Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / دہشت گردوں کے درمیان امتیاز نہیں ہوسکتا، چین کو آگاہی

دہشت گردوں کے درمیان امتیاز نہیں ہوسکتا، چین کو آگاہی

پاک مقبوضہ کشمیر میں چینی دستوں کی موجودگی پر بھی ہندوستان کو تشویش ۔ وزیر دفاع پاریکر کا وطن واپسی پر بیان
نئی دہلی ، 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے چین کو ’’واضح طور پر‘‘ کہہ دیا ہے کہ دہشت گردوں میں کوئی بھیدبھاؤ نہیں ہوسکتا کیونکہ سب یکساں ہیں، وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج یہ بات کہی، جبکہ چند روز قبل بیجنگ نے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد نامزد کرانے کیلئے ہندوستان کی سعی کو روک دیا۔ پاریکر کا تبصرہ ایک روز بعد سامنے آیا ہے جبکہ وہ اپنے پانچ روزہ دورۂ چین سے یہاں واپس ہوئے ہیں، جس کے دوران انھوں نے پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں چینی دستوں کی موجودگی کے تعلق سے ہندوستان کی فکرمندی کا مسئلہ اٹھانے کے علاوہ کلیدی امور جیسے سرحدی مسائل اور دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز (ڈائریکٹر جنرلس آف ملٹری آپریشنس) کے درمیان ملٹری ہاٹ لائن کے قیام پر تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ ’’میں نے اُن پر نہایت واضح انداز میں ظاہر کردیا کہ دہشت گردوں میں تفریق نہیں کی جاسکتی ہے۔ تمام دہشت گرد ایک جیسے ہیں اور ان سے یکساں اصول کے ذریعے نمٹا جانا چاہئے، بشمول وہ مسئلہ جسے انھوں نے یو این میں روکا ہے۔ انھیں اس سے بھی یکساں انداز میں نمٹنا چاہئے۔‘‘ انھوں نے نشاندہی کی کہ وزیر امور خارجہ سشما سوراج نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ اپنی ملاقات میں زیادہ تفصیلی انداز میں یہ مسئلہ اٹھایا ہے۔ قبل ازیں اس ماہ کے اوائل چین نے اقوام متحدہ کی تحدیدات کمیٹی کو جیش محمد سربراہ اظہر کو دہشت گرد کے طور پر نامزد کرنے سے روکتے ہوئے دہرایا تھا کہ یہ کیس سلامتی کونسل کے ’’تقاضوں کی تکمیل نہیں کرتا‘‘ ہے۔

اریکر نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی فکرمندی کا چین پر واضح اور ٹھوس انداز میں اظہار کرنے سے احتراز نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’’یہ مسئلہ بھی چھیڑا گیا اور ہندوستان کی تشویش کو واضح انداز میں پیش کیا گیا۔ شاید پہلی مرتبہ اسے واضح اور ٹھوس طور پر اٹھایا گیا۔ بلاشبہ اُن کے پاس اپنا جواز ہے … ہم نے ہمارے مسائل اٹھانے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اس سفر کی سب سے زیادہ اہم باتیں مسلسل رابطے، تبادلوں اور دونوں ملکوں کے مسلح افواج کے درمیان زیادہ سے زیادہ بات چیت کیلئے مشترکہ فیصلہ ہے تاکہ کسی بھی ’’اَن چاہے، ناپسندیدہ‘‘ واقعہ پیش آنے کے امکانات گھٹادیئے جائیں۔ پاریکر نے کہا کہ یادداشت مفاہمت برائے دفاع جس پر مئی 2006ء میں دستخط کئے گئے۔ اس کے ’’بہتر‘‘ نمونے کا قطعیت دینے کیلئے تبادلہ کیا جارہا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا چین نے ہندوستان کے امریکہ کے ساتھ لاجسٹکس اگریمنٹ پر دستخط کے فیصلے کا مسئلہ اٹھایا، پاریکر نے کہا، ’’ہاں!‘‘ وزیر موصوف نے کہا: ’’انھوں نے اس کا ذکر کیا لیکن اس قدر شدت کے ساتھ نہیں جس طرح میڈیا کے بعض گوشے سوچ رہے ہیں۔ انھوں نے یقینا اس کا ذکر کیا اور ہم نہایت واضح رہے ہیں کہ ہندوستان کا اس کے بشمول مختلف بیرونی پالیسیوں پر موقف خودمختار نوعیت کا ہے اور ہندوستان یہ فیصلے ملک کے جنگی نقطہ نظر سے کلیدی اور سلامتی کے مفاد کی بنیاد پر کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT