Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / دو طلاقِ رجعی کا شرعی حکم

دو طلاقِ رجعی کا شرعی حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اور انکی اہلیہ ہندہ کے درمیان ، آپسی خاندانی اختلاف اور زید کے بھائی کئی سالوں سے لاپتہ ہے تو انکی اہلیہ سے ماہانہ بیس ہزار خرچ کیلئے اور پچیس لاکھ رہائش کیلئے مطالبہ کرنے کی وجہ تناؤ کا شکار ہونے کی باعث زید نے ہندہ کو ’’ ایک طلاق دیتا ہوں اور کچھ منٹ بعد دوسری طلاق اور میں تجھے اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں‘‘ کہا۔ پھر زید نے ہندہ کو رجوع کرلیا۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: بشرطِ صحت ِسوال صورتِ مسئول عنہا میں شوہر زید کے اپنی زوجہ ہندہ کو دومرتبہ طلاق کہنے سے دوطلاق رجعی واقع ہوگئے۔ پھر اندرونِ عدت رجوع کرنے کی وجہ دونوں پھر سے میاں بیوی ہوگئے۔ اس کے بعد آئندہ شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق رہیگا۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب الرجعۃ ص ۴۷۰ میں ہے : واذاطلق الرجل امرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض کذا فی الہدایۃ۔
نافرمانی اور عدل و انصاف کے متعلق شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام نامی شخص کی زوجہ ہندہ تقریبا ایک سال سے اپنے میکے میں ہی قیام پذیر ہے۔ بارہا شوہر کے بلانے پر چندمطالبات رکھی ہے۔ ۱۔ شوہر کے والدین سے علحدہ مکان میں رکھے۔ ۲۔ماہانہ خرچ کے لئے کثیررقم دیں۔ اسکے علاوہ مزید شرائط رکھی۔ اب غلام نامی شخص دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔
ایسی صورت میں شرعًا کیا حکم ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب: ۱۔شرعا کسی بھی مسلمان میں ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرتے ہوئے انکے حقوق ادا کرنے کی استطاعت ہو تو وہ چار عورتوں تک اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ اگر یہ استطاعت نہ ہوتو ایک پر ہی اکتفا کرے۔ لقولہ تعالیٰ: فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلٰث و ربٰع فاِن خفتم الا تعدلوا فواحدۃ۔ (سورۃ النساء آیت ۳)
پس بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں غلام نامی شخص، ہندہ انکے گھر آنے پر دونوں بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرتے ہوئے انکے حقوق ادا کرسکتے ہیں تو وہ دوسرا نکاح کرسکتے ہیں۔
۲۔ ہندہ بلااجازت شوہر ، شوہر کے گھر سے چلے جانے اور بلانے پر بھی نہ آنے سے وہ ناشزہ (نافرمان) ہے، شوہر کے گھر واپسی تک شوہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب النفقات ص ۵۴۵ میں ہے: وان نشزت فلانفقۃ لھا حتی تعود الی منزلہ والناشزۃ ھی الخارجۃ عن منزل زوجھا المانعۃ نفسھا منہ۔
ماں باپ کے گھر میں علحدہ ایسا کمرہ، جس میں اسکے رہنے اور اسکے اسباب کی حفاظت کیلئے ایسی مستقل جگہ ہو کہ جہاں ساس، سسر کا دخل نہ ہو تو اسکو علحدہ گھر طلب کرنے کا حق نہیں ہے، ورنہ اس کامطالبہ درست ہے۔ فتاوی عالگیری جلد اول فصل فی السکنی ص ۵۵۶ میں ہے: امرأۃ أبت أن تسکن مع ضرتھا أو مع أحمائھا کامہ وغیرھا فان کان فی الدار بیوت و فرّغ لھا بیتا و جعل لبیتھا غلقا علی حدۃ لیس لھا أن تطلب من الزوج بیتا آخر فان لم یکن فیھا الابیت واحد فلھا ذلک۔ فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT