Monday , December 11 2017
Home / دنیا / دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام دینے کی ضرورت

دہشت گردی کے خلاف سخت پیغام دینے کی ضرورت

تعین مدت کے ساتھ سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ، معتمد عمومی بانکی مون کو وزیر اعظم مودی کا مکتوب

اقوام متحدہ /18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے تاریخی 70 ویں سال کو ایک واضح پیغام دینے کے لئے استعمال کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ غیر سرکاری فوجی تنظیمیں ایک خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون کے نام اپنے مکتوب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے تحریر کیا کہ نئے صیانتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر بنایا جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ دوسری عالمگیر جنگ کے خاکستر سے پیدا ہوئی ہے، جب کہ بین الممالک تنازعہ جاری تھا، تاہم ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، جس میں غیر سرکاری فوجی تنظیمیں ایک بڑا عنصر ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کو پاکستان سے لاحق خطرہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک جامع کنونشن کا مطالبہ کیا، جو جاریہ سال بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف منعقد کیا جائے۔ انھوں نے اپنے مکتوب مؤرخہ 4 جولائی میں ہندوستان کے لئے اقوام متحدہ میں مستقل سفارت خانہ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وہ کل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ عالمی ادارہ کے ہیڈ کوارٹرس کو تقریباً ایک ہفتہ کی مدت میں پہنچیں گے اور اعلی سطحی پائیدار ترقی چوٹی کانفرنس سے 25 ستمبر کو خطاب کریں گے۔ اپنے مکتوب میں مودی نے کہا کہ دہشت گردی اور تشدد ناقابل برداشت انتہاپسندی کا قبل ازیں بحیثیت بنیادی خطرہ برائے ممالک و معاشرے وجود نہیں تھا۔ یہ درحقیقت جغرافیائی اعتبار سے وسعت پیدا کرچکا ہے، اس کے پاس وسیع ذرائع اور نئے آلات ہیں، جن کے ذریعہ وہ اپنا نظریہ پھیلاسکتا اور لوگوں کے تقرر کرسکتا ہے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی لعنت ایک نیا رخ اختیار کرچکی ہے اور اس کے لئے ایک جامع عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے، ہمیں اس تاریخی سال سے استفادہ کرتے ہوئے مشترکہ طورپر واضح پیغام دینا چاہئے کہ دہشت گردی کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کو سابقہ دور کے حالات کی پیداوار قرار دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ معتمد عمومی بانکی مون کو چاہئے کہ وہ ہندوستان کو اس میں زیادہ نمائندگی فراہم کریں۔ سلامتی کونسل کے اصلاحات پر عمل آوری تعین مدت کے ساتھ ہونی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ سے چاہتے ہیں کہ وہ صیانتی ماحول میں انقلابی تبدیلی لائیں اور مابعد 2015ء ترقیاتی ایجنڈے میں انقلابی تبدیلی پیدا کریں اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ کارکردگی اور اثراندازی کا انحصار داخلی اصلاحات کے وسیع اقدام پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ خاص طورپر سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات ضروری ہے اور انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ہمیں کئی مشکل مہمات درپیش ہیں۔ یہ مکتوب ہندوستان کے مستقل سفارت خانہ کی جانب سے پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT