Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / دھوکہ دینے حکومت کی تیاری ‘ حلیف کی مجرمانہ خاموشی

دھوکہ دینے حکومت کی تیاری ‘ حلیف کی مجرمانہ خاموشی

اسمبلی میں قرارداد کی منظوری پرمسلمانوںکو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا دعویٰ مضحکہ خیز : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے حکومت پر تحفظات کے سلسلہ میں مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے ساتھ مذاق کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کے سی آر حکومت نے پھر ایک مرتبہ دھوکہ دہی کی تیاری کرلی ہے۔ بی سی اور ایس ٹی کمیشنوں کی رپورٹ کی بنیاد پر تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی تیاریوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے ، وہ دستور اور قانون میں مروجہ قواعد کے برخلاف ہے۔ سابق میں مسلم تحفظات کیلئے وائی ایس آر حکومت کو عدالت میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، اس سے سبق حاصل کرکے کے سی آر کو چاہئے تھا کہ وہ قانونی رکاوٹوں کا پاک طریقہ کار کو اپناتے۔ برخلاف اسکے انہوں نے صرف اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کو سب کچھ سمجھ لیا ہے ۔ قرارداد کی منظوری کے ذریعہ تحفظات کی فراہمی کا دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے اور کوئی عام مسلمان بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ صرف اسمبلی کی قرارداد سے 12 فیصد تحفظات حاصل ہوجائینگے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جان بوجھ کر اس غلطی کو دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں مسلمانوں کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا جاسکے کہ انہوں نے تحفظات کا مسئلہ مرکز سے رجوع کردیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تحفظات کی مخالف پارٹی جب مرکز میں برسر اقتدار ہو تو پھر مسلم تحفظات کی تائید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل میں چندر شیکھر راؤ سنجیدہ نہیں ہیں اور انکے دعوے صرف کاغذی بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے مسئلہ پر اسمبلی میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ کل جماعتی اجلاس طلب کرتی تاکہ اپوزیشن جماعتیں مفید مشوروں سے نوازتیں ۔ اس کے علاوہ ماہرین قانون و دستور سے بھی حکومت نے مشاورت کو ضروری نہیں سمجھا ہے ۔ محمد علی شبیر نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ مسلم تحفظات کے مخالف وکیل آج بھی حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل کے عہدہ پر فائز ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کے سی آر نے رام کرشنا ریڈی کو اہم عہدہ پر برقرار رکھا ۔ رام کرشنا ریڈی سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات کے مقدمہ میں آج بھی مخالف فریق کی حیثیت سے موجود ہیں۔ انہوں نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کے سی آر حکومت کی جلد بازی پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی حلیف مقامی سیاسی جماعت نے بھی اس سلسلہ میں مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ یہ جماعت ایک طرف مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے حکومت کی تائید کر رہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمان اور درج فہرست قبائل آزادی کے بعد سے ہی ہر شعبہ میں پسماندہ ہیں اور صرف تیقنات کے ذریعہ ان کی ترقی کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ پسماندگی کا خیال کرتے ہوئے کانگریس حکومت نے 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جس سے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں آج بھی فائدہ حاصل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کیلئے حکومت نے جو بجٹ مختص کیا ، اس میں 30 فیصد بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ یہ اقلیتی بہبود کے بارے میں حکومت کی سنجیدگی کو بے نقاب کرتا ہے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ تحفظات کے مسئلہ پر ماہرین قانون سولی سراب جی ، کے پراسرن اور فالی ایس نریمن سے مشاورت کرے۔

TOPPOPULARRECENT