Monday , December 11 2017
Home / اداریہ / دھرنا چوک

دھرنا چوک

ہجر میں ملنے شبِ ماہ کے غم آئے ہیں
چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے
دھرنا چوک
حکمراں طاقت جب عوامی مسائل سے اپوزیشن کی توجہ ہٹاکر اپنا منشا و مقصد پورا کرنے پر اُتر آتی ہے تو مختلف حربے اختیار کرتی ہے ۔ حیدرآباد کے اندرا پارک پر دھرنا چوک کو ہٹادینے کاحربہ بھی اسی منصوبہ کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔ اب اس دھرنا چوک کی منتقلی کو لیکر اپوزیشن کا شوروغل احتجاج نے حکمراں طاقت کے منصوبہ کو کامیاب بنانے میں مدد کی ہے کیوں کہ ساری اپوزیشن طاقت اس ایک مسئلہ پر باہم متصادم نظر آرہی ہے ۔ موافق دھرنا چوک منتقلی گروپ اور مخالف گروپ کے درمیان تصادم کی وجہ کیا ہے ؟ حکومت جب اس دھرنا چوک کے مقام پر اپوزیشن یا کسی اور تنظیم کے احتجاج کو پسند نہیں کررہی ہے تو اس کامطلب واضح ہے کہ حکومت اس عوامی احتجاجی پلیٹ فارم یا عوامی آواز کا سہارا بننے والے سیاسی و سماجی گروپس کی آواز کو کچلنا چاہتی ہے ۔ اندرا پارک کے قریب واقع دھرنا چوک گزشتہ کئی بر س سے سیای پارٹیوں اور مختلف تنظیموں کے لئے جمہوری طریقہ سے احتجاج کرنے کا اہم مقام بن گیا تھا ۔ خود حکمراں پارٹی تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی تلنگانہ تحریک کے لئے بھی اسی دھرنا چوک کو اہمیت حاصل تھی ۔ بظاہر یہی حکمراں پارٹی اس دھرنا چوک سے خائف نظر آرہی ہے ۔ اپنی حکومت میں وہ کسی بھی عوامی احتجاج کوبرداشت کرنا نہیں چاہتی ، اس لئے اس نے دھرنا چوک کو شہر کے مضافات منتقل کردیا تھا ۔ حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف عدالت میں درخواست بھی داخل کی گئی اور عدالت میں یہ معاملہ زیرسماعت ہے ۔ دھرنا چوک کی منتقلی سے اپوزیشن اور دیگر تنظیموں کی احتجاجی مصروفیت بھی متاثر رہی ہے ۔ سماجی مسائل ، حکومت کی ناکامیوں ، خرابیوں اور سرکاری محکموں کی زیادتیوں کے خلاف آواز اُٹھانے کیلئے ایک مخصوص مقام مختص کیا گیا تھا۔ دھرنا چوک کو بھی پیشرو ریاستی نظم و نسق نے عوامی مسائل کو جمہوری طرز پر حکومت کے سامنے پیش کرنے اور احتجاج منظم کرنے کا مقام بنایا گیا تھا اور اسی مقام سے گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی جماعتیں ، تنظیمیں پرامن احتجاج ، ریالیاں اور دھرنوں کا اہتمام کررہی تھیں۔ اس مقام پر دن بہ دن ہجوم بڑھتا گیا اور اندرا پارک کا علاقہ اطراف و اکناف کی گنجان آبادی کی وجہ سے مصروف ترین علاقہ بن گیا جس کی وجہ سے دھرنا چوک یہاں رہنے والوں کے علاوہ اس راستے سے گذرنے والوں کے لئے بھی ایک مستقل شوروغل او ر رکاوٹوں کاباعث بننے لگا تھا ۔ مقامی افراد کے علاوہ صبح کے وقت چہل قدمی کرنے والوں ، اسپورٹس سے دلچسپی رکھنے والوں نے ان کے روزمرہ کے مشغلوں میں رکاوٹ بننے والے دھرنا چوک کو منتقل کرنے کا مطالبہ شروع کیا تھا ۔ جب ٹی آر ایس حکومت نے محسوس کیا کہ یہ دھرنا چوک ایک دن اس کے لئے بھی مسئلہ بن سکتا ہے تو اس نے اسے مضافات میں منتقل کردیا ۔ اندرا پارک کو احتجاجی زون سے پاک بنانے کی خاطر یہاں امتناعی احکامات بھی جاری کئے گئے لیکن عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کا نتیجہ اکثر تصادم کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔ حکومت اپوزیشن سے باہم متصادم نظر آرہی ہے ۔ پیر کے دن اپوزیشن کے اس احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے طاقت کا استعمال کرنے کی شکایت ایک جمہوری حکومت کیلئے مناسب نہیں ہے۔ دھرنا چوک کو جوں کاتوں برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اپوزیشن جماعتیں زیادہ متحرک ہوئی ہیں۔ جے اے سی نے اس دھرنا چوک کی منتقلی کی شدید مخالفت کی ہے ۔ پروفیسر کودنڈا رام کی قیادت میں جے اے سی نے اس دھرنا چوک کے سہارے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو ایک سیاسی استحکام بخشنے میں مدد کی تھی اب جبکہ حکومت نے اس دھرنا چوک کو منتقل کرکے مقامی افراد کی حمایت میں اپنے فیصلہ کو روبہ عمل لایا ہے تو یہ فیصلہ واپس لینے میں اسے پس و پیش ضرور ہوگا ۔ احتجاجی قائدین نے اس دھرنا چوک کو بحال کرنے کا مطالبہ شروع کرتے ہوئے حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے تو اس پر نرمی کے ساتھ غور کرنے کی ضروت تھی لیکن احتجاجیوں نے شکایت کی کہ حکومت نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے موافق حکومت کارکنوں کو تصادم کے لئے چھوڑ دیا تھا ،جس کے نتیجہ میں دونوں گروپس کے ارکان نے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا ۔ اندرا پارک اس شہر کا مرکزی مقام مانا جاتا ہے جہاں سیر و تفریح کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں ۔ صبح کے وقت چہل قدمی کے علاوہ اطراف و اکناف میں بڑھتی آبادی کیلئے بھی یہ ایک کھلا پرسکون مقام ہے مگر سیاسی جماعتوں اور حکومت کی سرپرستی میں یہ مقام دھرنوں کا مرکز بنتا گیا ۔ پرسوں سے اس مقام کو دھرنوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بعد اچانک ٹی آر ایس حکومت نے اس کو منتقل کرکے ایک طرح سے عوامی مسائل کو جہوری طرز پر اُٹھانے کی کوششوں پر روک لگادیا ہے تو اس پر احتجاج تو ہوگا ہی ۔ اس سلسلہ کو طاقت کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی ۔ اس طرح احتجاجی کوششوں میں بھی اپوزیشن کا منحرف ہونا بھی حکومت کے فیصلہ کو مضبوط بناتا ہے ۔دھرنا چوک کے بارے میں اصل اپوزیشن کا موقف اور احتجاج کا زور سرد پڑتا دیکھ کر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اپوزیشن کانگریس نے دھرنا چوک کو اہمیت نہیں دی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT