Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / دکن کالج آف میڈیکل سائنسیس کی نشستوں میں اضافہ کی درخواست مسترد

دکن کالج آف میڈیکل سائنسیس کی نشستوں میں اضافہ کی درخواست مسترد

کالج کے معائنہ کے دوران کئی کوتاہیوں اور خامیوں کا پتہ چلایا گیا : میڈیکل کونسل آف انڈیا
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : میڈیکل کونسل آف انڈیا نے دکن کالج آف میڈیکل سائنس (DCMS) کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں کالج کی موجودہ 150 نشستوں کو بڑھاکر 200 کردینے کی استدعا کی گئی تھی ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے ڈی سی ایم ایس کی درخواست مسترد کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی جائزہ ٹیم نے کالج کے معائنے کے دوران کئی کوتاہیوں اور خامیوں کا پتہ چلایا ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جائزہ ٹیم نے معائنہ کے دوران پایا کہ اس میڈیکل کالج میں ایم سی آئی کے مقرر کئی قواعد پر عمل آوری میں کئی ایک کوتاہیاں کی گئی ہیں ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا نے نہ صرف نشستوں میں اضافہ سے متعلق کالج انتظامیہ کی درخواست مسترد کردی بلکہ یہ پوچھنے کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اس کے موجودہ کورسس کو تسلیم کرنے سے دستبرداری کی جانی چاہئے ۔ ایم سی آئی کو ایک درخواست دکن کالج آف میڈیکل سائنس چلانے والے ٹرسٹ کی جانب سے بھیجی گئی تھی ۔ یہ ٹرسٹ ایم آئی ایم لیڈر اکبر الدین اویسی کی قیادت میں کام کرتا ہے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ سال 2016-17 سیشن کے لیے نشستوں کی موجودہ تعداد 150 کو بڑھا کر 200 کردیا جائے ۔ اس سلسلہ میں ایم سی آئی کی جائزہ ٹیم نے 21 اور 22 جنوری کو کالج کا معائنہ کرتے ہوئے میڈیکل کونسل آف انڈیا کو اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کالج چلانے میں برتی گئی کوتاہیوں پر روشنی ڈالی گئی ۔ جائزہ ٹیم نے میڈیکل کونسل آف انڈیا کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کونسل نے فیکلٹی اور مختلف طبی شعبوں کے لیے جو قواعد و ضوابط مقرر کر رکھے ہیں ان کی تعمیل نہیں کی جارہی ہے ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے اپنا اجلاس منعقد کرتے ہوئے جائزہ کمیٹی کی رپورٹ پر غور و خوص کیا اور پھر دکن کالج آف میڈیکل سائنس کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے کہا درخواست گذار کالج نئے یا اعلیٰ تعلیمی کورسیس شروع کرنے ( کھولنے ) یا ٹریننگ ( بشمول پوسٹ گریجویٹ کورس آف اسٹڈی یا ٹریننگ ) کا اہل ہونے کی کسوٹی یا پیمانوں پر نہیں اترتا ایسے میں وہ ( کالج ) کسی بھی کورس آف اسٹڈی یا ٹریننگ میں داخلوں کی گنجائش میں اضافہ کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ اس ضمن میں ایم سی آئی کے مقررہ پیمانوں 6(axii) ، 6(axiii) اور 6(a)(iv) کے باضابطہ حوالے دئیے گئے ۔ جائزہ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں میڈیکل کونسل آف انڈیا کو بتایا کہ دکن کالج آف سائنس میں OPD ( آوٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ ) میں مریضوں کی تعداد ، بستروں کے حصول ، اور یونیٹری کیمپس مقررہ ضوابط کے مطابق نہیں ہیں ۔ ایسے میں کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی ( مجلس عاملہ ) نے این ٹی آر یونیورسٹی آف ہیلت سائنس اور انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1956 کی دفعہ 10A کے تحت سال 2016-17 کے لیے نشستوں میں اضافہ سے متعلق دکن کالج آف میڈیکل سائنس چلانے والے ٹرسٹ کی ایم بی بی ایس نشستوں میں اضافہ سے متعلق درخواست واپس کرتی ہے ۔ ویسے بھی اس ایکٹ کی دفعہ 10A کے قواعد و ضوابط کے تحت درخواست کو آئندہ تعلیمی سال تک التواء میں رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے چنانچہ اس نے میڈیکل کالج کے قیام سے متعلق قواعد ( ترمیمی ) ایکٹ 2010 کی شق 8(3)(1)(c) کے تحت اسے حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نوٹس وجہ نمائی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی ٹیم نے دکن کالج آف میڈیکل سائنسس میں جن کوتاہیوں اور خامیوں کی بناء پر اس کی موجودہ نشستوں میں اضافہ نہ کرنے اور نوٹس وجہ نمائی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ان میں فیکلٹی میں برتی گئی کوتاہی یا خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس معاملہ میں 26-34 فیصد کوتاہی درج کی گئی اسی طرح کالج کے ہاسپٹل میں مریضوں کی جو تعداد مقرر کی گئی اس میں 59-29 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ ٹیچنگ ہاسپٹل ایک نہیں ہے یعنی ایک مقام پر ہی کام نہیں کررہے ہیں بلکہ دو ہاسپٹل ہیں ایک اصل کیمپس اور دوسرا پرنسس اسریٰ ہاسپٹل ، اصل کیمپس میں صرف 509 بستر پائے گئے ۔ حالانکہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس کیمپس میں 960 بستر ہونے چاہئے ۔ شعبہ آوٹ پیشنٹ میں 2000 مریض رہنے چاہئے لیکن دکن کالج آف میڈیکل سائنس کے ہاسپٹل میں صرف 1205 آوٹ پیشنٹ دیکھے گئے ۔ جن دنوں کالج اور ٹیچنگ ہاسپٹل کا معائنہ کیا گیا اس وقت صرف 22.09 فیصد بستروں پر مریض تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مابقی بستر مریضوں سے خالی تھے ۔ اس کے علاوہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جائزہ ٹیم نے جو رپورٹ پیش کی اس میں بتایا گیا کہ شعبہ آوٹ پیشنٹ کے رجسٹریشن کاونٹرس بھی ناکافی تھے ۔ مریضوں کے طبی معائنوں کے لیے ضروری کمرے بھی بہت کم رکھے گئے حالانکہ اس مقصد کے لیے درکار کمروں کے بارے میں میڈیکل کونسل آف انڈیا نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے حد تو یہ ہے کہ انجکشن روم بھی مرد و خواتین کے لیے مشترکہ رکھا گیا ۔ دوسری طرف چھوٹے آپریشن تھیٹر اس کالج / ہاسپٹل میں دستیاب نہیں ہیں ۔ ہاسپٹل کی وارڈس بھی قواعد کے مطابق نہیں تھے ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں میڈیکل کونسل آف انڈیا کے ان قواعد و ضوابط کا بھی حوالہ دیا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی ادارہ کے ریگولر معائنہ کے دوران تدریسی فیکلٹی اور / یا مریضوں کی تعداد سے متعلق 10 فیصد سے زیادہ خامیاں پائی جائیں یا ہاسپٹل کے 80 فیصد بستر سے کم بستر مریضوں سے پر رہیں تو پھر اس تعلیمی سال میں پوسٹ گریجویٹ کورسیس شروع کرنے کے لیے دی گئی درخواستوں کو ناقابل عنصر تصور کیا جائے گا ۔ بہر حال جب اس بارے میں ربط پیدا کیا گیا تب دکن کالج آف میڈیکل سائنس کے ایک سینئیر عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کرتے ہوئے بتایا کہ ہم تمام نقائص ، کوتاہیوں اور خامیوں کو سدھارنے کے عمل سے گذر رہے ہیں ۔ ڈی سی ایم ایس کے پرنسپل اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا کہنا تھا کہ صرف دکن کالج آف میڈیکل سائنس کے منیجنگ ڈائرکٹر مسٹر اکبر الدین اویسی ہی اس مسئلہ پر اظہار خیال کے مجاز ہیں ۔۔( بشکریہ : دکن کرانیکل )

TOPPOPULARRECENT