Tuesday , June 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / دھونی کی جانب سے متنازعہ فیصلہ کا دفاع

دھونی کی جانب سے متنازعہ فیصلہ کا دفاع

نیپر 20 ؍ جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) نیوزی لینڈ کے خلاف یہاں نیپر میں منعقدہ پہلے ونڈے میں ہندستان ٹیم کو شکست برادشت کرنی پڑی ہے اور میک لین پارک کی وکٹ جس پر اسپنرس کے لئے کوئی سازگار حالات نہیں تھے اس کے باوجود 4 فاسٹ بولروں کی بجائے ہندوستانی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے اپنی صف میں 2 اسپنرس روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ کو شامل کی

نیپر 20 ؍ جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) نیوزی لینڈ کے خلاف یہاں نیپر میں منعقدہ پہلے ونڈے میں ہندستان ٹیم کو شکست برادشت کرنی پڑی ہے اور میک لین پارک کی وکٹ جس پر اسپنرس کے لئے کوئی سازگار حالات نہیں تھے اس کے باوجود 4 فاسٹ بولروں کی بجائے ہندوستانی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے اپنی صف میں 2 اسپنرس روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ کو شامل کیا ۔ اشون نے 51 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کی جبکہ جڈیجہ نے 9 اوورس میں 61 رنز دیئے ۔ اسپنرس کے لئے غیر موزوں وکٹ پر 2 اسپنرس کو شامل کئے جانے کے فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جس کے باوجود دھونی نے اپنے اس متنازعہ فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب کبھی 4 فاسٹ بولروں کے ساتھ میدان سنبھالتے ہیں تو 2 نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔

اول کپتان پابندی کا شکار ہوتا ہے یا دوسرا ہم مقابلہ میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔ دھونی کے بموجب اسپنرس نے بہتر مظاہرہ کیا ہے تاہم وہ وکٹس حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ کپتان دھونی نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا ہے برصغیر کے برعکس جب ہندوستانی ٹیم بیرون ممالک میں کرکٹ کھیلتی ہے تو اسپنرس کا رول تبدیل ہوجاتا ہے ۔ دھونی کے بموجب گذشتہ 6 ماہ کے دوران ٹیم کا بولنگ شعبہ بہتر مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ بیٹنگ شعبہ نے ٹیم کی فتوحات میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ پہلے ونڈے میں سنچری اسکور کرنے والے ساتھی کھلاڑی ویراٹ کوہلی کی دھونی نے کافی ستائش کی ۔

TOPPOPULARRECENT