Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / دو طرح کی لڑائی ایک نے کمائی دوسرے نے گنوائی

دو طرح کی لڑائی ایک نے کمائی دوسرے نے گنوائی

محمد مصطفیٰ علی سروری
احمد بھائی کے عزیز باہر سے آئے ہوئے تھے اور ان کے گھر میں گویا ہر روز دعوت کا سا ماحول تھا ۔ کیا بڑے کیا بچے سب بہت خوش تھے ۔ سال میں ایک مرتبہ تو ہی ایسا ہوتا ہے ، جب احمد بھائی کے چھوٹے بھائی دبئی سے اپنی ساری فیملی کے ساتھ حیدرآباد آئے 20 تا 25 دن کی یہ چھٹیاں ان کے بچوں کو ہی نہ یں بلکہ ان کے بھتیجوں اور بھائی بھاوج کو بھی سال بھر یاد رہتے۔
احمد بھائی بھی باہر جاکر کمانے کی کوشش کرچکے لیکن معلوم نہیں کیا مسئلہ تھا کہ وہ دو مرتبہ باہر جاکر ملازمت کرنے کی کوشش کئے ، ہر دو مرتبہ ان کی طبیعت کچھ ایسی خراب ہوگئی تھی کہ بالآخر انہوں نے باہر جاکر ملازمت کرنے کا ارادہ ہی ترک کر ڈالا ۔ اب وہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کام کرنے لگے تھے ، باہر تو نہیں جاسکے لیکن اللہ کے کرم سے ہندوستان میں ہی ان کے گھریلو حالات ماشاء اللہ سے اچھے ہی تھے اور جب بھی ان کا چھوٹا بھائی دبئی سے حیدرآباد آتا تو انہیں بھی بڑی خوشی رہتی ۔ وہ اپنی بہنوں اور ان کے بچوں کو بھی بلا لیتے ، غرض زبردست چہل پہل ہوجاتی اور خاندان کے سب لوگ ان کے ہاں جمع ہوجاتے۔
یہ سال 2012 ء کی بات ہے ۔ حسب معمول دبئی سے جب ان کے چھوٹے بھائی کی فیملی انڈیا آئی تو اس وقت ان کے دونوں بہنوئی بھی آئے ہوئے تھے ۔ غرض سارے خاندان کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندان کے بچوں نے فرمائش کی کہ کسی فارم ہاوز کو جاکر پکنک منائیں گے ۔ پروگرام بنا اور سفر کیلئے ایک 22 سیٹر گاڑی اور ایک کار کا انتظام ہوا ۔ حیدرآباد سے تقریبا ً 80 کیلو میٹر کے فاصلے پر سب پکنک منانے کیلئے گئے ۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ، کیا بڑے کیا بچے سب خوب کھیلے ، کھانا ہوا ، کھانے کے بعد احمد بھائی کی بہن کے چھوٹے بچے کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ یوں شام ساڑھے چار بجے ہی پکنک ختم کرکے سب واپس ہونے لگے ۔ احمد بھائی اور ان کی بہن کے بچے کو چند لوگ کار میں لیکر راستے میں ڈاکٹر کو بتانے چلے گئے اور باقی کے افراد خاندان 22 سیٹر گاڑی سے حیدرآباد واپس ہونے لگے ۔
راستے میں بچے ناراض تھے کہ ایک بچے کی وجہ سے سب کی پکنک خراب ہوگئی ۔ اس دوران کسی کی نظر سڑک کے کنارے ایک دھابے پر پڑی جہاں آئسکریم کا بھی بڑا سا ایڈورٹائزنگ بورڈ لگا تھا ۔ بس کیا تھا سب کی فرمائش پوری کرنے گاڑی دھابے پر رکی۔ سب نیچے اتر کر اپنی اپنی پسند کی آئسکریم کھانے لگے ۔ جب سب آئسکریم کھاچکے تو بچوں کا غصہ بھی کم ہوگیا اور بل دینے کی باری آئی تو دوکاندار نے آئسکریم کی جو قیمت بتلائی اس کو سنکر احمد بھائی کے چھوٹے بھائی بڑے تعجب میں پڑ گئے۔ آئسکریم کی جو قیمت یہ دھابے کی دوکان والا طلب کر رہا تھا وہ اس کی اصل MRP سے کہیں زیادہ تھا ۔ زائد قیمت طلب کرنے پر پہلے تو بحث شروع ہوئی اور گاڑی میں بیٹھنے والے بچوں کو پتہ ہی نہیں کہ یہ بحث ایک لڑائی میں بدل گئی لیکن جب احمد بھائی کے بھائی صاحب اپنی پھٹی ٹی شرٹ اور ٹوٹی عینک کے ساتھ واپس گا ڑی میں بیٹھنے آئے اور ڈرائیور کو قریبی پولیس اسٹیشن چلنے کو کہا تب خواتین کو بچوں کو مسئلہ کی سنگینی کا احساس ہوا ۔ پکنک کا سارا مزہ خراب ہوچکا تھا ۔ احمد بھائی بھی فون پر اس واقعہ کی اطلاع سن چکے تھے ۔ پکنک پر نکلا یہ قافلہ آدھے گھنٹے میں قریبی پولیس اسٹیشن پر ٹھہرا ہوا تھا ۔ احمد بھائی بھی کسی طرح وہاں آگئے ۔ پو لیس اسٹیشن میں بڑ ے صاحب نہیں تھے اور جو پو لیس والا وہاں تھا وہ بھی ایم آر پی سے بڑھ کر قیمت طلب کرنے پر شروع ہوئے اس جھگڑے کی تفصیلات سن ہی رہا تھا کہ ایک بولیرو جیپ میں کچھ لوگ وہاں آگئے کسی نے بتایا کہ دھابہ کا مالک کسی سیاسی لیڈر کو لیکر وہاں آگیا اور وہ لوگ احمد بھائی کے چھو ٹے بھائی کے خلاف دھابے میں توڑ پھوڑ کی شکایت درج کروانا چاہتے تھے۔ پولیس اسٹیشن میں بڑے صاحب آنے تک رات کے 8 بج چکے تھے اور انسپکٹر صاحب نے دونوں فریقین میں مفاہمت طئے کر وادی کیونکہ انسپکٹر نے جب اپنے آدمی کو بھیج کر دھابے کی پوزیشن چیک کروائی وہاں پر دھابے کا فریج ٹوٹا ہوا تھا اور دو ایک ٹیبل بکھرے پڑے تھے ۔ ٹی شرٹ اور عینک ٹوٹنے کے پیسے کیا ملتے اب تو احمد بھائی کو Agreement کیلئے بالآخر 10,000 روپئے نقد دینے پڑے ۔ یوں رات 10 بجے احمد بھائی کے گھر سے نکلا یہ قافلہ واپس ہوا ۔
اس سارے قصے میں ہم نے صرف نام فرضی استعمال کیا ہے اور بقیہ واقعہ کو جوں کاتوں بیان کردیا ۔ اب قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سارے قصے میں کونسی ایسی اہم بات ہے کہ ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اصل قیمت سے بڑھ کر قیمت طلب کرنے پر ایسے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ کسی کو بھی غصہ آنا تو لازمی ہے کہ آخر پیسے تو جھاڑ پر نہیں لگتے اور این آر آئی ہوں تو کیا جو مانگنے آئے اس کو رقم دے دینا کیا۔ محنت سے کمائے سو آمدنی ہے، اب یہ دھابے والا حرام خوری پر اتر آئے تو خاموش تھوڑی بیٹھا جاسکتا تھا ۔ یہ تو پولیس والے بھی بے ایمان تھے ورنہ الٹا دھابے والے پر کیس بنتا تھا ، بجائے اس کو Book کرنے کے پولیس والے احمد بھائی کے بھائی کو ہی ڈرا رہے تھے کہ صاحب آپ این آر آئی ہے کیس بک ہوا تو کورٹ میں آپ کو بھی آنا پڑتا ، آپ تو چھٹی پر ہو وغیرہ  ، میں اس واقعہ پر اپنا کچھ بھی تبصرہ کرنے سے پہلے ایک خبر کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔
12 فروری 2017 ء کو انگریزی اخبار دی ہندو نے ایک خبر شائع کی جس کی سرخی تھی 20 More on MRP Results in Rs. 20k Fine for eatery ہندو کے نمائندے کی اس رپورٹ کے مطابق بنجارہ ہلز پر واقع سروی ہوٹل سے سی ایچ کونڈیا نے ایک پانی کی بوتل خریدی۔ پانی کے اس باٹل کی قیمت اگرچہ 20 روپئے تھی مگر ہوٹل نے اس باٹل کیلئے 20 روپئے کے بجائے 40 روپئے طلب کئے ۔ کونڈیا نامی شخص نے ہوٹل کے مینجر سے پوچھا بھی کہ آخر 20 روپئے کی ایک باٹل کے لئے 40 روپئے کیسے پوچھے جاسکتے ہیں تو مینجر نے جواب دیا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں بلکہ ہر ایک ایسا ہی کرتا ہے۔ کونڈیا کو پانی کی ضرورت تھی اس نے مجبوراً 40 روپئے دیکر پانی کا باٹل خرید لیا ۔ کونڈیا اس اضافی قیمت کی طلبی پر ہرگز خوش نہیں تھا ۔ مگر کونڈیا نے دوکاندار سے کسی طرح کی بحث بھی نہیں کی اور نہ ہی جھگڑا کیا ۔ آندھراپردیش کے ضلع پرکاشم سے تعلق رکھنے والا کونڈیا نے ایم آر پی سے زائد قیمت طلب کرنے پر  Consumer Forum کے پلیٹ فارم پرایک شکایت درج کروادی کہ بنجارہ ہلز کی اس ہوٹل میں 20 روپئے کی پانی کی باٹل 40 روپیوں میں فروخت کی جارہی ہے ۔ صارفین کی عدالت میں اس شکایت پر با ضابطہ طور پر سنوائی ہوئی اور ہوٹل کے انتظامیہ کو طلب کیا گیا اور پوچھا گیا کہ ان کے خلاف کیوں نہ کارروائی کی جائے اور ہوٹل کے غیر تشفی بخش جواب پر صارفین کی اس عدالت نے کونڈیا کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس شخص کو 20 ہزار روپئے ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔ حالانکہ ہوٹل کے مینجمنٹ نے سب لوگ Extra چارج کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں ویسا ہے تب ہی ہم لوگ بھی مجبور ہیں کہ بہانے سنائے مگر صارفین کی عدالت نے ان کی ایک نہ سنی اور پانی کی بوتل پر 20 روپئے اضافی قیمت لینے کی پاداش میں 20 ہزار کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ صرف ہندو اخبار ہی نہیں حیدرآباد کے علاوہ ملک کے بہت سارے اخبارات نے بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ ایک پانی کی باٹل کی زیادہ قیمت لینے پر ہوٹل کو کئے جانے والے جرمانے کی خبر شائع کی۔
کونڈیا کوئی بڑے شہر کا بڑا آدمی نہیں ہے ، آندھراپردیش کے ضلع پرکاشم سے اس کا تعلق ہے اور احمد بھائی کے بھائی ایک این آر آئی ہیں ، وہ این آر آئی جو بات بات پریہ کہتے ہیں کہ ہم تو دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ امریکی ، برطانوی ، سیرین ، فلپائین غرض دنیا کے ہر کونے سے آدمی دبئی آتا ہے اور ہم ایسے انٹرنیشنل ماحول میں کام کرتے ہیں لیکن یہاں تو نقصان احمد بھائی کے بھائی کا ہی ہوا اور ان کا انٹرنیشنل تجربہ کچھ کام نہ آیا ۔ عینک امپورٹیڈ تھی ٹوٹ گئی ، ٹی شرٹ پھٹ گئی اور اوپر سے 10 ہزار کا نقصان الگ ، پورے گھر کے بچے اور عورتیں پریشان الگ سے ۔ کونڈیا نے دینے کو تو 20 روپئے ہی Extra دیئے مگر 10 ہزار کا جرمانہ ہی نہیں بلکہ ایسی قانونی لڑائی جیتی جس میں صرف اس کا ہی نہیں بلکہ اس ہوٹل سے پانی خریدنے والے ہر شحص کا فائدہ ہوا۔
اگر اب بھی آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ یہ کیسے اتفاق ہے کہ زائد قیمت کی وصولی پر بحث اس قدر طول پکڑی ہوگی کہ احمد بھائی کے بھائی لڑائی پر اتر آئے ۔ اخبارات اٹھاکر دیکھئے ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آہی جاتی ہے کہ معمولی بات پر جھگڑا اس قدر سنگین شکل ا ختیار کرلیا کہ یہ نقصان ہوگیا یا فلاں بات ہوگئی ۔
اپنی دنیا سے اپنے تخیلات سے اور تو اور اپنی ہی انا کے خول سے ہمیں باہر نکلنا ہوگا ۔ دنیا کدھر جارہی ہے اور ہم کدھر ، فائدہ تو نہیں ہمیں نقصان ہی ہورہا ہے اور لوگ ہیں کہ اپنے 20 روپئے کے نقصان پر 20 ہزار کا جرمانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ 20 روپئے کی لڑائی جب قانونی دائرہ کے اندر لڑی گئی تو کامیابی ملی اور 380 روپیوںکی لڑائی میں ہاتھا پائی بھی اور عزت بھی گنوائی ۔ آخر کیوں؟ ہمیں خود سوچنا اور اپنا احتساب خودکرنا ہوگا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT