دہشت گرد ایک ارب مسلمانوں کے ترجمان نہیں: امریکہ

واشنگٹن ، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر براک اوباما نے دنیا بھر کے شہریوں اور مذہبی قائدین پر زور دیا کہ وہ ’شدت پسندوں کے جھوٹے وعدوں‘ کے خلاف جنگ میں متحد ہو جائیں اور اس خیال کو مسترد کر دیں کی ’دہشت گرد‘ گروہ اسلام کی غمازی کرتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اْنھوں نے کہا ہ

واشنگٹن ، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر براک اوباما نے دنیا بھر کے شہریوں اور مذہبی قائدین پر زور دیا کہ وہ ’شدت پسندوں کے جھوٹے وعدوں‘ کے خلاف جنگ میں متحد ہو جائیں اور اس خیال کو مسترد کر دیں کی ’دہشت گرد‘ گروہ اسلام کی غمازی کرتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اْنھوں نے کہا ہے کہ دہشت گرد، ایک ارب مسلمانوں کی ترجمانی نہیں کرتے۔ امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور پْرتشدد انتہا پسندی کے خلاف اقدام میں تمام ملکوں کو یکجا ہونا پڑے گا۔

اْنھوں نے کہا کہ ’وہ اپنے آپ کو مذہبی راہنما اور مقدس جنگجو ظاہر کرتے ہیں‘۔ بقول اْن کے، ’وہ مذہبی لیڈر نہیں ہیں، وہ دہشت گرد ہیں۔ ہم اسلام کے خلاف صف آرا نہیں ہیں۔ ہم اْن افراد کے خلاف نبرد آزما ہیں جنھوں نے اسلام کا نام بدنام کیا ہے‘۔ اس سے قبل، امریکی صدر نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ پُرتشدد انتہا پسندوں کو بھرتی کرنے والوں اور پروپیگنڈہ پر مامور افراد کا دنیا متحد ہو کر یکسوئی سے مقابلہ کرے کیونکہ فوجی طاقت سے دہشت گردی ختم نہیں کی جاسکتی‘۔ انھوں نے یہ بات اخبار ’لاس انجلیس ٹائمز‘ میں کل شائع ہونے مضمون میں کہی ہے، جس کے بعد اُنھوں نے واشنگٹن میں انسداد دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی اجلاس سے خطاب کیا۔ اوباما کے بقول ’’ہمیں پتہ ہے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

اْنھوں نے کہا کہ سب دہشت گردوں کا پکڑا جانا اتنا آسان نہیں ہے، جو بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، ہمیں پُرتشدد انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنا ہے، جن میں پروپیگنڈہ کرنے والے، بھرتی کرنے والے اور اْن کے سہولت کار شامل ہیں، جو خود، براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں، لیکن وہ انتہاپسندی پر مائل کرتے ہیں، بھرتی کرتے ہیں اور دوسروں کو ایسا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ سربراہ اجلاس ایسے میں منعقد ہورہا ہے جب امریکہ اور اُس کے اتحادی عراق اور شام میں داعش کے شدت پسند گروہ تیزی سے اور خونخوار طریقے سے اپنے قدم جما رہا ہے، جنھوں نے حال ہی میں آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور ڈنمارک میں دہشت گرد حملے کئے ہیں۔

اوباما نے کہا کہ ’داعش اور القاعدہ جیسے مہلک گروہ اُس غصے اور مایوسی کو ابھار کر ہمدردیاں سمیٹتے ہیں جو بے انصافی اور بدعنوانی کے نتیجے میں پروان چڑھ رہی ہیں؛ اور وہ (نوجوان) یہ دیکھتے ہیں کہ اْن کی زندگی میں بہتری آ ہی نہیں سکتی۔ دنیا کو چاہئے کہ نوجوانوں کو بہتر مستقبل کا یقین دلائیں‘۔ تاہم، اوباما انتظامیہ محتاط ہے اور وہ اس ہفتے کے اجلاس کو صرف اسلامی انتہا پسندی تک محدود نہیں رکھنا چاہتی۔ لیکن، وہ تمام قسم کی انتہا پسندی کو اجاگر کرنا چاہتی ہے، جس حکمت عملی پر قدامت پسند، ریبپلیکن پارٹی کے ارکان تنقید کر رہے ہیں۔ اجلاس میں 60 ملکوں کے اہلکار شریک ہیں، جن کے ساتھ ساتھ امریکہ بھر سے روحانی پیشوا اور پولیس حکام بھی وائٹ ہاؤس کے چوٹی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اِن میں روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ الیگزینڈر بوٹنیکوف بھی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT