دھونی نہیں پٹوڈی جیسا جارحانہ کپتان چاہئے:امرناتھ

نئی دہلی ۔ 19 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی امرناتھ نے آج کہا ہے کہ مہیندر سنگھ دھونی کو قیادت سے ہٹانے کا وقت آچکا ہے کیونکہ ان کی ’’دفاعی طرز رسائی‘‘ کی وجہ سے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بیرون ممالک ناقص مظاہروں کا سلسلہ نہیں ٹوٹ رہا ہے۔ امرناتھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی بھاشا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ک

نئی دہلی ۔ 19 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی امرناتھ نے آج کہا ہے کہ مہیندر سنگھ دھونی کو قیادت سے ہٹانے کا وقت آچکا ہے کیونکہ ان کی ’’دفاعی طرز رسائی‘‘ کی وجہ سے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بیرون ممالک ناقص مظاہروں کا سلسلہ نہیں ٹوٹ رہا ہے۔ امرناتھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی بھاشا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دھونی ایک دفاعی کپتان ہے جو حریف ٹیم کو مقابلہ میں واپسی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں گھریلو میدانوں پر دھونی کا ریـکارڈ دیگر کپتانوں کی طرح بہتر ہے، جس میں کوئی خاص بات نہیں۔ ہمیںمنصور علی خاں پٹوڈی جیسا ایک جارحانہ کپتان چاہئے جو بیرونی سرزمین پر مقابلوں میں ٹیم کو کامیابی دلواسکے۔ ہندوستانی ٹیم بیرونی ممالک میں مسلسل ٹسٹ سیریزوں میں ناکام ہورہی ہے جیسا کہ 2011 ء میں اسے انگلینڈ کے خلاف 0-4 کی شکست برداشت کرنی پڑی

جس کے بعد 2011-12 ء میں جب ہندوستانی ٹیم نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا تو وہاں اسے 0-4 کی شکست برداشت کرنی پڑی تھیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ کے دوران جنوبی افریقہ اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹسٹ مقابلوں کی سیریزوں میں ہندوستان کو 0-1 کی شکست برداشت کرنی پڑی۔ ہندوستان نے آخری مرتبہ جون 2011 ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میں ٹسٹ مقابلہ اپنے نام کیا تھا جس کے بعد 23 مقابلے ہندوستانی ٹیم نے دھونی کی قیادت میں کھیلے جہاں ٹیم کو صرف 5 فتوحات حاصل ہوئی جبکہ 11 مقابلوں میں اسے ناکامی برداشت کرنی پڑی۔ 1983 ء میں ہندوستانی ٹیم کو عالمی چمپین بنانے والے کھلاڑیوں میں شامل امرناتھ نے مزید کہا کہ کپتان کو مثالی قائد بننا پڑتا ہے جبکہ دنیا کا کوئی واحد کپتان ایسا نہیں جو نمبر 7 پر بیٹنگ کرتا ہے اور دھونی نہ جانے کس طرح کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ میں دیانتداری سے کہہ سکتا ہوں کہ اب وقت آچکا ہے کہ دھونی کو ٹسٹ ٹیم کی قیادت سے علحدہ کردیا جائے کیونکہ وہ ونڈے میں ٹیم کیلئے کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

دھونی کے جانشین کے متعلق پوچھے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے امرناتھ نے کہا کہ ویراٹ کوہلی قیادت کیلئے موزوں انتخاب ہوں گے۔ حالانکہ گوتم گمبھیر بھی قیادت کیلئے بہتر کھلاڑی ضروری ہے۔ تاہم وہ ٹیم کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے قیادت کی دوڑ سے ہی باہر ہیں۔ امرناتھ نے ٹیم کے کوچ ڈنکن فلیچر کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے انتخاب کے باوجود وہ متوقع نتائج دینے میں ناکام ہے۔ امرناتھ کے بموجب جب کوچ نتائج فراہم کرنے میں ناکام ہے تو پھر ان کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ ہندوستانی ٹیم کو مقامی کوچ کی ضرورت ہے۔ بیٹسمینوں کی ناکامی پر اظہار خیال کرتے ہوئے امرناتھ نے کہا کہ ناقص تکنیک اور پریکٹس مقابلوں کے فقدان کی وجہ سے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہمارے مظاہرے انتہائی ناقص رہے۔

TOPPOPULARRECENT