Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کے خلاف متحدہ کارروائی پر زور

دہشت گردی کے خلاف متحدہ کارروائی پر زور

خاموشی اور بے عملی سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ، پاکستان کا راست حوالہ : وزیراعظم
امرتسر۔4 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو واضح پیام دیتے ہوئے نہ صرف دہشت گرد طاقتوں بلکہ ان تمام کے خلاف بھی جو دہشت گردوں کی تائید، پناہ ، تربیت اور مالیہ فراہم کررہے ہیں، سخت کارروائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی اور بے عملی کے نتیجہ میں دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کے حوصلے بلند ہوں گے۔ ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ (ایچ او اے) کی چھٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ دہشت گردی میں اضافہ علاقہ کیلئے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے افغانستان کے امن ، استحکام اور خوشحالی کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کردیئے ہیں۔

یہ خطرات سارے علاقے کو اپنی گرفت میں لے رہے ہیں چنانچہ صرف افغانستان میں امن کی تائید یا اس کے حق میں بات کرنا ہی کافی نہیں ہوگا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ صرف دہشت گردوں کے خلاف ہی کارروائی کافی نہیں بلکہ ان کی مدد کرنے والے، انہیں پناہ دینے والے، تربیت فراہم کرنے والے اور انہیں مالی مدد کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہئے۔ وزیراعظم کا اشارہ راست پاکستان کی طرف تھا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعہ افغانستان میں خوشحالی  کے لئے مدد کی جاتی ہے۔ انہوں نے صدر افغانستان اشرف غنی کے ہمراہ مشترکہ طور پر سالانہ وزارتی کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد یہ بات کہی۔ اس کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز اور تقریبا 30 ممالک کے نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ نریندر مودی نے کہا کہ افغانستان اور ہمارے علاقہ میں دہشت گردی کے خلاف خاموشی اور بے عملی سے صرف دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کے حوصلے بلند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ترقی اور انسانی ضروریات کی مدد کیلئے باہمی اور علاقائی سطح پر جو عہد و پیماں کئے گئے ہیں،

اسے جاری رہنا چاہئے اور اس میں اضافہ بھی ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو شکست دینے کے لئے طاقتور اور متحدہ مقابلہ ضروری ہے جو خونریزی اور خوف کا ماحول پیدا کررہا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں خوشحالی کیلئے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور اس کے عوام کی بہبود ہماری دلی خواہش ہے۔ انہوں نے افغان زیرقیادت، افغان زیرسرپرستی اور افغان زیرکنٹرول امن پیشرفت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں استحکام لایا جاسکے۔

اشرف غنی سے سرتاج عزیز کی ملاقات
امرتسر ۔ /4 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے آج صبح یہاں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ۔ پاکستان کے ایک عہدیدار کے مطابق مسٹر سرتاج عزیز نے مسٹر اشرف غنی کے ساتھ افغانستان کے امن و استحکام اور خوشحالی میں پاکستان کی جانب سے تعاون کے موضوع پر بات چیت کی ۔

سرحدپار دہشت گردی پرمودی ۔ اشرف غنی بات چیت
باہمی تعاون میں اضافہ اور استحکام پر اتفاق رائے ‘ سرحدپار دہشت گردی کے مقابلہ کا عہد ‘چوٹی کانفرنس کے دوران علحدہ ملاقات
امرتسر ۔ 4ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی اور صدر افغانستان اشرف غنی نے آج کئی کلیدی مسائل بشمول سرحد پار دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا اور فیصلہ کیا کہ انسداد دہشت ہند ۔ افغانستان تعاون کو  مستحکم کیا جائے گا ۔ اپنی ملاقات کے دوران دونوں قائدین نے اتفاق رائے کیا کہ ایک طرف امریکی ڈالر کے علاوہ مزید رقم کو مشغول کیا جائے گا ‘ تاکہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون خاص طور پر قابلیت کی تعمیر ‘ مہارت کی ترقی ‘ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ربط بشمول امکانی راہداری میں اضافہ ہوسکے ۔ اس راہداری سے ہندوستان کی رسائی افغانستان سے ہوسکے گی ‘ کیونکہ پاکستان اپنی سرزمین سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کررہا ہے ۔ دونوں قائدین نے قریبی اور دوستانہ ہند ۔ افغانستان تعلقات کے کئی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ دونوں نے حالیہ فیصلوں میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیا ‘ جن میں باہمی ‘ معاشی تعاون میں گہرائی پیدا کرنے اور دفاعی شراکت داری میں استحکام پیدا کرنے کے فیصلے کئے گئے تھے ۔

دونوں قائدین نے دہشت گردی خاص طور پر سرحد پار دہشت گردی سے لاحق خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیا جس سے ہندوستان اور افغانستان کے عوام کیلئے بے انتہا مشکلات پیدا ہوئی ہیں ۔ اس پس منظر میں دونوں قائدین نے اتفاق کیا کہ دہشت گرد کارروائیاں دونوں ممالک کے اشتراک کے ذریعہ کی جانی چاہیئے ۔ اقوام متحدہ اور دیگر فورموں میںباہمی ہم آہنگی میں اضافہ کرنا چاہیئے ۔ ہندوستان نے سارک چوٹی کانفرنس سے ترک تعلق کرلیا تھا جو گذشتہ ماہ اسلام آباد میں مقرر تھی ۔ اس کیلئے ہندوستان نے پاکستان سے سرحدپار دہشت گردی کا حوالہ دیا تھا ۔ سارک کے دیگر رکن ممالک نے بھی 8رکنی سارک کی چوٹی کانفرنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس بنیاد پر کہ اس علاقہ میں دہشت گردی کیلئے اکسایا جارہا ہے ۔ باہمی تعلقات  کے اطمینان بخش امکانات پر مودی اور غنی نے اتفاق رائے کیا کہ دونوں ممالک باہم تعاون جاری رکھیں گے بلکہ اسے مزید مستحکم بنائیں گے ۔ دونوں قائدین نے اتفاق رائے کیا کہ مزید رقم ایک ارب امریکی ڈالر باہمی تعاون خاص طور پر صلاحیت کی تعمیر ‘ مہارت کی ترقی‘ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور باہمی ربط بشمول امکانی فضائی ہند۔ افغانستان راہداری کے لئے مشغو کی جائے گی تاکہ باہمی تعلقات کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے ۔ اشرف غنی کل شام ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے یہاں پہنچے تھے ۔ انہوں نے یاد دہانی کی کہ کل وہ سنہرے مندر میں بھی حاضری دے چکے ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک ’’ دل پذیر تجربہ ‘‘ قرار دیا ۔ باہم ملاقات میں مودی نے غنی کو تیقن دیا کہ ہندوستان اس کی تائید جاری رکھے گا اور افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنائے گا ۔ افغانستان نے فوجی ہارڈ ویر ہندوستان سے درآمد میں اضافہ کرنے سے بھی اتفاق کیا ۔

TOPPOPULARRECENT