Friday , November 24 2017
Home / دنیا / دہشت گردی‘ عالم عرب اور ہندوستان کی مشترکہ دشمن

دہشت گردی‘ عالم عرب اور ہندوستان کی مشترکہ دشمن

مناما ۔7فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) مملکت بحرین اور ہندوستان زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے بہت تعاون و اشتراک کرتے ہیں فی الوقت بحرینی حکومت ملک میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور وہاں انتہا پسندی و دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے کی جارہی ناپاک کوششوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہے۔ بحرینی حکومت نے اپنے ملک میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کا ایران پر الزام عائد کیا ہے اس سلسلہ میں اس نے سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بانکی مون کو ایک شکایت بھی حوالے کی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کو بھی ہمیشہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ وقفہ وقفہ سے ہندوستان کے مختلف مقامات پر دہشت گردانہ حملے کئے جاتے ہیں حالانکہ ہندوستانی حکومت نے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے سرحد پار کے دہشت گردوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ برحال میں دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ ہو جائے۔ حال ہی میں ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بحرین کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں پرزور انداز میں کہا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ دہشت گردی دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

اس خطرہ کے خاتمہ کے لئے ہندوستان اور عالم عرب کو متحد ہونا چاہئے کیونکہ متحدہ طور پر ہی اس مشترکہ دشمن کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ سشما سوراج نے یہ بھی واضح کیا کہ آج جو لوگ اور ملک دہشت گردی کو بڑی خاموشی سے اسپانسر کررہے ہیں کل یہی دہشت گرد گروپ ان کے خاتمہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ سشما سوراج نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ سے یہ بھی کہا کہ جو لوگ یا ملک یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد گروپوں کی خاموش اسپانسرشپ یا سرپرستی سے انہیں فائدہ ہونے والا ہے وہ غلطی پر ہیں۔ آج وہ دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کررہے ہیں اور کل وہی دہشت گرد گروپ ان کے خاتمہ پر اثر آئیں گے۔ عرب ۔ ہندوستان تعاون فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوراج نے اس اجلاس کو عرب دنیا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں ایک نیا موڑ قرار دیا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے پرزور انداز میں یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا۔ اسے کسی مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے بلکہ دہشت گردی کی تائید کرنے پر دہشت گردی برپا کرنے والوں اور امن پسندوں کے درمیان ایسا ہی فرق ہے جس طرح انسانیت میں یقین رکھنے اور نہ رکھنے والوں میں پایا جاتا ہے۔ سشما سوراج کے مطابق دہشت گرد مذہب کا استعمال کرتے ہیں لیکن تمام مذاہب کے ماننے والے ان کا نشانہ ہوتے ہیں۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے ہندوستان کے کثرت میں وحدت کا ماڈل اور متنوع تہذیب کی مثال پیش کی اور کہا کہ ہندوستان میں پائی جانے والی کثرت میں وحدت کا ماڈل دہشت گرد اور انتہا پسندی کے انسداد کی ایک بہترین مثال ہے۔

TOPPOPULARRECENT