Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / دو سالہ رمشا فردوس کی ذہانت پر دنیا حیرت میں غرق

دو سالہ رمشا فردوس کی ذہانت پر دنیا حیرت میں غرق

جنرل نالج پر غیر معمولی عبور ، آئی پی ایس آفیسر بن کر ملک کی خدمت کا عزم
رمشا ملت کا اثاثہ اور ذہانت کا عجوبہ : ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خاں
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ( محمد ریاض احمد) : اگر آپ سے کہا جائے کہ دو سال دو ماہ عمر کی ایک شیرخوار 213 ملکوں کے دارالحکومتوں ، ہندوستانی ریاستوں ان کے صدر مقامات ، دنیا کی پہلی خاتون ڈاکٹر ملک کی پہلی آئی پی ایس آفیسر ، پہلی خاتون ٹیچر کے نام بڑی تیزی کے ساتھ سناتی ہے تو ہمیں یقین ہے کہ آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا لیکن دفتر سیاست میں آج ہماری ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جسے بلاشبہ ذہانت کے معاملہ میں دنیا کا عجوبہ کہا جاسکتا ہے ۔ رمشا فردوس نامی اس گڑیا جیسی لڑکی کو جنرل نالج پر اس قدر غیر معمولی عبور حاصل ہے کہ وہ سیاست ، شخصیتوں ، ملکوں ، ریاستوں ، اضلاع اور کیمیائی عناصر کے بارے میں فی الوقت کم از کم 800 سوالات کے جوابات واضح انداز میں دے سکتی ہے ۔ رمشا فردوس نے آج دفتر سیاست میں اپنی والدہ آصف النساء اور خالہ کے ہمراہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی ۔ آصف النساء نے بتایا چونکہ جناب زاہد علی خاں نے بلالحاظ مذہب و ملت ہونہار لڑکیوں کی غیر معمولی حوصلہ افزائی کی ہے اس لیے وہ اپنی بیٹی کو ایڈیٹر سیاست سے بطور خاص ملاقات کے لیے حیدرآباد لائی ۔ آپ کو بتادیں رمشا فردوس ضلع عادل آباد کے بیلا منڈل کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’ دہے ‘ کی رہنے والی ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس لڑکی کا نام ورلڈ بک آف ریکارڈ ، انڈیا بک آف ریکارڈ اور تلنگانہ بک آف ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے ۔ اور امید ہے کہ گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں بھی رمشا کا نام شامل کرلیا جائے گا ۔ رمشا کی والدہ اپنی بیٹی کو چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کروانے کی خواہاں ہے ۔ آصف النساء کے مطابق ان کے شوہر زبیر احمد سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔ انہوں نے بی کام کیا جب کہ آصف النساء بی اے تک تعلیم حاصل کرپائی ۔ آصف النساء نے مزید بتایا کہ ٹی وی پر جیوگرافی پروگرامس دیکھنے کے دوران رمشا نے اینکر کے کہے الفاظ کو ذہن نشین کرلیا جب ان کی نانی الفاظ کو اردو میں دہراتی تب رمشا انہیں بتاتی کہ اس جانور کا نام ہرن نہیں Deer ہے ۔ شیر نہیں ٹائیگر ہے ۔ ببر نہیں لائن ہے ۔ ہاتھی نہیں ایلیفنٹ ہے ۔ تب آصف النساء اور ان کی والدہ کو احساس ہوا کہ رمشا کو قدرت نے غیر معمولی ذہانت سے نوازا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد سے رمشا کی والدہ نے اسے ہر روز 20 نئے الفاظ سکھانے شروع کئے جنہیں وہ دوسرے دن من و عن سنادیتی ۔ یہ دیڑھ سال کی عمر سے شروع ہوا تھا ۔ رمشا کہتی ہے کہ وہ بڑی ہو کر آئی پی ایس آفیسر بنے گی اور دیش کی سیوا ( ملک کی خدمت ) کرے گی ۔ جب اس سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ تو دیش کی سیوا کریں گی اور آپ کا چھوٹا بھائی روحان کس کی سیوا کرے گا ؟ تب وہ جواب دیتی ہے کہ روحان مما کی سیوا کرے گا ۔ روحان کی عمر صرف تین ماہ ہے ۔ آصف النساء چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی حافظہ بنے ۔ اسی مقصد کو لے کر وہ اسے مختلف سورتیں یاد دلائیں گی ۔ جناب زاہد علی خاں رمشا فردوس کی ذہانت پر کافی خوش ہوئے اور اس کے ماں باپ سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمشا فردوس نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملک و ملت کا اثاثہ ہے ۔ انہوں نے غیر معمولی ذہانت کے حامل کئی بچوں کو دیکھا ہے لیکن رمشا جیسی کم عمر لڑکی کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے جس نے اپنی ذہانت کے ذریعہ سب کے دل جیت لیے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT