Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / دکانداروں پر بھاری چالانات ، بلدیہ آمدنی بڑھانے کوشاں

دکانداروں پر بھاری چالانات ، بلدیہ آمدنی بڑھانے کوشاں

پرانے شہر کے متعدد دکانات کو بناء نوٹس کے چالانات کی اجرائی ، غریب تاجر اصل نشانہ

حیدرآباد۔10جنوری(سیاست نیوز) پرانے شہر کے دکانداروں کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بھاری چالانات کے ذریعہ بلدیہ کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پولیس کی نگرانی میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے پرانے شہر کے علاقہ لاڈبازار اور محبوب چوک کے تاجرین کو ایک مرتبہ پھر سے بغیر کسی نوٹس کی اجرائی کے 3000 روپئے کے چالانات جاری کئے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ دکاندار اپنی ملگی کی حد سے باہر نکل کر کاروبار انجام دے رہے ہیں۔ پرانے شہر کے تاجرین کو ہراساں کرنے والے بلدی عہدیداروں کو یہ چھوٹے تاجرین نظر آرہے ہیں جو معمولی کاروبار کرتے ہوئے اپنا گذر بسر کرتے ہیں لیکن ان سرکردہ تجارتی اداروں اور ریستوراں کے متعلق بلدیہ کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے جو باضابطہ سڑک پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور پارکنگ کی عدم موجودگی کے باوجود من مانی انداز میں کاروبار چلا رہے ہیں۔ جن دکانداروں کو بلدیہ کی جانب سے پولیس کے توسط سے جو چالان جاری کئے گئے ہیں ان کے متعلق تاجرین کا کہناہے کہ انہیں اس سلسلہ میں کوئی نوٹس نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں یہ بتایاگیا ہے کہ وہ اپنے مقام سے آگے بڑھ کر کاروبار کر رہے ہیں۔ منتخبہ عوامی نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بلدیہ کے پاس ترقیاتی بجٹ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے غریب تاجرین کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد کے بیشتر تجارتی علاقو ںمیں بلدیہ نے تجارتی اداروں کو ملگی کے باہر کاروبار کرنے اور فٹ پاتھ پر تجارت کرنے کی پاداش میں بھاری چالانات کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اور سابق میں کئے گئے اقدامات کی طرح چالان کی ادائیگی میں ناکام تاجرین کو جیل بھیجنے کی حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے تاکہ بلدیہ کی آمدنی میں اضافہ کو یقینی بنایا جا سکے۔تشکیل تلنگانہ کے بعد سے حکومت نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو ترقیاتی بجٹ کی اجرائی میں کوتاہی کی ہے بلکہ بلدیہ کی آمدنی کو آر ٹی سی کے حوالہ کرتے ہوئے اسے مزید کم کردیا ہے جس کی وجہ سے جی ایچ ایم سی مالیاتی خسارہ سے دوچار ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ شہر میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کیلئے بلدیہ کو حکومت سے فنڈز حاصل کرنے چاہئے لیکن عوام کو ہراساں کرتے ہوئے بلدیہ ترقیاتی اقدامات کے دعوے کرتی ہے تو یہ عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔ لاڈبازار اور محبوب چوک کے تاجرین کو چالانات حوالہ کرنے والے پولیس عہدیداروں سے جب نوٹس کے متعلق استفسار کیا گیا تو پولیس عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ انہیں اس سلسلہ میں کوئی معلومات نہیں ہیں بلکہ نوٹس کی اجرائی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ذمہ داری ہے اور بلدی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ چالان کرنے سے قبل عوام اور تاجرین میں شعور بیداری مہم چلاتے ہوئے انہیں فٹ پاتھ یا سڑک کا استعمال نہ کرنے کی تاکید کریں ۔ مقامی تاجرین کا کہناہے کہ ان کے اس علاقہ میں فٹ پاتھ ہیں کہاں ؟ جن پر قبضہ کا الزام مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے عائد کرتے ہوئے چالان کئے جا رہے ہیں؟محکمہ پولیس اور بلدیہ کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے متعلق کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو ماہ کے دوران شہر کے دیگر علاقو ںمیں بھی یہ مہم چلائی جائے گی اور چالان کی گئی دکانوں کے مالکین کی جانب چالان ادائیگی کے موقع پر ان سے جائیداد ٹیکس کے بقایا جاتا کے متعلق بھی دریافت کرتے ہوئے نوٹسوں کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT