Thursday , January 18 2018
Home / ہندوستان / دھابولکر کے قاتل آج بھی آزاد، پولیس کے خلاف احتجاجی مارچ

دھابولکر کے قاتل آج بھی آزاد، پولیس کے خلاف احتجاجی مارچ

پونے ۔ 20 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) پونے کی سڑکوں پر آج مخالف توہم پرستی ارکان نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جہاں انہوں نے مخالف توہم پرستی لیڈر آنجہانی نریندر دھابولکر کو زبردست حراج عقیدت پیش کیا اور پولیس کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایک سال گزر جانے کے بعد بھی پولیس نریندر جی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے، ل

پونے ۔ 20 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) پونے کی سڑکوں پر آج مخالف توہم پرستی ارکان نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جہاں انہوں نے مخالف توہم پرستی لیڈر آنجہانی نریندر دھابولکر کو زبردست حراج عقیدت پیش کیا اور پولیس کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایک سال گزر جانے کے بعد بھی پولیس نریندر جی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے، لہذا قاتلوں کو عاجلانہ طور پر گرفتار کیا جائے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 20 اگست کو جب نریندر دھابولکر صبح کی چہل قدمی کے لئے شہر کے ایک پل کے پاس سے گزر رہے تھے تو نامعلوم قاتلوں نے ان پر گولی چلاکر ان کا قتل کردیا تھا جس سے ان کے سماجی کاز کو زبردست دھکا پہنچا تھا۔ آنجہانی دھابولکر کی اندھا شردھا نرمولن سمیتی (اے این ایس) نامی ایک این جی او تھی جس کے ذریعہ وہ توہم پرستی کے خاتمہ کیلئے کوشاں تھے ۔

احتجاجی مظاہرہ میں اے این ایس ارکان کے ساتھ دیگر این جی اوز کے ارکان بھی شامل ہوگئے جن میں بالی ووڈ ایکٹر نصیرالدین شاہ کا نام قابل ذکر ہے ۔ احتجاجی مارچ کا آغاز اومکریشور بریج سے کیا گیا جہاں ایک سال قبل قاتلوں کی گولی کا نشانہ بنتے ہوئے دھابولکر نے آخری سانس لی تھی ۔ حالانکہ حکومت مہاراشٹرا نے گزشتہ سال مخالف توہم پرستی اور کالا جادو قانون پاس کیا تھا جس کیلئے دھابولکر نے اپنی پوری زندگی جدوجہد میں گزاردی تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دھابولکر کے قاتلوں کا اب تک پولیس کو کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جسے قاتلوں کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد دھابولکر قتل معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT