Thursday , June 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / دھونی کی قیادت پر سوالیہ نشان، کپتان ہنوز پرعزم

دھونی کی قیادت پر سوالیہ نشان، کپتان ہنوز پرعزم

ولنگٹن ۔ 19 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بیرونی ممالک ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے مظاہرے بد سے بدترین ہورہے ہیں، جس کے بعد ٹیم کے کپتان مہیندر سنگھ دھونی کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، اس کے باوجود مثبت نظر آرہے مہیندر سنگھ دھونی ٹیم کے مظاہروں سے مطمئن اور بہتر مظاہرے کیلئے پرعزم ہیں۔ ہندوستانی ٹیم نے دورہ نیوزی لینڈ کا مایوس کن اختتام کیا

ولنگٹن ۔ 19 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) بیرونی ممالک ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے مظاہرے بد سے بدترین ہورہے ہیں، جس کے بعد ٹیم کے کپتان مہیندر سنگھ دھونی کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، اس کے باوجود مثبت نظر آرہے مہیندر سنگھ دھونی ٹیم کے مظاہروں سے مطمئن اور بہتر مظاہرے کیلئے پرعزم ہیں۔ ہندوستانی ٹیم نے دورہ نیوزی لینڈ کا مایوس کن اختتام کیا ہے۔ جیسا کہ ولنگٹن ٹسٹ کو ڈرا کرنے کے علاوہ اسے ونڈے اور ٹسٹ سیریز میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ہندوستانی ٹیم نے ٹسٹ سیریز میں 0-1 اور اس سے قبل پانچ مقابلوں کی ونڈے سیریز 0-4 کی ناکامی برداشت کی ہے۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران ہندوستانی ٹیم اپنی پہلی کامیابی کے تعاقب میں ہے کیونکہ جنوبی افریقہ کے خلاف کئے گئے دورے میں ہندوستانی ٹیم کو ونڈے مقابلوں کی سیریز میں 0-2 اور ٹسٹ سیریز میں 1-0 کی شکست برداشت کرنی پڑی تھی۔ ہندوستانی ٹیم نے آخری مرتبہ بین الاقوامی مقابلہ نومبر کے آخری ہفتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کانپور میں اپنے نام کیا تھا۔ اور اگر بیرونی ممالک ٹسٹ میں کامیابی کا تذکرہ کیا جائے تو 2011 ء کے موسم گرما میں ہندوستانی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی کنگسٹن میں منعقدہ ٹسٹ میں کامیابی حاصل کی تھیں۔ مذکورہ کامیابی کے بعد ہندوستانی ٹیم نے 14 ٹسٹ مقابلے بیرونی سرزمینوں پر کھیلے ہیں جس میں ویسٹ انڈیز ، انگلینڈ ، آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی سیریزیں شامل ہیں

اور ان تمام ممالک کے دوروں پر ہندوستان نے ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ ان تمام ناقص مظاہروں کی وجہ سے دھونی بیرون ممالک ہندوستانی مظاہروں کے ریکارڈ کے معاملہ میں ٹیم کے بدترین کپتان ثابت ہوئے ہیں، جیسا کہ انہوں نے ملک سے باہر 23 مقابلوں میں ہندوستان کی قیادت کی ہے جس میں 11 ناکامیاں ٹیم کو برداشت کرنی پڑی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کے بعد جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اکثر نتائج کے برعکس طرز رسائی پر سوال کیا جاتا ہے اور اگر آپ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف منعقدہ مقابلوں کی 8-0 کی ناکامیوں سے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی سیریز کا موازنہ کریں تو ٹیم کے مظاہروں میں بہتری ہوئی ہے۔

مذکورہ 8-0 کی ناکامی برداشت کرنے والی ٹیم میں کپتان دھونی ، ظہیر خان، ایشانت شرما ، روی چندرن اشون اور ویراٹ کوہلی موجودہ ٹیم کا بھی حصہ ہے جبکہ انہوں نے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے ٹورس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے خلاف سچن تنڈولکر ، راہول ڈراویڈ اور وی وی ایس لکشمن کے بغیر ایک نئی ٹیم نے ٹسٹ سیریز کھیلی ہے جبکہ ٹیم کو ہربھجن سنگھ ، ویریندر سہواگ ، گوتم گمبھیر اور یوراج سنگھ کے تجربات بھی حاصل نہیں تھے۔ ٹیم سینئر سے جونیئرس اور نئے کھلاڑیوں میں تبدیل ہورہی ہے۔ دھونی نے مزید کہا کہ اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیم کے مظاہروں میں بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جنہوں نے جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی مرتبہ بیرونی سیریز کھیلی ہے۔

TOPPOPULARRECENT