Friday , June 22 2018
Home / دنیا / دہشت گردی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ : ہندوستان

دہشت گردی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ : ہندوستان

انٹر پارلیمنٹری یونین اس مسئلے کو اجاگر کرے، ہندوستان بدترین شکار ملک ، عالمی ادارہ میں سدیپ بندوپادھیائے کی تقریر

انٹر پارلیمنٹری یونین اس مسئلے کو اجاگر کرے، ہندوستان بدترین شکار ملک ، عالمی ادارہ میں سدیپ بندوپادھیائے کی تقریر
جنیوا ، 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی کو جمہوریت کیلئے ’’سب سے بڑا خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ وہ اس برائی کا بدترین متاثرہ ملک ہے اور یہاں جاری انٹر پارلیمنٹری یونین (آئی پی یو) کو اس لعنت سے درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرنا چاہئے۔ ’’دہشت گردی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور ہندوستان اس کا بدترین متاثرہ ملک رہا ہے … ٹوئن ٹاورس پر 9/11 حملوں کے بعد امریکی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف عالم گیر اپیل کی تھی اور ساری دنیا اس تعلق سے متفق ہوئی۔ لہذا آئی پی یو کو اس مسئلہ پر روشنی ڈالنا چاہئے جو ایک عالمی برائی ہے،‘‘ ترنمول کانگریس لیڈر سدیپ بندوپادھیائے نے یہاں 131 ویں آئی پی یو اسمبلی میں یہ بات کہی۔ وہ آئی پی یو کی جنرل اسمبلی میں مخاطب تھے، جو اس عالمی ادارہ کے اگلے صدر کو منتخب کرنے کا عمل شروع کررہی ہے، جس کیلئے بنگلہ دیش، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور مالدیپ کے پارلیمانی قائدین دوڑ میں ہیں۔ اپنے خطاب میں بندوپادھیائے نے جو اسپیکر سمترا مہاجن زیر قیادت ہندوستانی پارلیمانی وفد کا حصہ ہیں، نشاندہی کی کہ جمہوریت کیلئے دہشت گردی کا خطرہ اسپیکروں کی جانب سے اٹھایا نہیں گیا ہے اور اس لئے اس کو اجاگر کرنا چاہئے۔ اُن کی تقریر پر ردعمل میں تمام چاروں صدارتی امیدواروں نے کہا کہ وہ بندوپادھیائے کے استدلال سے متفق ہیں اور دنیا بھر میں جمہوری روایات اور نظام کے تحفظ اور حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام کے پابند عہد ہیں، ٹی ایم سی لیڈر نے یہ بات بتائی۔ آئی پی یو صدارتی چناؤ 16 اکٹوبر کو مقرر ہیں۔ پانچ روزہ اسمبلی جو یہاں اتوار کو شروع ہوئی، اس میں طئے شدہ پروگرام کے مطابق مختلف النوع موضوعات پر مباحث ہونے ہیں، جن میں مساوات جنس، خواتین کے خلاف
تشدد کے خاتمہ اور انسانی حقوق سے لے کر قومی اقتدار اعلیٰ اور مملکتوں کے داخلی امور میں عدم مداخلت سے متعلق عالمی قوانین جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ اسمبلی تجارت اور پائیدار ترقی پر بھی غوروخوض کرے گی، جبکہ امن اور بین الاقوامی سلامتی اور اقوام متحدہ امور کے بارے میں رپورٹس بھی پیش کی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT