Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / دُعا سے دلوں کو اطمنان نصیب ہوتا ہے

دُعا سے دلوں کو اطمنان نصیب ہوتا ہے

سید زبیر ہاشمی ، معلّم جامعہ نظامیہ ألحمدﷲ ! ألحمدﷲ وحدہٗ، والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہٗ

سید زبیر ہاشمی ، معلّم جامعہ نظامیہ

ألحمدﷲ ! ألحمدﷲ وحدہٗ، والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہٗ
اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ ہمیشہ امت محمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام پر عنایات ونوازشات عطافرماتا رہتاہے۔ انہیں عنایات میں سے ایک اہم عنایت دُعا ہے جس کو اختیار کرنا ہر بندے پر بہت لازم ہے، جب تک بندہ اس دُعا کو اپنے لئے لازم نہیں کرلے گا اُس وقت تک اس کو مکمل کامیابی اور سرفرازی نصیب نہیں ہوگی۔ اگرکوئی بندہ اپنے رب سے تعلق جوڑے رکھنا چاہتاہے تو اُسے ضروری و لازم ہے کہ وہ دُعا کو اختیار کرے کیونکہ دُعا بہترین رابطہ ہے ۔

دُعا سے دلوں کو اطمنان نصیب ہوتا ہے۔ دُعا شکستہ دلوں کاسہارا ہے۔ دُعا امیدوں کا مرکز اور محور ہے ۔ فوز وُفلاح کی ضامن ہے ۔ہرمذہب کے ماننے والے کے پیشِ نظر دُعاکا تصور موجود ہے۔ لیکن مذہب اسلام نے دُعاکو ایک مستقل عبادت کا درجہ عطافرمایاہے۔ جیسا کہ اس دنیا ئے فانی کی زندگی میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک انسان کے ساتھ بعض دفعہ ایسے واقعات اور حادثات پیش آتے ہیں کہ وہ ظاہری اسباب اورذرائع ہونے کے باوجود مجبور ولاچار ہوجاتاہے۔ جب ایسی مجبوری لاحق ہوجاتی ہے تو وہ اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں دست دراز ہوتاہے اور اُس وقت اس کی زبان پر چند ایسے کلمات جاری ہوجاتے ہیںجس کو دُعایعنی التجاء کہتے ہیں۔ اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتے ہیں ’’ أُدْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ‘‘۔{ سورۂ غافر اٰیت ۶۰} ترجمہ : تم لوگ مجھ سے دُعاکیاکرو میں تمہاری دُعاکو قبول کروں گا۔ یہ فرماکر اﷲتعالیٰ بندہ کودُعا کرنے کی ترغیب دلا رہاہے۔ اسی طریقہ سے احادیث مبارکہ میں دُعاکی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے۔دُعا کے متعلق آپ تمام قارئین کے لئے کچھ باتوںکی تفصیل حسب ذیل ہیں۔

د ُعاکے معنی: دُعا کالفظ مصدر ہے ، اس کامادّہ {د،ع،ا} اور فعل دَعابابِ نَصَرَسے ہے۔عربی قاعدے کے لحاظ سے اگر اس لفظِ دَعا پر غور کریں تومعلوم ہوگا کہ اس کا اصل دُعاوٌ تھا ، الف زائدہ کے بعد واؤہونے کی وجہ سے اس واؤکوہمزہ سے بدل دیاگیا اور دُعاء ٌ بن گیا۔ اس قاعدہ کے بعد معنی اس کے یہ ہونگے بلانا، عبادت کرنا، مددطلب کرنا، پکارنا، اور سوال کرنا۔ وغیرہ۔ {لسان العرب}
دُعاکے تعلق سے قرآن مجید میں اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ نے کئی مقامات پر ارشاد فرمایاہے ۔ جن میں سے ایک یہ ہے ۔ أُدْعُوْا رَبَّـکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ، اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔{سورۂ اعراف ، ۵۵} ترجمہ : تم اپنے رب سے گڑگڑا کر اور آہستہ دعاکیا کرو، بیشک وہ حدسے زیادہ بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتاہے۔

دُعاکی اصطلاحی تعریف: حضرت امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲعلیہ ،، فتح الباری،، میں علامہ طیبی رحمۃ اﷲعلیہ کا قول نقل کرتے ہیں۔ ھو اظہار غایۃ التذلل والافتقار الی اﷲ والاستکانۃ لہ {فتح الباری} ترجمہ : اﷲعزوجل کی بارگاہ میں غایت درجہ تواضع ، محتاجی ،عاجزی اور انکساری کا اظہار کرنا دُعاکہلاتا ہے۔
دعا کی اہمیت اور فضیلت: ہم اگر اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گاکہ اس میںکئی مرتبہ کمی وُ زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ اور غور و فکر کریں تو معلوم ہوگا کہ خوشی اور غم کے اثرات کو قبول کرنا یہ ایک انسان کی فطری عادت ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ انسان کو جب کبھی خوشی کے لمحات عطا کئے جاتے ہیں تو وہ کبھی کبھار مولاکو یاد کرنا اور شکربجالا نا بھول جاتاہے ، لیکن جب اس کو غم اور مصیبت میں مبتلاکیاجاتاہے تو وہ شخص اس حالت میں کبھی بھی اپنے مولا کو نہیں بھولتاہے ۔ اور اس مصیبت کے وقت اس کے دل سے فریاد نکلتی ہے، دونوں ہاتھ دعا کے لئے بے ساختہ اٹھ جاتے ہیں اور اس شخض کا سر بڑی عاجزی و نیازمندی سے سجدہ میں چلے جاتاہے۔ اور اسی غایت درجہ اضطراری کی کیفیت میں اس بندئہ عاجز کے ہونٹ ہلنے لگتے ہیں اور گڑگڑا کراپنے مولاکو پکارنے لگتاہے ۔ اور اسی پکار کو دُعاکہتے ہیں۔ ایسی مناجات اور پکاریعنی دُعاجب اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ کے حضورپیش کی جاتی ہے تو یقینا اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ اُس دعا کو قبول ومنظور فرماتاہے ۔کیونکہ ایسی دُعامیں خلوص پیداہوتاہے اور خلوص والی ہرچیز اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ کو بے حد پسندآتی ہے۔

آج ہمارے مسلم معاشرے میںاس چیزکا فقدان ہے جس کو اجاگر کرنابہت ضروری ہے ۔ اس پکار کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں پر یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سب اپنے اندر انسانیت کا جذبہ پیدا کرے ، دُعاکے تعلق سے خلیفہ چہارم حضرت سیدناعلی رضی اﷲتعالی عنہ کا ایک مشہور فرمان ہے ، آپ نے فرمایاکہ عرفت ربی بفسخ العزائم (ترجمہ: میں نے اپنے پروردگارکو ارادوںکے ٹوٹنے سے پہچانا) یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کسی ارادہ کی تکمیل نہ ہوتو زبان سے بے ساختہ یہ نکلتاہے کہ ’’شاید اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ کو یہی منظورہے‘‘ ۔ یہ حقیقت کا آئینہ دارہے۔ درحقیقت دُعا کہتے ہیں ہمارے ارادوں، آرزؤں، اور خواہشات (جواﷲسبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والی ہو، نہ کہ دنیوی خواہشات)میں شدیدقوت پیدا کرتی ہے اور ایسی دُعا سیدھی راہ پر چلنے کاذریعہ بنتی ہے ، مشکلات ، رنج والم کو ختم کرنے کا بڑا بہترین ذریعہ ہے ۔ اسی لئے اس دعا کو شکستہ دلوں کا بہترین سہارا کہاگیا ہے۔ دُعا سے دلوں کو اطمنان نصیب ہوتا ہے ۔ بندہ بحالت دُعا اپنے خالق سے انتہائی قریب ہوجاتا ہے، اس حالت میں رحمت الٰہی اس کے ساتھ شامل حال رہتی ہے۔ یہی ایک سچے مومن و مسلمان کی شان اور پہچان ہوتی ہے۔

مگر اس دنیامیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ مصیبت کے وقت دُعامیںمولاکو یادکرتے ہیں ،گڑگڑاکر ، رُو رُوکر مصیبت دور ہونے کی اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ سے التجاء کرتے ہیں اور جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو دُعاکے دامن کو چھوڑدیتے ہیں، جو کہ یہ عمل بالکل اﷲتعالی کے نزدیک ناپسندیدہ ہے ۔ ہم تمام کو اس طرح کے عمل سے اجتناب کرنا چاہئے اور دُعایعنی پکارکے اہتمام کاطریقہ جوبتلایا گیا ہے اس کے مطابق اختیارکیاجائے ،فی زمانہ اس چیز کی ہمیں بے حد ضرورت ہے۔ تاکہ اﷲتعالی ہم سب کودارین میں کامیابی اور سرفرازی کے حصول کا بہترین موقع عنایت فرمائے۔
اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دُعاہے کہ ہم تمام مسلمانوںکو مخلصانہ التجاء کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمین۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT