Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / دو قومی ریمارکس پر بنجامن نیتن یاہو کی سرزنش

دو قومی ریمارکس پر بنجامن نیتن یاہو کی سرزنش

واشنگٹن 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو کی سرزنش کرتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما نے ان سے کہا کہ انہو ںنے اپنی انتخابی مہم کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ دو قومی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے جو ریمارکس کیا تھا وہ قطعی مناسب نہیں تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنجامن فلسطینی عوام کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کیلئے تیار نہیں

واشنگٹن 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو کی سرزنش کرتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما نے ان سے کہا کہ انہو ںنے اپنی انتخابی مہم کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ دو قومی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے جو ریمارکس کیا تھا وہ قطعی مناسب نہیں تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنجامن فلسطینی عوام کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ اہم مسئلہ کو حل کرنے کیلئے راہ تلاش کرنا ایک مشکل امر بن گیا ہے ایسے میں ان کا مخالف دو قومی نظریہ افسوسناک ہے ۔ اوباما نے کہا کہ ہم بنجامن نیتن یاہو کو ان کے الفاظ و ریمارک کے حوالے سے تنبیہہ کرتے ہیں کہ ان کی پالیسی مشرق وسطی میں امن کیلئے خطرناک ہوگی ۔ بنجامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کے دورہ وزارت عظمی کے دوران علحدہ فلسطینی ریاست کا خواب ہر گز پورا نہیں ہوگا ۔ اوباما نے کہا کہ اگر بنجامن کا یہ خیال ہے تو ہم کو اس تعلق سے سخت موقف اختیار کرنا پڑے گا ۔ انہو ںنے نیتن یاہو کے اشتعال انگیز بیانات کا بھی حوالے دیتے ہوئے اس طرح بیانات کی مخالفت کی ۔ بنجامن نیتن یاہو کے بیانات فلسطینی مملکت کے قیام کے خلاف ہیں ۔ حالیہ منگل کو ہوئے انتخابات میں نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ اب مشرق وسطی میں کوئی فلسطینی مملکت نہیں بنے گی ۔ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی نے 120 نشستوں میں سے 30 پر کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے والی ہے ۔ اپنی کامیابی کے بعد نیتن یاہو نے اپنے ریمارکس سے انحراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مسلسل کہتے آرہے ہںی کہ وہ ہنوز دو قومی حل کے خواہاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT