Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی سے مشترکہ طورپر نمٹنے ہند۔ ایران عہد

دہشت گردی سے مشترکہ طورپر نمٹنے ہند۔ ایران عہد

The Prime Minister, Shri Narendra Modi and the President of Iran, Mr. Hassan Rouhani, during the joint Press Statement, in Tehran on May 23, 2016.

چباہار بندرگاہ کو فروغ ۔ مختلف شعبوں میں 12 معاہدات پر دستخط ۔ نریندر مودی اور حسن روحانی کی مشترکہ پریس کانفرنس
تہران ۔ 23 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور ایران نے آج دہشت گردی و انتہاپسندی کے مشترکہ طورپر مقابلہ کا عہد کیا ۔ دونوں ممالک نے 12 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں انتہائی اہمیت کے حامل چباہار بندرگاہ کا فروغ بھی شامل ہے ۔ ا س سے ایران کے مابعد تحدیدات دور میں معاشی پارٹنرشپ کو غیرمعمولی فروغ حاصل ہوگا ۔ ہندوستان نے ایران کے جنوبی ساحل میں واقع اس اہم ترین بندرگاہ کو فروغ دینے کیلئے 500 ملین ڈالرس کی رقم خرچ کرنے کا عہد کیا ہے۔ یہ ہندوستان ، افغانستان ، دولت مشترکہ کی آزاد مملکتوں اور مشرقی یوروپ کے مابین اہم رابطہ ہوگا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہم نے دہشت گردی ، انتہاپسندی ، منشیات اور سائبر کرام سے مشترکہ طورپر نمٹنے سے اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی اور سکیورٹی اداروں کے مابین علاقائی و بحری سکیورٹی اُمور میں بھی باہمی طورپر تعاون کیا جائے گا ۔ وزیراعظم نریندر مودی تقریباً 15 سال کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے وزیراعظم ہیں ۔ اُن سے قبل اٹل بہاری واجپائی نے یہاں کا دورہ کیا تھا ۔ انھوں نے صدر ایران حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا ۔ اُن کا یہ دورہ ایسے وقت ہورہا ہے جبکہ ایران کے مغربی ممالک کے ساتھ تاریخی نیوکلیئر معاملت کے بعد بین الاقوامی تحدیدات برخواست کردی گئی ہیں۔ حسن روحانی نے دہشت گردی کو ایک اہم اور بڑا مسئلہ قرار دیا جو اس علاقہ میں تیزی سے پنپ رہا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس مسئلہ پر نہ صرف تبادلۂ خیال کیا بلکہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے انٹلی جنس معلومات سے بھی اتفاق کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقہ اور بالخصوص افغانستان ، عراق ، شام اور یمن میں امن و استحکام اور سلامتی کو جو سنگین خطرہ لاحق ہے اس کی وجہ سے دہشت گردی یہاں کا ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے ۔ دونوں ممالک نے سیاسی موضوعات بھی تبادلۂ خیال کیااور ان امکانات کا جائزہ لیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے انٹلی جنس اطلاعات کے تبادلے میں وہ کس حد تک تعاون کرسکتے ہیں اور یہ کام سارے علاقہ میں امن و استحکام کیلئے کس قدر معاون ہوسکتا ہے۔ جہاں تک معاشی تعاون کا تعلق ہے چباہار بندرگاہ کے فروغ کے علاوہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں جیسے کریڈٹ ، کلچر ، سائنس اور ٹکنالوجی اور ریلویز میں معاہدوں پر دستخط کئے ۔ اس کے نتیجہ میں علاقہ میں معاشی ترقی کو ایک نئی جہت ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT