Monday , September 24 2018
Home / دنیا / دہشت گردوں کے حامی ممالک کے ساتھ اتحاد سے دلچسپی نہیں

دہشت گردوں کے حامی ممالک کے ساتھ اتحاد سے دلچسپی نہیں

بیروت 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام)شام کے صدر بشارالاسد نے آج یہاں شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے ملک کے بعض حصوں پر امریکہ کے زیر قیادت اتحاد کی جانب سے اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف کئے گئے فضائی حملوں کے بارے میں دمشق کو مطلع کیا گیا تھا۔ صدر بشار نے دمشق میں بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’بعض اوقات انہوں نے پیام دیا تھا۔

بیروت 10 فروری (سیاست ڈاٹ کام)شام کے صدر بشارالاسد نے آج یہاں شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے ملک کے بعض حصوں پر امریکہ کے زیر قیادت اتحاد کی جانب سے اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف کئے گئے فضائی حملوں کے بارے میں دمشق کو مطلع کیا گیا تھا۔ صدر بشار نے دمشق میں بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’بعض اوقات انہوں نے پیام دیا تھا۔ ایک عام پیام تھا‘‘۔ دمشق اگرچہ اپنے علاقوں میں 23 ستمبر سے داعش کے خلاف شروع کردہ اتحادی حملوں کو بادل نخواستہ قبول کررہا ہے لیکن اس سے رابطہ میں ناکامی کیلئے وقفہ وقفہ سے اتحادیوں کی مذمت بھی کرتا رہا ہے ۔ شام کا کہنا ہے کہ فضائی حملے اس وقت تک داعش کو شکست نہیں دے سکتے تاوقتیکہ زمینی کارروائیوں میں بین الاقوامی برادری شام سے تعاون نہ کرے ۔ تاہم واشنگٹن نے داعش کے خلاف کارروائیوں میں شام کے ساتھ کام کرنے کے امکانات کو مسترد کردیا ہے اور شام کے صدر نے بھی واضخ کردیا ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے سے دمشق کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ صدر بشارالاسد نے مزید کہا کہ ’’جی نہیں یقیناً ہر گز نہیں یہ ہماری مرضی نہیں ہے ۔ یہ ہم نہیں چاہتے ۔

جس کی ایک صاف سیدھی وجہ یہ ہے کہ ہم ایسے ممالک کے ساتھ کسی اتحاد میں شامل ہونا نہیں چاہتے جو دہشت گردی کی تائید کرتے ہیں‘‘ صدر بشار کا یہ تبصرہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے زیر قیادت اتحاد کی طرف سے شام کے اُن باغیوں کی مدد پر اپنا ناپسندیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے جو (باغی) اُن کی حکومت کو معزول کرنے کیلئے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔ صدر بشار نے اپنی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے و الے باغیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے ۔ شام کے صدر نے کہا کہ امریکی عہدیدار بڑی آسانی کے ساتھ بین الاقوامی قوانین سے تجاوز کرجاتے ہیں جو (قوانین) ہمارے اقتدار اعلی سے متعلق ہیں۔ وہ ہم سے بات نہیں کرتے اور ہم اُن سے بات نہیں کرتے‘‘۔ واضح رہے کہ مارچ 2011 میں شامی حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج شروع ہونے کے بعد تاحال 2,10,000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT