Wednesday , December 12 2018

دہشت گردی کسی بھی شکل میں ناقابل قبول ‘ متحدہ مقابلہ ضروری

فورٹالیزا 15 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) عالمی دہشت گردی سے نمٹنے میں امتیاز کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ بعض ممالک پر دباؤ ڈالا جانا چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کو مدد نہ کریں اور نہ انہیں پناہ گاہیں فراہم کی جائیں ۔ مودی کے اس بیان کو ہندوستان کے پڑوس کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے ۔ عالمی قائدین کے ساتھ اپنی پ

فورٹالیزا 15 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) عالمی دہشت گردی سے نمٹنے میں امتیاز کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ بعض ممالک پر دباؤ ڈالا جانا چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کو مدد نہ کریں اور نہ انہیں پناہ گاہیں فراہم کی جائیں ۔ مودی کے اس بیان کو ہندوستان کے پڑوس کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے ۔ عالمی قائدین کے ساتھ اپنی پہلی ہمہ جہتی مصروفیت میں نریندر مودی نے آج برکس اقوام کی چھٹی چوٹی کانفرنس سے خطاب کیا ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی شکل میں ہونے والی دہشت گردی انسانیت کے خلاف ہے اور اس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب وہ جنگ جیسی صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی دہشت گردی پر جامع کنونشن کے مسودہ کو جلد منظوری دے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مشترکہ طور پر بعض ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں اور مدد فراہم نہ کریں۔ مودی کی یہ تقریر کسی بھی بین الاقوامی فورم میں پہلی بڑی تقریر تھی جس میں انہوں نے عراق ‘ شام اور افغانستان جیسے ممالک کا بھی تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ایسا خطرہ ہے جو جنگ کی نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ یہ در اصل ایک نقلی جنگ ہے جس کا مقصد معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ہے ۔ چونکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار الگ ہیں اس لئے بین الاقوامی برادری اس لعنت سے موثر انداز میں نہیں نمٹ سکی ہے ۔

اس کانفرنس میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹین ‘ میزبان صدر ڈلما روسیف ‘ چین کے صدر ژی جن پنگ اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے بھی شرکت کی ۔ نریندر مودی نے کہا کہ وہ یقینی طور پر مانتے ہیں کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو وہ انسانیت کے خلاف ہے ۔ اس کو کسی بھی قیمت پر برادشت نہیں کیا جانا چاہئے ۔ انسانیت کو متحد ہونا چاہئے اور دہشت گرد طاقتوں کو یکا و تنہا کیا جانا چاہئے ۔ خاص طور پر ممالک کو بنیادی اصولوں پر کاربند ہونا چاہئے اور دہشت گردی سے منتخب انداز میں نمٹنے کا طریقہ کار موثر ثابت نہیں ہوگا۔ مودی نے کہا کہ برکس ممالک کو یقینی طور پر اپنے سیاسی عزم کو عملی شکل دینی چاہئے اور ایک جامع منصوبہ تیار کرنا چاہئے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی دہشت گردی پر ایک جامع کنونشن کے مسودہ کو اقوام متحدہ میں جلد منظوری دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں ملاقات کر رہے ہیں جب دنیا کو اعلی سطح پر گہما گہمی اور غیر یقینی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور عالمی معاشی کمزوری بھی برقرار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پر امن اور مستحکم ماحول ضروری ہے تاکہ عالمی سطح پر ترقی اور خوشحالی لائی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسی سرزمین سے آئے ہیں جہاں ساری دنیا ایک خاندان کا نظریہ اس کی اقدار میں شامل ہے ۔ مودی نے کہا کہ دنیا کو متحد ہونا چاہئے اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجس سے نمٹنا چاہئے ۔ عالمی حکمرانی کے اداروں میں اصلاحات سے غلطیوں میں سدھار کا آغاز ہونا چاہئے ۔ برکس کے قیام سے ہی اس کا یہ ایجنڈہ رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور آئی ایم ایف جیسے اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ انہیں مزید نمائندہ بناتے ہوئے حقائق کی عکاسی کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان کی دہشت گرد طاقتوں سے مقابلہ کیلئے مدد بھی کرنی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT