Wednesday , January 24 2018
Home / مضامین / دہشت گردوں سے مذاکرات لٹک گئے

دہشت گردوں سے مذاکرات لٹک گئے

محمود شام، کراچی (پاکستان)

محمود شام، کراچی (پاکستان)

پورا ملک غمزدہ ہے۔ طالبان نے مذاکرات کے عین درمیان پہلے کراچی میں انتہائی تربیت یافتہ پولیس والوں کو ہلاک کیا پھر اس ہفتے مہمند کے قبائلی علاقے میں گرفتار فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی گردنیں کاٹ کر اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔ یہ اتنا بھیانک واقعہ تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس کی بھر پور مذمت کی گئی۔ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ بھارت کے پاس ہمارے نوے ہزار فوجی قیدی تھے۔ اس دشمن نے بھی کسی کی گردن نہیں کاٹی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والے بتائیں کہ ایسی خوفناک وارداتیں کیا شرع کے مطابق ہیں۔ طالبان کی طرف سے قتل وغارت گری جاری رہنے کے باعث عوام کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے کا دباؤ بڑھنے لگا تھا۔

طالبان کے ظالمانہ رویوںکی وجہ سے وہ حلقے بھی کھلم کھلا بات چیت کو لا حاصل قرار دینے لگے، جو مذاکرات کے حق میں تھے۔ عوام کی اکثریت تو یہ سمجھتی تھی اور اب بھی اسی مؤقف پرقائم ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف تو سخت کارروائی ہونی چاہئے ان کو جڑوں سمیت اکھاڑ دینا چاہئے نہ کہ انہیں حکومت کے برابر مرتبہ دے دیا جائے۔ ان کی کمیٹی کو آنے جانے کے لئے اسی فوج کو ہیلی کاپٹردینے پر مجبور کیا جائے۔ جس کے جوان شہید کئے جارہے ہیں۔ اس ہفتے وزیر اعظم میاں نواز شریف طالبان کی وارداتوں سے شدید زخمی ہونے والے فوجیوں کی عیادت کے لئے گئے۔ آرمی چیف بھی ہمراہ تھے۔ زخمی فوجیوں نے وزیر اعظم سے بہت سخت لہجے میں باتیں کیں۔ ان میں سے اکثر میاں صاحب کی جھلک دیکھتے ہی پھٹ پڑے۔ طالبان کے لئے ان کی نرم پالیسی پر احتجاج کیا۔ اس واقعے کی زیادہ تشہیر رکوانے میں حکومت کامیاب ہوگئی۔ چینلوں نے بھی اسے اہمیت نہیں دی۔ حالانکہ اس واقعے سے فوج کے موڈ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

کہا یہی جارہا ہے کہ فوج اپنے طور پر مارچ کے آخر میں آپریشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔ حقیقت پسندانہ سوچ رکھنے والے پہلے سے یہ کہہ رہے تھے کہ طالبان صرف وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم کر لیں۔ آپس کے اختلافات اور گروپنگ کو ختم کرلیں اور پھر مقابلے کے لئے تیاریاں بھی کر لیں۔ ایف سی کے اہلکاروں کی گردنیںکاٹنے کے عمل کی تو کسی پارٹی یا کسی حلقے کی جانب سے حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔ اس طرح وقتی طور پر تو طالبان تنہا رہ گئے ہیں۔ طالبان کمیٹی سب سے زیادہ پریشان ہے۔ ان کے ایک رکن اور جماعت اسلامی کے بزرگ رہنما نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ حکومت اور طالبان دونوں میں سے کسی ایک کی بات قبول یا رد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یقینی طور پر طالبان اس وقت عوام کی نظروں میں معتبر نہیں ہیں لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ طالبان کو عین مذاکرات کے دوران ایسی بہیمانہ کارروائیاں کرنے پر کس نے مجبور کیا ہے۔ ان کے سرپرست کون ہیں۔ بعض واقفان حال کا مشورہ یہ ہے کہ طالبان کے غیر ملکی سرپرستوں سے پہلے یقین دہانیاںحاصل کی جائیں۔ تب مذاکرات کامیاب ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

کراچی میں دہشت گردوں کا نشانہ بننے والی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے تمام پارٹیوں سے ہٹ کر مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے بیانات پر پابندی عائد کی جائے میڈیا مالکان پر زور دیا ہے کہ جب آپ کے دفتروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ کارکنوںکو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو آپ ایسی تنظیموں کی تشہیر بند کریں۔ اس ہفتے کراچی میں ایک چینل اور ایک اخبار کے دفاتر پر بم پھینکے گئے۔ خیریت رہی کہ کسی کی جان نہیںگئی اور مالی نقصان بھی اتنا نہیں ہوا۔ یہ ایک وارننگ تھی۔ مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ مارچ کا مہینہ ملک کے لئے فیصلہ کن ہوگا۔ وہ اس سلسلے میں ایک کل جماعتی کانفرنس بھی بلارہے ہیں ۔گزشتہ کل جماعتی کانفرنس کے ہونے کے بعد سے اب تک دہشت گردی کے واقعات میں 467 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں 308 شہری 114 فوجی 45 پو لیس و الے بتائے گئے ہیں۔

ایک سرکاری رپورٹ میں اسلام آباد کو انتہائی خطرناک شہر قرار دیا گیا ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ اس شہر میں القاعدہ تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی تینوںکی بھرپور موجودگی ہے۔ وزیر اطلاعات کی طرف سے طالبان کے خلاف سخت بیانات آنے شروع ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ کسی کو فوج کی صلاحیتوں پر شک نہیں ہونا چاہئے اب عام لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نواز شریف حکومت کی طالبان پالیسی بدل رہی ہے یا وقتی طور پر ایف سی کی شہادتوں پر سرکار کے خلاف غصے کا رخ تبدیل کرنے کے لئے یہ لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ بعض با خبر حلقے بہت آگے کی سوچ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں طالبان کے مسئلے پر نواز حکومت اور فوج میں اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ آج کے دور میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنا تو ممکن نہیں ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم سے استعفا لے لیا جائے ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعظم منتخب کیا جائے۔ میاں صاحب بھی اس کے لئے آمادہ ہو سکتے ہیں کہ اس طرح انہیں چوتھی بار وزیراعظم بننے کا موقع مل سکے گا ان کو ایک حلقے میں یہ حمایت حاصل ہوگی کہ انہوں نے اپنا موقف ترک نہیں کیا اقتدار چھوڑ دیا یہ آپشن اگرچہ قبل ازوقت لگتا ہے، لیکن پاکستان میں کسی وقت کچھ بھی ہوسکتاہے۔امن نہ ہونے کی وجہ سے معیشت کا حال بہت خراب ہے ۔وزیر اعظم سے توقع تھی کہ صنعتکار اور تاجر برادری ان سے خوش ہوگی لیکن ان کی شکایتیں بڑھ رہی ہیں۔
[email protected]
صرف ایس ایم ایس کیلئے:
92-3317806800

TOPPOPULARRECENT