Saturday , May 26 2018
Home / دنیا / دونوں کوریاؤں کی چوٹی کانفرنس شمالی کوریا نیوکلیئر ہتھیار ترک کرنے تیار

دونوں کوریاؤں کی چوٹی کانفرنس شمالی کوریا نیوکلیئر ہتھیار ترک کرنے تیار

سیول ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمالی اور جنوبی کوریا کے قائدین ایک تاریخی چوٹی کانفرنس اس علاقہ میں جہاں سے آئندہ ماہ فوج واپس طلب کرلی جائے گی، منعقد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ شمالی کوریا میں صیانتی طمانیت کے عوض اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں سے دستبرداری کا تیقن دیا ہے۔ شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی مرحلوں پر مشتمل تحدیدات عائد کی ہیں جو اس کے نیوکلیئر ہتھیاروں اور بین البراعظمی میزائلس پروگرامس کے سلسلہ میں ہیں۔ شمالی کوریا کے قائد چنگ نے کہا کہ مذاکرات سے قبل شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے اپنے نیوکلیئر ہتھیار ترک کردینے کا تیقن دیا ہے بشرطیکہ اس کو حفاظتی ضمانتیں حاصل ہوجائیں۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے خلاف نیوکلیئر ہتھیار استعمال نہ کرنے کا تیقن دیا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا کہ پیونگ یانگ میں جنوبی کوریا کے ایک وفد نے صدر شمالی کوریا کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی جو چار گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ جنوبی کوریا کے بموجب ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے قائد خوشگوار موڈ میں تھے اور انہوں نے وفد کے تمام ارکان سے مصافحہ کیا۔ وہ پرجوش بھی نظر آرہے تھے۔ صدر جنوبی کوریا مون جو ان نے کہا کہ شمالی کوریا کے صدر کے ساتھ انہوں نے تبادلہ خیال کیا ہے اور جنوبی کوریا کے وفد کا دورہ شمالی کوریا ثمرآور اور کامیاب ثابت ہوا۔ جنوبی کوریا کے قاصد امریکہ کا دورہ کریں گے اور انہیں بات چیت کی تفصیلات سے واقف کروائیں گے جو شمالی کوریا کی قیادت کے ساتھ جنوبی کوریا کے وفد کی بات چیت ہوچکی ہے۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے خوشی ظاہر کی کہ شمالی کوریا کے ساتھ جنوبی کوریا کی بات چیت میں پیشرفت جاری ہے اور ایک طویل عرصہ کے بعد اس علاقہ میں امن کا احیاء ممکن ہوسکتا ہے۔ اطلاعات کے بموجب جنوبی کوریا کے عہدیداروں نے کہا کہ شمالی کوریا اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں سے دستبردار ہونے اور کارروائی کی دھمکیوں سے دستبردار ہونے کیلئے بھی تیار ہے بشرطیکہ اسے صیانتی طمانیت دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT