Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / دہشت گردی کی طرح مذہبی شدت پسندی بھی انتہائی خطرناک۔ ارشدمدنی

دہشت گردی کی طرح مذہبی شدت پسندی بھی انتہائی خطرناک۔ ارشدمدنی

نئی دہلی۔مذہب کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد قاب قبول نہیں ہوسکتا‘ مذہب تو انسانیت ‘ روداداری‘محبت‘ اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے اس لئے جو لوگ اس کا استعمال نفرت اور تشدد برپاکرنے کے لئے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہوسکتے ہیں ور ہمیں ہرسطے پر ایسے لوگوں کی مذمت او رمخالفت کرنی چاہئے۔ یہ باتیں جمعیت العلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آسٹریا کے درالحکومت ویانہ میں’کیسیڈ‘ کی سہ روزہ بین المذاہب کانفرنس سے فراغت کے بعد میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

مولانا مدنی نے کہاکہ ہمیں مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر دنیا کے تمام مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہئے کہ یہی انسانی فرض بھی ہے‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سربراہان مملکت دل پذیر تقریر تو کرتے ہیں مگر اپنی کہی ہوئی باتوں پر عام طور رپ عمل نہیں کرتے دنیا کے موجودہ حالات کے تناظر میں

انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا کے بیشتر ممالک بدامنی انتشار اور تشدد کا شکار ہیں‘ کہیں نسلی تعصب ہے تو کہیں لسانی‘ مذہبی تعصب کو ہوا دیکر انتشاراور تشدد وتفریق پیدا کی جارہی ہے ‘ انہوں نے کہاکہ اس کی سبس ے بڑی وجہ یہ ہے کہ کہیں کہیں ساست دانوں میں نفرت کی تخم ریزی کرکے اقتدار حاصل کرنے کی ہوس شدید تر ہوگئی ہے جس کی وجہہ سے پوری دنیا میں تعصب اور مذہبی تشدد میں غیرمعمولی طور پر اضافہ ہوا ہے بعض حکمرانو ں نے ڈر اور خوف کی سیاست کا اپنا شعار بنالیا ہے‘ لیکن یہ واضح کردینا چاہتاہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل اور انصاف سے ہی چلاکرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ حالات بہت دھماکہ خیز ہوتے جارہے ہیں ایسے میں ہمیں متحدہوکر میدان عمل میں اترنا ہوگا‘کیسیڈ کی بین المذاہب کانفرنس کی ستائش کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہاکہ اس سے افہام وتفہیم کی راہیں کھلی ہیں ‘ اور ہم سمجھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے اس طرح ایک ساتھ آنے اور بات چیت کرنے سے بہت سی غلط فہمیوں کا نہ صرف ازالہ ہوگا بلکہ پوری دنیامیں ایک مثبت پیغام بھی جائے گا اور عالمی سطح پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان انشاء اللہ اتحاد واتفاق کی فضا ہموار ہوگی‘

انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی طرح مذہبی شدت پسندی بھی نسل انسانی کے لئے انتہائی خطرناک ہے ‘ لیکن مذہبی تشدد کے خلاف عالمی سطح پر اب تک کوئی موثر کوشش نہیں ہوئی ہے تاہم مامید افزا بات یہ ہے کے کیسیڈ نے اس مسئلہ کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کے خاتمہ کے لئے موثر انداز میں پوری دنیا میں کام کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT