Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / دہشت گردی کیخلاف لڑائی میں ہند ۔ پاک تعلقات اور تعاون ضروری

دہشت گردی کیخلاف لڑائی میں ہند ۔ پاک تعلقات اور تعاون ضروری

محبوبہ مفتی کا بیان ۔ مجھے چیف منسٹر کے عہدہ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ پی ڈی پی لیڈر کی ’’آج تک ایجنڈہ‘‘ میں شرکت
نئی دہلی، 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حلیف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے آج کہاکہ ہندوستان ایسے وقت پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا جبکہ ساری دنیا کو جہادی تنظیموں آئی ایس آئی اور القاعدہ سے سنگین خطرہ درپیش ہے۔ صدر پی ڈی پی محبوبہ مفتی نے ’’آج تک ایجنڈہ‘‘ سے مخاطبت میں کہاکہ اگر ہم دہشت گردوں کی سرکوبی چاہتے ہیں تو پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ ہندوستان کو ہاتھ ملانا چاہئے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ یہ دریافت کیا گیا ہے کہ پی ڈی پی قیادت کو سبکی محسوس ہوئی تھی جب وزیراعظم نریندر مودی نے 7 نومبر کو سرینگر میں ایک ریالی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ کشمیر پر انھیں کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ لوگ بتدریج تجربہ کے ذریعہ سیکھتے ہیں چونکہ جموں و کشمیر دوسری ریاستوں کی طرح نہیں ہے اور پاکستان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کا راست اثر ہم پر مرتب ہوتا ہے اور جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں اور سیاق و سباق سے نہیں ہٹنا چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے سواء کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ گوکہ ہم کچھ مدت کیلئے مذاکرات میں تاخیر یا ٹال دے سکتے ہیں بالآخر ہمیں وہی کرنا پڑے گا جوکہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان جاکر کیا ہے۔ کیونکہ ہمیں آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کے خلاف مشترکہ جنگ کرنی ہے۔

 

پیپلز پی ڈی پی لیڈر نے کہاکہ مودی جی کو ضرورت ہے یا نہیں لیکن ہمیں ضرورت ہے پاکستان سے بات کرنے کی، کیونکہ پاکستان کے ساتھ خراب تعلقات کی صورت میں ہماری ریاست راست متاثر ہوتی ہے۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ بالآخر جموں و کشمیر کے عوام جوکہ سرحد پار کی فائرنگ میں ہلاک ہورہے ہیں ان کیلئے واگھا سرحد سے پیاز آنا شروع ہوجائے گا۔ انھوں نے استفسار کیاکہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے ہم پس و پیش کیوں کررہے ہیں اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقش قدم پر چلنا چاہئے جنھوں نے کہا تھا کہ ہم اپنے پڑوسی تبدیل نہیں کرسکتے اور ہمیں قیام امن کیلئے راہیں تلاش کرنا ہوگا۔ ریاست میں آئی ایس آئی ایس اور پاکستانی پرچم لہرانے کے واقعات کو نظرانداز کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہمیں ان لوگوں پر توجہ دینی چاہئے جوکہ ہندوستان کے ساتھ ہیں۔ تقریباً 65 فیصد عوام نے بیالٹ (حق رائے دہی) سے استفادہ کیا اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں ان کی پرواہ نہ کی جائے اور بہتر ہوگا کہ ترقی اور خوشحالی پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہاکہ بی جے پی ۔ پی ڈی پی اقل ترین پروگرام کے مطابق ریاست میں سیاہ قوانین کی تنسیخ اور فوج کے رول کو گھٹانے کی ضرورت ہے جبکہ مشترکہ ٹاؤن شپس کی تعمیر کرتے ہوئے 50 فیصد کشمیری پنڈتوں کیلئے مابقی مسلمانوں اور سکھوں اور بدھسٹوں کو مختص کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT