Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / دہشت گردی کا کرہ ارض سے صفایا کردیا جائے گا

دہشت گردی کا کرہ ارض سے صفایا کردیا جائے گا

سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا عہد ، 40 مسلم ممالک پر مشتمل اتحاد کا پہلا اجلاس، قطر غیر حاضر

ریاض ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے طاقتور ولیعہد محمد بن سلمان نے دہشت گردوں کے کرہ ارض سے خاتمہ کے عہد کا اعلان کیا ۔ دہشت گردی سے مقابلہ کیلئے تقریباً 40 مسلم ممالک پر مشتمل اتحاد کا آج پہلا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت پرنس محمد بن سلمان نے کی جو سعودی عرب کے وزیر دفاع بھی ہیں ۔ انہوں نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دہشت گرد ہمارے تمام ممالک میں سرگرم رہے ہیں اور اس وقت سرکاری سطح پر ہمارے درمیان کوئی باہمی ربط نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ صورتحال اب ختم ہوچکی ہے ۔ اتحاد میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع اور کئی سینئر عہدیداروں نے اس چوٹی اجلاس میں شرکت کی ۔ 2015 ء میں پرنس محمد بن سلمان کی ایماء پر اس اتحاد کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد پرنس محمد اب سعودی عرب کے ولیعہد بن چکے ہیں اور انہوں نے انتظامیہ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے ۔ اس اتحاد میں سنی اکثریتی ممالک شامل ہیں ۔ سعودی عرب کے کٹر حریف شیعہ ایران کے علاوہ شام اور عراق کو بھی جن کے تہران سے قریبی روابط ہیں ، اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ آج کا یہ اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا جبکہ ریاض اور تہران میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ شام اور یمن کے سیاسی حالات اور لبنان کی صورتحال نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ ریاض میں آج منعقدہ اس اجلاس میں مسلم اور مسلم اکثریتی ممالک بشمول مصر ، یو اے ای ، بحرین ، افغانستان ، یوگینڈا ، صومالیہ ، ماؤریتانیہ ، لبنان ، لیبیا ، یمن اور ترکی شریک ہیں ۔ پاکستان کے سبکدوش فوجی سربراہ راحیل شریف کو کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد مختلف وسائل کو مجتمع اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے دہشت گردی پر قابو پانا ہے ۔ اس اتحاد میں قطر بھی شریک ہے لیکن گزشتہ 6 ماہ سے سعودی زیرقیادت مختلف ممالک اس کا بائیکاٹ کررہے ہیں ۔ آج کے اجلاس میں قطر کے کسی عہدیدار نے شرکت نہیں کی ۔ قطر کا پرچم بھی موجود نہیں تھا ۔ مصر نے بھی وزیر دفاع کی بجائے فوجی عہدیدار کو اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ کیا جبکہ وہ جمعہ کے دن مسجد میں ہوئے حملے کی وجہ سے اب تک سنبھل نہیں سکا ہے ۔ اس حملے میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور آئی ایس نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ پرنس محمد بن سلمان نے اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تکلیف دہ واقعہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات کی یاددہانی کراتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بے قصور افراد کی ہلاکت کے علاوہ نفرت ، دہشت گردی اور انتہاپسندی نے ہمارے مذہب کا امیج متاثر کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT