Tuesday , January 16 2018
Home / دنیا / دہشت گردی کیخلاف کوشش کوئی مخصوص ملک کی ذمہ داری نہیں ہوسکتی

دہشت گردی کیخلاف کوشش کوئی مخصوص ملک کی ذمہ داری نہیں ہوسکتی

بیجنگ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج کہاکہ وہ پاکستان پر امریکہ کی انگشت نمائی اور اُسے دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کا مخالف ہے، اور زور دیا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ذمہ داری کوئی مخصوص ملک پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ چین کی اپنے دائمی حلیف کو تائید و حمایت اِس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی اپنی کوششوں میں شدت پیدا کردی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں کا صفایا کردے۔ امریکہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کو سکیورٹی کے عنوان سے لگ بھگ دو بلین ڈالر کی اعانت معطل کردی کیوں کہ وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں ناکام رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ چین نے ہمیشہ دہشت گردی کو کسی مخصوص ملک کے ساتھ جوڑنے کی مخالفت کی ہے اور ہم کسی ایک ملک پر انسداد دہشت گردی کی ذمہ داری تھوپنے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ وہ وائٹ ہاؤز کے ایک عہدیدار کے ریمارکس کے بارے میں سوال کا جواب دے رہے تھے کہ چین پاکستان کو یہ ترغیب دینے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے کہ دہشت گردی کی پناہ گاہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا خود اُس کے قومی مفاد میں ہے۔ چینی ترجمان نے کہاکہ ہم نے کئی بار زور دیا ہے کہ پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور عالمی انسداد دہشت گردی کاز میں بڑا حصہ ادا کیا ہے۔ چینی ترجمان نے کہاکہ تمام ملکوں کو ایک دوسرے پر اُنگلی اٹھانے کی بجائے باہمی احترام کی اساس پر انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط کرنا چاہئے۔ انگشت نمائی کا رویہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ جب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کے خلاف دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے مسئلہ پر لفظی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے، چین نے پاکستان کو اپنی تائید و حمایت کا کھلا اظہار کیا ہے۔ ٹرمپ نے سال نو کے موقع پر ایک ٹوئٹ میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا کہ اُس نے گزشتہ 15 سال کے دوران 33 بلین ڈالر کی امداد تو حاصل کرلی لیکن اس کے عوض میں امریکہ کو جھوٹ اور دغا بازی نیز دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گناہ فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ چینی میڈیا نے بھی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے ٹرمپ کی کوششیں اسلام آباد کو اس کے ساتھ قریب تر کرسکتی ہیں کیوں کہ بیجنگ اِس ملک میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پی ای سی) کے تحت پچاس بلین ڈالر کے متعدد پراجکٹوں میں کام کررہا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا نے ایسی رپورٹس نمایاں کی ہیں کہ پاکستان ہوسکتا ہے چین کو ایرانی بندرگاہ چاباہار سے قریب جیوانی میں ملٹری اڈہ تعمیر کرنے کی اجازت دے جو مشترکہ طور پر ہندوستان، ایران اور افغانستان کی جانب سے فروغ دیا جارہا ہے۔ جیوانی کا علاقہ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ سے قریب ہے جسے چین ترقی دے رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT