Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / دوکروڑ کے حسابات کی عدم پیشکشی کی تفصیلات تیار کرنے کی ہدایت

دوکروڑ کے حسابات کی عدم پیشکشی کی تفصیلات تیار کرنے کی ہدایت

تنخواہوں کی منہائی جاری رہے گی‘ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی ایگزیکٹیو آفیسر سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 9۔ اکتوبر (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی کو ہدایت دی کہ وہ ملازمین کی جانب سے دو کروڑ روپئے کے حسابات کی عدم پیشکشی سے متعلق تفصیلات تیار کریں تاکہ سعودی عرب سے واپسی کے بعد چہارشنبہ کو اس مسئلہ کا جائزہ لیا جائے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے جو سعودی عرب کے دورہ پر ہیں، چیف اگزیکیٹیو آفیسر سے ربط قائم کیا اور 74 ملازمین کی جانب سے گزشتہ 10 برسوں سے دو کروڑ روپئے کے حسابات داخل نہ کرنے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض ملازمین کو حسابات پیش کرنے میں ناکامی کے باوجود دوبارہ پیشگی رقم جاری کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ رقومات کا تحفظ بورڈ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ رقم اوقافی جائیدادوں سے حاصل ہوتی ہے۔ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہیں اور ان کی آمدنی کا تحفظ بورڈ کے ہر ملازم کی ذمہ داری ہے۔ صدرنشین نے حیرت کا اظہار کیا کہ اعلیٰ عہدیداروں نے گزشتہ دس برسوں میں کبھی ملازمین کو حسابات پیش کرنے پابند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کام کی تکمیل کے فوری بعد ملازمین اور عہدیداروں کو فوری حسابات پیش کردینے چاہئے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ حسابات کی پیشکشی تک تنخواہوں سے منہائی کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ صدرنشین بورڈ نے کہا کہ وہ عہدہ کی مراعات حاصل کئے بغیر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ بورڈ کے خرچ سے پانی تک استعمال نہیں کرتے لیکن ملازمین کی لاکھوں روپئے کے حسابات کی عدم پیشکشی نے انہیں متحیر کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی پر تنخواہوں سے رقم کی کٹوتی روکنے ملازمین دباؤ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق میں انہوں نے بل داخل کئے تھے لیکن متعلقہ عہدیداروں نے پراسیس نہیں کیا جسکے باعث ریکارڈ میں ان کے نام کے ساتھ بھاری رقم دکھائی جارہی ہے۔ ملازمین کا استدلال ہے کہ وہ پرانے بلز پیش کرنے سے قاصر ہے۔ لہذا بورڈ کو ریکوریز سے گریز کرنا چاہئے ۔ منان فاروقی نے واضح کیا کہ جب تک ملازمین متعلقہ سیکشنوں میں بلز کا سیٹلمنٹ نہیں کرینگے ریکوری کا عمل جاری رہے گا۔ سیٹلمنٹ کی تکمیل کے بعد رقم واپس کردی جائیگی ۔ اسی دوران 16 اکتوبر کو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں اوقافی جائیدادوں کو ڈیولپمنٹ پر دینے سے متعلق فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT