Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دھرنا چوک کی بحالی کے لیے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا اعلان

دھرنا چوک کی بحالی کے لیے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا اعلان

پرامن احتجاج پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت ، صدر تلنگانہ پی سی سی اتم کمار ریڈی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر پر سادہ لباس پولیس اور ٹی آر ایس کے غنڈوں کی مقامی عوام کے نام پر فرضی ٹیم تیار کرتے ہوئے دھرنا چوک کی بحالی کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں پر حملے کرانے کا الزام عائد کیا ہے اور پولیس لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی ۔ صدر نشین تلنگانہ جے اے سی پروفیسر کودنڈا رام اور کمیونسٹ جماعتوں کی جانب سے آج چلو دھرنا چوک پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا جس کی کانگریس نے بھر پور تائید کی ۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی جیون ریڈی ، ڈی کے ارونا ، رام موہن ریڈی ، ومشی چندریڈی سابق وزیر مسز سنیتا لکشما ریڈی سابق ارکان پارلیمنٹ ایم انجن کمار یادو ، پی ملو روی جنرل سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ، ایس کے افضل الدین ، سید عظمت اللہ حسینی ترجمان ، سید نظام الدین صدر گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل کے علاوہ دوسرے قائدین گاندھی بھون سے دھرنا چوک پہونچکر احتجاج کرنے والوں سے اظہار یگانگت کیا اور دھرنا چوک کی بحالی تک احتجاج کو کانگریس کی جانب سے مکمل تائید کرنے کا اعلان کیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے حکومت نے سرکاری غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ پولیس عوام کی محافظ ہوتی ہے ۔ تاہم سادہ لباس میں موجود پولیس ملازمین خود کو مقامی عوام اور واکر اسوسی ایشن ظاہر کرتے ہوئے دھرنا چوک کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کے ہاتھوں میں بیانرس پوسٹرس تھما دئیے ساتھ ہی ٹی ار ایس کے قائدین بھی شامل ہو کر پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہ صرف مشتعل کیا بلکہ ان پر حملہ کردیا ۔ جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ پولیس نے فرضی مقامی اور فرضی واکر اسوسی ایشن کا لبادہ اڑھنے والوں کی تائید کرتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے والوں کو ہی لاٹھی چارج کرتے ہوئے نشانہ بنایا ۔ پولیس اور ٹی آر ایس غنڈوں کے احتجاج میں کئی پرامن احتجاجی زخمی ہوگئے ۔ اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ چلو دھرنا چوک کا ہفتہ 10 دن قبل ہی اعلان کردیا گیا تھا ابھی تک دھرنا چوک پر احتجاج کی اجازت نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی پولیس نے اچانک مقامی قائدین اور واکر اسوسی ایشن کو دھرنا چوک منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے کی اجازت دے دی ۔ وہاں بڑے پیمانے پر شامیانے ڈالے گئے اور کرسیاں بچھائی گئی تھی ۔ حکومت ایک منظم سازش کے تحت ٹکراؤ کی پالیسی تیار کی تھی اور فرضی لوگوں سے احتجاجیوں کا مقابلہ کرانے کا ماحول تیار کرلیا گیا تھا اور احتجاجیوں پر فرضی مقامی عوام اور پولیس کے ذریعہ حملہ کرایا گیا جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے حکومت مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے بتایا کہ مقامی رکن اسمبلی ڈاکٹر لکشمن نے انہیں بتایا کہ دھرنا چوک سے مقامی عوام کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ وہ خود اس مسئلہ پر مقامی عوام سے بات چیت کرچکے ہیں ۔ دھرنے ، احتجاج عوام کے دستوری حقوق ہیں لیکن چیف منسٹر کے سی آر اس سے خوفزدہ ہے اور ایک منظم سازش کے تحت دھرنا چوک کو شہر سے دور منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT