Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / دکن میں صوفیائے کرام کی مذہبی، اخلاقی اور روحانی تعلیمات ناقابل فراموش

دکن میں صوفیائے کرام کی مذہبی، اخلاقی اور روحانی تعلیمات ناقابل فراموش

عثمانیہ یونیورسٹی شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں پروفیسر سلیمان صدیقی کا توسیعی لکچر

عثمانیہ یونیورسٹی شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں پروفیسر سلیمان صدیقی کا توسیعی لکچر
حیدرآباد ۔ 7 فبروری (سیاست نیوز) سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر محمد سلیمان صدیقی نے کہا کہ دکن میں سلسلہ جنیدی سے تعلق رکھنے والے صوفیائے کرام نے مذہبی، اخلاقی اور روحانی تعلیمات عوام میں عام کرنے کیلئے جس قدر محنت و مشقت کے ساتھ اپنی خدمات کو انجام دیا تھا اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ پروفیسر محمد سلیمان صدیقی آج شعبہ اسلامیات (اسلامک اسٹڈیز) عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے 50 سال کی تکمیل پر منائی جانے والی گولڈن جوبلی تقاریب کے سلسلہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے زیراہتمام نیو سمینار ہال آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی میں منعقدہ بعنوان ’’دکن میں تصوف جنیدی سلسلہ سے متعلق ایک نادر مخطوطہ کی دریافت‘‘ پہلے توسیعی لکچر کو مخاطب کررہے تھے۔ پروفیسر محمد سلیمان صدیقی جو مذکورہ شعبہ کے پہلے فارغ التحصیل گرائجویٹ ہیں، نے مخاطب کرتے ہوئے دکن میں تصوف کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے لیکر جنوب کے مختلف مقامات سے سلسلہ جنیدی کے صوفیائے کرام کی آمد اور ساحلی مشرقی اور مغربی علاقوں میں صوفیائے کرام کی آمد، سکونت، خانقاہی نظام اور چشتی، قادری، نقشبندی اور سہروردی سلسلوں سے وابستہ اہم صوفیائے کرام کی حیات، تعلیمات اور ان کی تعلیمات سے عوام پر ہونے والے اخلاقی، مذہبی، روحانی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے سلسلہ جنیدی سے متعلق ریسرچ کرتے ہوئے انہوں نے اصل فارسی زبان سے انگریزی زبان میں ترجمہ کرکے کتاب کی شکل میں ایک نایاب و نادر شجرہ (مخطوطہ) کی دریافت کیا ہے جو منظرعام پر آچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سلسلہ جنیدی سے متعلق مخطوطہ کی دریافت کے دوران پاور پوائنٹ کے ذریعہ کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر محمد سلیمان صدیقی نے ان کی جانب سے دریافت کئے گئے شجرہ (مخطوطہ) کو اپنے لکچر کے دوران پاور پوائنٹ پر مبنی شجرہ کو پروجیکٹر پر سامعین کو دکھایا۔ آخر میں پروفیسر سلیمان صدیقی نے سوالات کے سیشن کے دوران لکچر میں موجود مختلف مرد و خواتین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے دکن میں تصوف اور جنیدی سلسلہ سے متعلق تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے دلچسپی رکھنے والے محققین کو مفید مشوروں سے نوازنے کا پیشکش کیا۔ قبل ازیں اس موقع پر پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز و ڈائرکٹر مائناریٹی سیل عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر سید حامد اور ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر عائشہ محمود فاروقی نے بھی مخاطب کیا۔ پرنسپل آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر ٹی کرشنا راؤ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر محمد شہاب الطاف نے شکریہ ادا کیا۔ جلسہ کے آغاز سے قبل پروفیسر محمد سلیمان صدیقی اور پروفیسر ٹی کرشنا راؤ نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی گولڈن جوبلی تقاریب کے آغاز پر کیک کاٹ کر افتتاح کیا ۔سال 2015ء کے اختتام تک تقاریب کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس موقع پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز سے وابستہ اسکالرس اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT