Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / دھمکیاں بیکار، ترقی کیلئے ہند۔پاک مذاکرات ضروری

دھمکیاں بیکار، ترقی کیلئے ہند۔پاک مذاکرات ضروری

جنگ کی باتیں ترک کرنے اور دوستی کی زبان اپنانے کا مشورہ: فاروق عبداللہ

سرینگر ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ ’’جنگی خطوط‘‘ ترک کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعہ تمام مسائل حل کریں۔ انہوں نے اصرار کے ساتھ کہا کہ کوئی بھی ملک دونوں کے درمیان دوستی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے بانی صدر اور اپنے والد شیخ عبداللہ کی 33 ویں برسی کے موقع پر فاتحہ خوانی کے بعد مقبرہ کے قریب پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہر طرف جنگ کا ماحول ہے۔ وہاں (پاکستان) سے دھمکیاں آرہی تھیں کہ وہ (پاکستان) تیار ہیں۔ لیکن کون مرے گا؟۔ یہاں کا ایک غریب کشمیری اور وہاں کا ایک غریب کشمیری۔ اور کیا ہوگا؟۔ کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کچھ نہیں بدلے گا بلکہ ہم ہی مریں گے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں دونوں ملکوں سے درخواست کرتا ہوں۔ ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنگی خطوط ترک کریں اور مذاکرات کے ذریعہ مسائل کے حل کی کوشش کریں‘‘۔

ان کے یہ تبصرہ دراصل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے ان ریمارکس کے پیش نظر کئے گئے ہیں جن میں انہوں (شریف) نے کشمیر کو ایک غیرمختتم ایجنڈہ قرار دیا تھا۔ راحیل شریف نے یہ وارننگ بھی دی تھی کہ دشمن کی کسی قلیل یا طویل مدتی غلط فوجی مہم جوئی کی صورت میں ناقابل برداشت نقصان کا سامنا کرنا ہوگا۔ قبل ازیں ہندوستانی فوج کے سربراہ نے گذشتہ ہفتہ کہا تھا کہ مستقبل میں مختصر اور تیز رفتار نوعیت کی جنگوں کیلئے ہندوستانی فوج تیار ہے۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ دوستی کے ذریعہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم صرف بات چیت کے ذریعہ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہم آج تک بھی دھمکیوں کے ذریعہ آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔ ایسی دھمکیوں سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اٹل بہاری واجپائی جب وزیراعظم تھے (شمالی کشمیر کے) کارنا محاذ پر گئے تھے۔ میں جو ان کے ساتھ تھا جہاں انہوں (واجپائی) نے تقریر کی تھی اور پاکستانی عوام سماعت کررہے تھے۔ واجپائی نے کہا تھا کہ دوست بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے‘‘۔ فاروق عبداللہ نے علحدگی پسند کشمیری قائدین سے کہا کہ ’’آپ اپنے دوستوں سے کہا کہ جنگ کی باتیں ترک کردیں اور اس کے بجائے دوستی کی زبان بولنے کی کوشش کریں‘‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاستی پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت پر جموں و کشمیر کے مابین پھوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے جموں میں ڈوکرا سرٹیفکیٹس کی بحالی کی مذمت کی۔

TOPPOPULARRECENT