Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کا متحدہ مقابلہ کرنے نجیب رزاق اور اُوباما کا عہد

دہشت گردی کا متحدہ مقابلہ کرنے نجیب رزاق اور اُوباما کا عہد

کوالالمپور ۔ 21 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق اور امریکہ کے صدر براک اوباما نے اسلامک اسٹیٹ ( داعش ) کے نفرت انگیز اور بدی پر مبنی نظریات کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عہد کیا ہے ۔ دونوں قائدین کی بات چیت کے دوران پیرس ، لبنان اور مصر کے حالیہ دہشت گرد حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔جنوب ایشیائی قائدین کی چوٹی کانفرنس کے موق پر صدر براکاوباما نے کہاکہ ’’ہم اُن قاتلوں کو کوئی محفوظ ٹھکانے پانے نہیں دیں گے ‘‘۔ صدر اوبامااور وزیراعظم نجیب رزاق نے ایشیاء ۔ بحرالکاہل کے 18 ممالک کی اس چوٹی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں جس کا کل اتوار سے یہاں آغاز ہوگا ۔ مصر میں روسی طیارہ کو بم دھماکے سے اُڑانے ، بیروت میں خودکش بمبار دھماکے اور پیرس میں دہشت گرد حملوں کے پس منظر میں یہ چوٹی کانفرنس منعقد ہورہی ہے ۔ اس ہفتہ ملائیشیا کے ایک باشندہ کو فلپائن میں یرغمال بنالیا گیا تھا ۔ نجیب رزاق جنوب مشرقی ایشیائی تنظیم کے موجودہ سربراہ ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اس تنظیم کے کارناموں پر خطاب کرنا چاہتے تھے لیکن حالیہ چند دنوں میں پیش آئے دہشت گرد واقعات کے سائے اب سب پر منڈلارہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ’’آپ سب یقین رکھیں کہ اس نئی برائی اور اسلام کے نام پر کی جانے والی ان گستاخانہ لعنوں کے خلاف جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔ نجیب رزاق نے اپنے خطاب کے دوران اسلام میں رواداری کی اہمیت اور تائید کا کئی مرتبہ حوالہ دیا اور کہا کہ دہشت گرد حملوں کے سازشی عناصر کسی مذہب ، ذات پات یا علاقہ کی نمائندگی نہیں کرتے وہ صرف دہشت گرد ہیں اور ان کے ساتھ اس سختی سے نمٹا جانا چاہئے جس کے وہ مستحق ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں سخت ترین قانون پر بھرپور عمل کیا جانا چاہئے ۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے کیلئے صرف ایک فوجی حل ہی کارکرد نہیں ہوسکتا کیونکہ دہشت گردوں کی طرف سے جس مایوس کن نظریات کا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے ۔ ہمیں اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرنا چاہئے کہ جھوٹ پر مبنی ان مایوس کن نظریات کو بے نقاب کیا جائے کیونکہ یہ اسلامی نظریات نہیں اور نہ ہی ایسے نظریات اسلامی ہوسکتے ہیں۔ صدر اوباما نے گزشتہ روز مالی کی لکژری ہوٹل پر ہوئے دہشت گرد حملے کا تذکرہ کیا اور کہاکہ دہشت گردی بھڑکانے والے نفرت انگیز نظریات کا قلع قمع کرنے کیلئے ساری دنیا ایک آہنی عزم کے ساتھ متحد ہوچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT