Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہند اور ایران کے عہد کا اعادہ

دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہند اور ایران کے عہد کا اعادہ

دوہرے ٹیکس سے گریز ، ویزا قواعد میں نرمی کے بشمول 9 سمجھوتوں پر دستخط ، وزیراعظم مودی اور ایران کے صدر روحانی کی مشترکہ پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔ /17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر حسن روحانی سے سکیورٹی تجارت اور توانائی جیسے اہم شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کیلئے قابل لحاظ و نمایاں اہمیت کی حامل بات چیت کی جس کے بعد جانبین نے 9 سمجھوتوں پر دستخط کئے جن میں دوہرے ٹیکس سے گریز کا ایک سمجھوتہ بھی شامل ہے ۔ دونوں قائدین نے اپنے وسیع تر مذاکرات کے دوران علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ وزارت امور خارجہ میں ترجمان راویش کمار نے ٹوئیٹرپر لکھا کہ ’’دونوں قائدین نے تجارت و سرمایہ کاری ، توانائی ، رابطہ ، دفاع و سلامتی جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کے علاوہ علاقائی مسائل پر قابل لحاظ اہمیت کی حامل ثمر آور بات چیت کی ‘‘ ۔ سمجھوتوں پر دستخط کے بعد وزیراعظم مودی نے صدر روحانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے صدر کے اس دورہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانبین بشمول باہمی رابطہ مختلف کلیدی شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں ۔ مودی نے جامع مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خطرات کے علاوہ دیگر چیلنجوں کے بارے میں بھی گفت و شنید کی ہے ۔ صدر روحانی نے کہا کہ ’’ہم دہشت گردی سے پاک دنیا چاہتے ہیں ۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کا تہیہ کرچکے ہیں ‘‘ ۔ ایران کے رہنما نے کسی ملک کا واضح طور پر حوالہ دیئے بغیر کہا کہ علاقائی تنازعات کو سیاسی عمل اور سفارت کاری کے ذریعہ حل کیاجانا چاہئیے ۔ وزیراعظم مودی نے حکمت عملی کی اہمیت کے حامل چابہار بندرگاہ کے فروغ میں ایرانی صدر کی طرف سے فراہم کی جانے والی قیادت کی بھرپور ستائش کی ۔

دوہرے ٹیکس سے گریز کے سمجھوتے کے علاوہ دونوں ملکوں نے ملک بدری کے سمجھوتوں کی توثیق کا تبادلہ کیا ۔ نیز ویزا کے عمل کو آسان بنانے کے معاہدہ پر بھی دستخط کی گئیں ۔ قبل ازیں صدر روحانی کا راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبال کیا گیا ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج صبح صدر روحانی سے ملاقات کے دوران مختلف امور و مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ حسن روحانی نے افغانستان کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک (ہند اور ایران) اس تمام فریقوں کو اس ملک (افغانستان) میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہئیے ۔ روحانی نے مزید کہا کہ علاقہ کے دیگر مسائل بالخصوص شام ، عراق اور یمن کے مسائل کو بھی سیاسی مساعی کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئیے ۔ نیوکلیئر مسئلہ پر روحانی نے کہا کہ دونوں ممالک (ہند اور ایران) کا مشترکہ نظریہ ہے کہ اس ضمن میں بین الاقوامی سمجھوتوں کی پابندی کی جائے ۔ حسن روحانی نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات محض سیاسی و سفارتی سطح سے بہت زیادہ آگے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان کے تاریخی تعلقات ہیں ۔ یہ تعلقات تہذیب و ثقافت کے ورثوں پر مبنی ہیں ۔ وزیراعظم مودی اور صدر روحانی نے ایک پرامن ، مستحکم اور خوشحال افغانستان کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’ہم دہشت گردی سے پاک دنیا چاہتے ہیں اور ان طاقتوں کی وسعت کو روکنے کا عزم کرچکے ہیں جو دہشت گردی ، انتہاپپسندی ، منشیات کی اسمگلنگ ۔ سائبر جرائم اور دیگر بین الاقوامی جرائم کی حوصلہ افزائی کہا کرتے ہیں ‘‘ ۔ دونوں ملکوں کے مابین طئے شدہ 9 سمجھوتوں میں چابہار بندرگاہ کے مرحلہ اول کے تحت تیار شدہ شہید بہشتی بندرگاہ کے کارکرد حصہ کو ہندوستان کی طرف سے 18 ماہ کیلئے پٹہ پر لینا بھی شامل ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے چابہار بندرگاہ کو ’’گولڈن گیٹ وے ‘‘ (سنہری باب الداخلہ) قرار دیا اور کہا کہ اس کے فروغ سے افعانستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک تک رسائی میں مدد ملے گی ۔ سمندری راستوں سے محروم افغانستان اور اس کے چند پڑوسی ممالک محض زمینی راستوں تک محدود ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT