Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی سے نمٹنے ہند ۔ چین وزارتی نظام کی تجویز

دہشت گردی سے نمٹنے ہند ۔ چین وزارتی نظام کی تجویز

BEIJING, NOV 19:- India's Minister of Home Affairs Rajnath Singh (L) shakes hands with China's Premier Li Keqiang during a meeting at the Zhongnanhai Leadership Compound in Beijing, China, November 19, 2015. REUTERS/UNI PHOTO-14R

وزیراعظم اور وزیرداخلہ چین سے بات چیت مشترکہ باہمی تعاون میں اضافہ سے اتفاق
بیجنگ ۔ 19 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور چین نے آج ایک وزارتی سطح کا نظام جس کی قیادت دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کریں گے، قائم کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ یہ باہمی تعاون اور ہم آہنگی میں جو صیانت سے متعلق مسائل کے بارے میں ہے، دونوں ممالک کا پہلی بار باہمی تعلقات میں اضافہ ہے۔ سرحد پار سے دہشت گردی، اسمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنا بھی اس میں شامل ہے۔ وزارتی سطح کا نظام قائم کرنے سے اتفاق کا فیصلہ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے وزیراعظم چین لی کیقیانگ اور وزیرداخلہ گاو شنکون سے بات چیت کے دوران کیا گیا۔ اس نظام کے بعد ایک جامع یادداشت مفاہمت جس کا تعلق صیانتی مسائل سے ہوگا، تیار کی جائے گی۔ اس پر عمل آوری وزیرداخلہ چین کے آئندہ سال دورہ ہند کے موقع پر شروع ہوگی۔ راجناتھ سنگھ نے لی اور گاو سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی دہشت گردی، صیانتی اور نفاذ قانون سے متعلق مسائل، سرحد پار جرائم، سائبر جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تسلیم کیا ہیکہ دہشت گردی ایک مشترک حصہ ہے۔

یہ بین الاقوامی اور سرحدوں سے ماورا خطرہ ہے جس کا مشترکہ ردعمل ضروری ہے۔ دونوں ممالک کے اس فیصلہ سے دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کے باہمی تعاون میں اضافہ ہوگا۔ کسی بھی اعتبار سے دونوں ممالک نے ایک نئی باہمی دستاویز سے اتفاق کرلیا ہے جو دہشت گردی سے مقابلہ، صیانتی، سرحدپار جرائم اور متعلقہ مسائل سے ہوگا۔ وزارتی نظام جوائنٹ سکریٹری سطح کے دونوں ممالک کے عہدیداروں پر مشتمل ایک کمیٹی سے مدد حاصل کرے گا۔ راجناتھ سنگھ نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں مسلسل بہتری پر اظہار اطمینان کیا۔ صیانتی مسائل کے علاوہ دونوں ممالک کا نظام نمایاں طور پر سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردی سے متعلق معلومات میں ہندوستان اور چین دونوں کی شراکت داری سے بھی اتفاق کیا گیا ہے جو ایک مشترکہ ذریعہ پاکستان سے لاحق ہے۔ ہندوستان کو سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے جو پاکستان کی جانب سے کشمیر میں کی جاتی ہے۔ چین کو بھی ترکستان اسلامی تحریک ژن جیانگ سے کسی قسم کے مسئلہ کا سامنا ہے۔ یہ القاعدہ سے ملحق تنظیم ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک نے تربیت اور تعمیر صلاحیت برائے افواج میں باہمی تعاون میں توسیع سے بھی اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان نے چین کی اس تجویز کو قبول کرلیا ہیکہ دونوں ممالک کے تعاون میں اضافہ کی مشترکہ خواہش کے پیش نظر صیانت سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں تعاون میں اضافہ ہونا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے اپنی 40 منٹ طویل وزیراعظم چین سے بات چیت کے بارے میں کہا کہ انہوں نے سرحدی مسائل اور کسی بھی فوج کے بارے میں باہمی تعاون میں اضافہ سے اتفاق کرلیا گیا ہے۔ مشترکہ مدد سے ایک قومی یونیورسٹی برائے پولیسنگ و سیکوریٹی بھی ہندوستان میں قائم کی جائے گی۔ راجناتھ سنگھ کے دورہ چین کا آغاز آج صبح چین کی پولیسنگ یونیورسٹی کے دورہ سے ہوا جہاں 10 ہزار اساتذہ سیکوریٹی اور پولیسنگ کی تربیت دیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT