدرآباد کو آمدنی، طبقہ، رہائشی، پیدائشی، وظیفہ و دیگر سرٹیفکٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِن سرٹیفکٹس کے لئے درخواست گذاروں کو چاہئے کہ وہ اِس سلسلہ میں درخواستیں متعلقہ تحصیلدار کے دفتر میں جمع کروائیں۔ اِن اسنادات کے لئے بھی شہریوں کو سہولت کی فراہمی کے لئے مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ آدھار کارڈ منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ دو یوم کے دوران حکومت کی جانب سے فوڈ سکیورٹی کارڈ کے متعلق رہنمایانہ خطوط اور سرکاری احکام کی اجرائی متوقع ہے۔ فی الحال شہر حیدرآباد میں 6 لاکھ 20 ہزار سفید راشن کارڈ ہیں جوکہ فوری اثر کے ساتھ منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ جبکہ گلابی راشن کارڈ جن کے پاس موجود ہیں وہ بھی اب کسی کام کے نہیں رہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ راشن کارڈس کا دور اب ختم ہوچکا ہے شہریوں کو فوڈ سکیورٹی کارڈ فراہم کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ اِس کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کئے گئے تلنگانہ جامع سروے کی تفصیلات سے بھی مدد حاصل کی جائے گی۔ ضلع کلکٹر نے بتایا کہ مقررہ تاریخ کے دوران توقع ہے کہ تقریباً 8 لاکھ درخواستیں بذریعہ راشن شاپ وصول ہوں گی لیکن اِن درخواستوں کی تنقیح کے لئے ریونیو انسپکٹرس کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا درخواست گذار فوڈ سکیورٹی کارڈ کے حصول کا اہل ہے یا نہیں۔ اُنھوں نے واضح کیاکہ ریونیو انسپکٹرس درخواست گذار کے مکانات پہونچ کر اِس بات کا جائزہ لیں گے اور پھر اہل خاندانوں کو فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ مسٹر مکیش کمار مینا نے بتایا کہ شہر میں ہوئے آبادی میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ایسی توقع کی جارہی ہے کہ جتنے کارڈ منسوخ کئے گئے ہیں اُن سے زائد فوڈ سکیورٹی کارڈ (ایف ایس سی کارڈ) جاری کرنے پڑ سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT