Monday , August 20 2018
Home / Top Stories / دہشت گردی پاکستان کی ’اسٹیٹ پالیسی‘، وینکیا نائیڈو کا الزام

دہشت گردی پاکستان کی ’اسٹیٹ پالیسی‘، وینکیا نائیڈو کا الزام

Venkaiah Naidu during the Parliament. Express photo by Renuka Puri

ہندوستان کسی دہشت گرد کو مذہب سے نہیں جوڑتا۔ دنیا میں پرامن بقائے باہم ہمارا نصب العین

نئی دہلی ۔ یکم ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے ایک پڑوسی نے دہشت گردی کو ’’مملکتی پالیسی‘‘ بنالی ہے اور دہشت گردوں کو تربیت، فنڈس اور تائید و حمایت فراہم کرتے ہوئے اُنھیں اِس ملک کو بھیج رہا ہے۔ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے آج یہ بات کہی۔ پاکستان کا نام لئے بغیر اُسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نائب صدر نے کہاکہ وہ دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ خلط ملط کررہا ہے اور عوام میں تفرقہ پیدا کررہا ہے۔ بارڈر سکیورٹی فورس کے 52 ویں یوم تاسیس کے موقع پر اُن کے کیمپ میں دستوں سے خطاب کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہاکہ ہندوستان کسی دہشت گرد کو کوئی مذہب کے شیشے سے نہیں دیکھتا اور اِس طرح کا کوئی بھی کرایہ کا جنگجو انسانیت کا دشمن ہوتا ہے۔ حکومت ہند کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی کئی کوششوں کے باوجود بعض لوگ مسائل پیدا کررہے ہیں۔ جن میں ہماری سرزمین میں دراندازی شامل ہے۔ اُنھوں نے پاکستان کا راست حوالہ دیئے بغیر کہاکہ یہ واقعی بدبختانہ اور قابل مذمت بات ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ایک پڑوسی نے دہشت گردوں کو ’اسٹیٹ پالیسی‘ بنالیا ہے اور اُس کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ دہشت گردوں کی مدد اور اعانت نیز تربیت کے ساتھ اُنھیں فنڈس فراہم کرتے ہوئے یہاں بھیجا جائے۔ اُنھوں نے بیان کیاکہ دشمن کو اپنی ناپاک سرگرمیوں پر کوئی ملال نہیں جبکہ ہندوستان کی سکیورٹی فورسیس اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں اور دہشت گردانہ کوششوں کو ناکام بناتے رہتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ متصل ہندوستانی سرحدوں کی مؤثر حفاظت میں بی ایس ایف کے رول کی ستائش کرتے ہوئے نائب صدر نے کہاکہ دہشت گردی کا خطرہ اور اس کے سنگین نتائج دنیا بھر میں محسوس کئے جارہے ہیں لیکن ہمارا پڑوسی ہنوز اُسی راہ پر گامزن ہے۔ وہ دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑ رہا ہے اور عوام میں انتشار پھیلا رہا ہے۔ نائب صدر نے مزید کہاکہ ہندوستان نے کبھی کسی قوم یا پڑوسی پر بدنگاہی نہیں ڈالی اور ہمیشہ امن کا حامی رہا، یہ اِس لئے کہ ہماری روایت کی وجہ سے ہے کہ دنیا ایک فیملی کے مترادف ہے اور سب کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ تمام انسانوں کی بہبود ہمارا مطمح نظر ہے، یہی ہمارا فلسفہ اور ہمارا دھرم ہے۔ اِسی پر ہمارا ایقان ہے اور اسی پر ہم عمل کرتے ہیں۔ ہمیں کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں لیکن دیگر لوگ ہمارے لئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے مزید کہاکہ وہ اُس ملک اور ساری دنیا سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کسی بھی دہشت گرد کو اُس کے مذہب کے تناظر میں نہیں دیکھتا ہے۔ دہشت گرد کا کوئی مذہب یا اُس کی کوئی ذات پات نہیں ہوتی اور وہ بس دہشت گرد اور انسانیت کا دشمن ہوتا ہے۔ نائب صدر نے وکالت کی کہ اقوام متحدہ کو اس طرح کی تنظیموں اور لوگوں کے خلاف جو ناپاک سرگرمیوں میں ملوث ہیں، سخت اقدامات کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے بی ایس ایف کی سخت محنت اور جانفشانی کو سراہا۔

TOPPOPULARRECENT