Wednesday , December 19 2018

دہشت گردوں کیخلاف بیک وقت دھاوے کا منصوبہ

ڈھاکہ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسیس سرحد کی دونوں طرف مسلم دہشت گرد کے ٹھکانوں پر بیک وقت دھاوے کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سرگرم دہشت گرد تنظیموں و کارکنوں کی فہرست کا بھی تبادلہ کیا ہے۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے چار رکنی وفد کا

ڈھاکہ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسیس سرحد کی دونوں طرف مسلم دہشت گرد کے ٹھکانوں پر بیک وقت دھاوے کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سرگرم دہشت گرد تنظیموں و کارکنوں کی فہرست کا بھی تبادلہ کیا ہے۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے چار رکنی وفد کا دورہ آج اختتام کو پہونچا اور ایک سینئر بنگلہ دیشی پولیس عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ایک اہم پہلو ہے کہ ہم نے بیک وقت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے دہشت گردوں کو کوئی ٹھکانہ نہیں ملے گا اور وہ فرار نہیں ہوپائیں گے۔ این آئی اے نے گزشتہ ہفتہ بردوان دھماکے کی تحقیقات کے حصہ کے طور پر یہ دورہ کیا ہے

کیونکہ یہ دھماکہ مبینہ طور پر جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) نے کیا ہے۔ اس عہدیدار نے بتایا کہ دہشت گردوں کو بنگلہ دیش۔ ہندوستانی سرحد کے علاقہ محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہورہی ہیں چنانچہ دونوں ممالک نے یہاں سکیورٹی کارروائی میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔این آئی اے اور بنگلہ دیش کی ایلیٹ انسداد جرائم ریاپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) نے جے ایم بی کارکنوں اور مسلم دہشت گردوں کی فہرست کا تبادلہ کیا جو سمجھا جاتا ہے کہ دونوں ممالک میں چھپے ہوئے ہیں۔ دورہ کنندہ این آئی اے وفد نے ڈھاکہ میں سینئر وزارت داخلہ عہدیداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں سے ملاقاتیں کیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ این آئی اے کی ٹیم نے جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل شرد کمار کررہے ہیں، بردوان دھماکوں کے 11 مشتبہ افراد کی فہرست حوالے کی،

یہ تمام 11 افراد بردوان دھماکوں کے سلسلے میں مطلوب ترین ہندوستانی شہری ہیں۔ دوسری طرف آر اے بی نے 51 پناہ گزیں بنگلہ دیشیوں کی فہرست حوالے کی جن میں 10 جے ایم بی کارکن اور دیگر حرکت الجہادالاسلامی ارکان کے علاوہ چند سرغنے شامل ہیں۔ بنگلہ دیش نے حال ہی میں 6 رکنی ٹیم تشکیل دی ہے، جو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے کام کرے گی اور این آئی اے کی تحقیقات میں تعاون کرے گی۔ اس سے پہلے پولیس ترجمان نے کہا تھا کہ دونوں فہرستوں میں جے ایم بی ارکان کے بعض مشترکہ نام ہیں لیکن ان کی تنقیح کی جانی باقی ہے ، کیونکہ دہشت گرد اپنی شناخت مخفی رکھنے کے لئے اکثر مختلف نام استعمال کرتے ہیں، تاہم پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ پناہ گزیں دہشت گردوں کی تعداد 260 ہے جو سرحدی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ جے ایم بی کے بارے میں انٹلیجنس اطلاعات کے تبادلے سے اتفاق کرتا ہے۔ یہ تنظیم مبینہ طور پر مغربی بنگال کے بردوان میں 2 اکتوبر کو ہوئے دھماکے کیلئے ذمہ دار ہے۔ این آئی اے ٹیم نے یہ دورہ ایسے وقت کیا جبکہ جاریہ ماہ پولیس نے جے ایم بی بردوان دھماکہ کا منصوبہ تیار کرنے والے ساجد رحمت اللہ کو گرفتار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنگلہ دیشی شہری ہے۔ دوسری طرف آر اے بی نے ان کے بھائی کو گرفتار کیا جن کی محمد منعیم کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔ بردوان دھماکہ میں دو مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور ان کی دونوں بیویوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جنہیں سمجھا جاتا ہے کہ جے ایم بی نے ٹریننگ دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT