Saturday , December 15 2018

دھوکہ دہی میں ملوث وقف بورڈ کا ملازم برطرف، صدرنشین کی ہدایت پر سی ای او کی کارروائی

حیدرآباد۔7۔ فروری (سیاست نیوز) وقف بورڈ کے اس عارضی ملازم کو خدمات سے علحدہ کردیا گیا جس پر حج والینٹرکی حیثیت سے بھیجنے کیلئے 60 ہزار روپئے کے غبن کا الزام ہے۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے عبدالجبار نامی شخص نے صدرنشین حج کمیٹی مسیح اللہ خاں اور اگزیکیٹیو آفیسر پروفیسر ایس اے شکور سے شکایت کی تھی کہ وقف بورڈ کے ملازم ناصر نے گزشتہ سال حج کے موقع پر حج والینٹر کی حیثیت سے بھیجنے کا وعدہ کرتے ہوئے 60 ہزار روپئے اور پاسپورٹ حاصل کرلیا۔ ابھی تک نہ ہی رقم واپس کی گئی اور نہ پاسپورٹ۔ اس سلسلہ میں بارہا توجہ دہانی کے باوجود مذکورہ ملازم رقم واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ حج کمیٹی کے ذمہ داروں نے شکایت کنندہ پر واضح کردیا کہ کمیٹی کی جانب سے والینٹرس کی روانگی کا کوئی نظم نہیں ہے اور مذکورہ شخص حج کمیٹی کا ملازم نہیں ہے۔ لہذا درخواست گزار پولیس میں شکایت کرسکتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے سیکوریٹی پر تعینات آوٹ سورسنگ کے مذکورہ ملازم کی خدمات برخواست کرنے کی ہدایت دی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے بتایا کہ ناصر وقف بورڈ کا ملازم نہیں ہے۔ وہ سیکوریٹی میں عارضی طور پر خدمات انجام دے رہا تھا ۔ اس کی غیر قانونی سرگرمیوں سے وقف بورڈ کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کسی بھی قانونی کارروائی کیلئے آزاد ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس طرح کے معاملات میں وقف بورڈ کے ملازمین ملوث ہوتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حج سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی حج ہاؤز میں بروکرس کی سرگرمیاں تیز ہوجاتی ہیں۔ حج والینٹرس یا پھر خادم الحجاج کی حیثیت سے بھیجنے کا لالچ دیتے ہوئے بھاری رقومات کا مطالبہ کیاجاتا ہے اور بعض افراد بآسانی نشانہ بن جاتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار جن کا نام قرعہ اندازی میں نہیں آیا ، ان کو ویٹنگ لسٹ میں شامل کرنے کا لالچ دے کر بعض بروکرس رقومات کی مانگ کر رہے ہیں۔ تلنگانہ حج کمیٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے بروکرس کا شکار نہ ہوں اور اس کی اطلاع حج کمیٹی کے ذمہ داروں کو دی جائے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT