Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / دہشت گردوں کی نعشوں کو ورثے کے حوالے کرنے خلاف مرکز پر قانون بنانے کے لئے زوردیاجارہا ہے۔

دہشت گردوں کی نعشوں کو ورثے کے حوالے کرنے خلاف مرکز پر قانون بنانے کے لئے زوردیاجارہا ہے۔

جموں اورکشمیر پولیس کے افسران نے بھی دہشت گردوں کی نعشیں ورثے کے حوالے کرنے کے بعد ان کی تدفین کے دوران علاقے میں ہونے والے تشدد کا حوالہ دیا ہے۔
جموں او رکشمیر۔سکیورٹی فورسس نے مرکز پر زوردیا ہے کہ جموں کشمیر میں انکاونٹر میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی نعشوں کو ان کے ورثے کے حوالے کرنے کے خلاف قانون بنایاجائے تاکہ ان کی تدفین میں شرکت میں لوگوں کو روکا جاسکے جہاں مقامی نوجوانوں کو عسکری سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لئے اکسایاجارہا ہے۔

عہدیداروں نے کہاکہ جموں اورکشمیر پولیس کے افسران نے بھی دہشت گردوں کی نعشیں ورثے کے حوالے کرنے کے بعد ان کی تدفین کے دوران علاقے میں ہونے والے تشدد کا حوالہ دیا ہے او رکہاکہ ایسے ہی حالات میں زیادہ نوجوانو ں کوہتھیار اٹھانے کاموقع مل رہا ہے۔

عہدیداروں نے اس کی وجہہ بتاتے ہوئے کہاکہ مرد اور عورتیں تدفین کے عمل میں شریک ہوتی ہیں اور اس کو جان بوجھ پر مختلف ہندوستان ریالیوں میں تبدیل کردیاجاتا ہے۔

نیم فوجی دستوں یا آرمی کے ہاتھوں بھی اگر کوئی دہشت گرد ہلاک ہوجاتا ہے کہ تو پولیس پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ضابطہ کی تکمیل کے بعد نعش ورثے کے حوالے کرے۔

وہیں مرکز نے اس پر ابھی کوئی فیصلہ لیں کیاہے‘ ذرائع کا اسبات کی طرف اشارہ ہے کہ قطعی فیصلہ ریاستی پولیس پر چھوڑ دیاجائے گا‘ جس کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیس در کیس کی بناء پر کیانعش متوفی دہشت گرد کے گھر والوں کے حوالے کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے۔

سمجھا جارہا ہے کہ انتظامیہ انکاونٹر میں ہلاک دہشت گردوں کو موقع واقعہ کے کسی قریب کے مقام پر دفنانے کاکام کریں گے۔

حال ہی میں جموں اور کشمیر پولیس نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے متعلق وادی اور ریاست میں ایک اسٹڈی کا انعقاد عمل میں لایاتھا ‘ جس میں یہ بات سامنے ائی ہے کہ نوجوانوں کی دہشت گردی میں شمولیت کا آخری مرحلہ اسوقت ہوتا ہے کہ جب ایک دہشت گرد کی نعش اس کے ورثے کا حوالے کردی جاتی ہے اور اس تدفین کے وقت اسکو ہیرو بناکر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔

مذکورہ رپورٹ حالیہ اسٹڈی کی بنیاد پر ہے جس میں’’سال2010سے 2015کے درمیان میں وادی کے 150مقامی نوجوانوں کی دہشت گردی میں شمولیت ‘‘ پر مشتمل ہے۔

ہوم منسٹری کے اعداد وشمار کے مطابق 75دہشت گرد جہاں اپریشن میں مارے گئے وہیں وادی میں جاریہ سال کے پہلے پانچ مہینوں میں65لوگوں نے عسکری تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 217دہشت گرد سکیورٹی فورسس کے ہاتھوں انکاونٹر میں مارے گئے ہیں۔سکیورٹی فورسس کے ساتھ انکاونٹر میں 2015میں108دہشت گرد مارے گئے اور 2016میں150دہشت گردوں کو مار گرایاگیا ہے‘ یہ وہی سال ہے جس میں حزب المجاہدین کے اہم کارکن برہانی وانی کو سکیورٹی فورسس نے ہلاک کردیاتھا‘ جس کے بعد وادی میں تازہ جھڑپیں شروع ہوگئے

TOPPOPULARRECENT