Thursday , August 16 2018
Home / کھیل کی خبریں / دھونی ایک مرتبہ ناکام ہوجائے تو نکتہ چینی اور میں ناکام ہوجاؤں تو۔۔

دھونی ایک مرتبہ ناکام ہوجائے تو نکتہ چینی اور میں ناکام ہوجاؤں تو۔۔

 

سابق کپتان کی مکمل حمایت اور عوام پر کوہلی برہم

تروننتاپورم۔8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے سابق کپتان اور موجودہ وقت میں ٹیم کے وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر طریقے سے ٹیم میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔36 سالہ دھونی نے راجکوٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹوئنٹی 20 میچ میں37 گیندوں پر 49 رنزکی اننگز کھیلی تھی۔ ہندوستان کو اس میچ میں40 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کے بعد دھونی نقادوں کے نشانے پر آ گئے ۔کوہلی نے یہاں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی ٹوئنٹی20 سیریز میں کامیابی کے بعدکہاسب سے پہلے تو میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ لوگ دھونی پر تنقید کیوں کررہے ہیں؟ اگر میں تین مرتبہ بیٹنگ میں ناکام ہو جاؤں گا تو مجھ پر کوئی انگلي نہیں اٹھائے گا کیونکہ میری عمر ابھی 35 سے زیادہ نہیں ہوئی ہے ۔دھونی مکمل طور پر فٹ ہیں اور تمام طرح کے فٹنس ٹسٹ کو کامیاب کر رہے ہیں۔ وہ ہر طرح سے ٹیم میں اپنا تعاون دے رہے ہیں ۔ دھونی نے نیوزی لینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ تیسرے اور فیصلہ کن ٹوئنٹی20 میچ میں بہترین کردار ادا کیا تھا۔ ہندوستان نے اس میچ کو چھ رنز سے جیت کر نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی ٹوئنٹی 20 سیریز 2-1 سے اپنے نام کی۔کپتان کوہلی نے کہا دھونی مکمل فٹ ہیں اور وکٹ کے پیچھے بھی شاندار کام کررہے ہیں۔ اگر آپ سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز کو دیکھیں تو انہوں نے بیٹنگ اور وکٹ کے پیچھے شاندار کام کیا ہے ۔اس سیریز میں انہیں بیٹنگ کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ دھونی جس نمبر پر بیٹنگ کرنے اتے ہیں اس پر نقاد اکثر سوال کرتے ہیں ۔ وہ زیادہ تر پانچ اور چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں ، اس سے انہیں پچ پر جمنے کے لیے کم وقت ملتا ہے ۔ کوہلی کا خیال ہے دھونی پر نکتہ چینی کرنا صحیح نہیں ہے ،آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جس نمبر پر وہ بیٹنگ کے لئے آتے ہیں وہاں رنز بنانا آسان نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ اس سیریز میں ہاردک پانڈیا بھی اپنی فارم حاصل نہیں کرسکے ہیں۔تو ہم صرف ایک ہی کھلاڑی کو تنقید کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں۔ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ جب نئی گیند سے بولنگ ہورہی ہو اور آپ کے شروع کے چار کھلاڑی آوٹ ہوچکے ہوں تو بیٹنگ میں الگ طرح کا دباؤ ہوتا ہے ۔ اس دوران رنز بنانا آسان نہیں ہوتا ہے ۔کپتان کوہلی نے مزید کہا کہ دہلی میں جب انہوں نے چھکا لگایا تھا تو میچ کے بعد اسے پانچ مرتبہ دکھایا گیا تھا۔ ہر کوئی خوش تھا۔ لیکن جب انہوں نے ایک میچ میں اسکور نہیں کیا تو لوگ ان پر تنقید کرنے لگے ۔ میرے خیال سے لوگوں کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔دھونی ایک شاندار اور ذہینکرکٹر ہیں۔فیصلہ کن ٹوئنٹی 20 مقابلے میں آخری اوور ہاردیک پانڈیا کو دینے کا دفاع کرتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ ہمیں آل راؤنڈر کے سلو کٹرس پر مکمل بھروسہ تھا اور یہ صحیح بھی ثابت ہوئے ۔

 

TOPPOPULARRECENT