دہشت گردی کی لعنت ‘ آسیان ممالک کیلئے بڑا چیلنج : سشما سواراج

نے پئی تاؤ ( میانمار ) 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایشیا پیسیفک علاقہ کے ممالک کیلئے دہشت گردی کی لعنت کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے ایک جامع کارروائی ضروری ہے اور ہندوستان کے خیال میں دہشت گردی سے نمٹنے ہر جگہ یکساں طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ 21 ویں آسیان علاقائی فورم کے اجلاس سے خطاب کرت

نے پئی تاؤ ( میانمار ) 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایشیا پیسیفک علاقہ کے ممالک کیلئے دہشت گردی کی لعنت کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے ہندوستان نے آج کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے ایک جامع کارروائی ضروری ہے اور ہندوستان کے خیال میں دہشت گردی سے نمٹنے ہر جگہ یکساں طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ 21 ویں آسیان علاقائی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سشما سواراج نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ افغانستان کی تائید کرے کیونکہ وہاں تبدیلی کا پیچیدہ عمل چل رہا ہے ۔ سشما سواراج نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کی لعنت کو ایک عزم کے ساتھ ختم کرنے کی ضرورت ہے
اور اس سے نمٹنے ہر جگہ یکساں طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے ۔ ہمارا جو عزم ہے وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف عملی کارروائی کی شکل میں سامنے آنا چاہئے ۔ دہشت گردوں کو آسیان علاقائی فورم کے رکن ممالک میں کہیں بھی پناہ گاہ یا تائید نہیں ملنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالات کی تبدیلی کا پیچیدہ عمل جاری ہے ۔ ایسے وقت میں بین الاقوامی برادری کو افغانستان کی تائید کرنی چاہئے تاکہ اس نے گذشتہ ایک دہے کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا تحفظ ہوسکے اور اس کی قومی بہتری کو خطرات لاحق نہ ہونے پائیں۔ ہندوستان جمہوری حکمرانی ‘ سکیوریٹی اور معاشی ترقی کے معاملہ میں افغانستان کی تائید کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔ جنوبی چین کے سمندر سے متعلق تنازعات پر سشما سواراج نے کہا کہ جنوبی چین کے سمندر میں جو حالیہ تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں وہ اس بات کی ضرورت پر زور دیتی ہیں کہ متعلقہ ممالک کی سالمیت کے مسائل کو پرامن انداز میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی مخالفت کرتا ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین و اصولوں کے مطابق بحری سرگرمیوں کی آزادی کا حامی ہے ۔ سبھی ممالک کو ان اصولوں کا احترام کرنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ متعلقہ فریقین بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ اس مسئلہ کو حل کیا جاسکے اور ہندوستان کو امید ہے کہ اس تعلق سے مناسب پیشرفت بھی ہوگی ۔ سشما سواراج نے کہا کہ ہندوستان میں ایک نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے جسے عوام کی زبردست تائید حاصل ہوئی ہے ۔ اب عوام کو اس حکومت سے اچھی امیدیں ہیں اور حکومت نے بھی اجتماعی معاشی ترقی ‘ بہتر حکمرانی ‘ انفرا اسٹرکچر کے فروغ ‘ تجارت اور سرمایہ کاری پر توجہ دینی شروع کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ہندوستان کو اپنے تمام ساتھی ممالک کے ساتھ بہتر باہمی روابط رکھنے چاہئیں تاکہ ہندوستان کی نئی حکومت کے ایجنڈہ کی تکمیل میں سہولت ہوسکے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آسیان سکیوریٹی کو دہشت گردی ‘ بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاوں کے پھیلاؤ ‘ علاقائی مسائل ‘ سائبر جرائم اور قذاقی ‘ توانائی عدم سلامتی اور ماحولیاتی ابتری جیسے مسائل کا سامنا ہے اور آسیان علاقائی فورم کے تمام رکن ممالک کو ان سے مقابلہ کیلئے متحدہ ہوجانے کی ضرورت ہے ۔

جاپان سے نیوکلئیر معاملت کیلئے تیار
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جاپان سے قبل وزیر خارجہ سشما سواراج نے آج کہا کہ چین کے ساتھ باہمی نیوکلئیر معاہدہ کی تکمیل کی خواہش ظاہر کی ہے اور کہا کہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہئے ۔ وزیر خارجہ جاپان مسٹر فومیو کیشیدہ کے ساتھ ملاقات میں سشما سواراج نے نریندر مودی کے دورہ جاپان کے بشمول کئی باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں نے مودی کے دورہ جاپان کو ثمر آور بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ سشما سواراج نے یہ واضح کردیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان اور چین باہمی سیول نیوکلئیر تعاون معاہدہ کو منطقی انجام تک پہونچائیں ۔ دونوں ملکوں کے مابین گذشتہ چار سال سے اس مسئلہ پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT