Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / دہشت گرد حملوں پر مغرب کا دوغلاپن آخر کب تک؟

دہشت گرد حملوں پر مغرب کا دوغلاپن آخر کب تک؟

محمد ریاض احمد
فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں دہشت گردانہ حملوں اور ان میں 132 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 400 کے زخمی ہو جانے سے ساری دنیا میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی۔ امریکی صدر سے لے کر ہندوستانی وزیر اعظم نے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ پر زور دیا ہے، پیرس دہشت گردانہ حملوں کے ضمن میں فرانسیسی قومی پرچم کے رنگوں کی روشنیاں کی گئیں، اکثر حکومتوں نے اپنے ملکوں کی اہم عمارتوں پر اپنے اپنے قومی جھنڈے سرنگوں کردیئے ان تمام کا مقصد فرانس کے ساتھ اظہار یگانگت کرنا تھا۔ اس کے برعکس مصر کے تفریحی مقام میں روسی طیارہ گرجانے کے باعث اس میں سوار دو سو سے زائد مسافرین اور ارکان عملہ ہلاک ہوگئے۔ اس اندوہناک واقعہ پر سارا روس روپڑا۔ مغربی ملکوں میں اس واقعہ کی صرف زبانی طور پر مذمت کی گئی۔ دنیا نے اس طرح کا سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا جس طرح پیرس حملوں پر کیا ہے، مغرب کے اس دوغلے پن پر شاید تیسری دنیا کو ضرور حیرت ہوئی ہوگی اس لئے کہ اس کے دوغلے پن اور عجیب و غریب رویہ سے اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا مغرب میں انسانی زندگی کی قدر دنیا کے دیگر علاقوں کے انسانوں سے کہیں زیادہ عظیم اور اہم ہے؟ مغرب کے متعصبانہ اور جانبدارانہ رویہ سے یہ سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا صرف مغربی باشندوں کی زندگیاں اہم ہیں جن کے اتلاف پر واویلا مچایا جاتا ہے۔

دوسرے ملکوں پر حملے کرتے ہوئے ان پر قبضے کرلئے جاتے ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں اسی طرح کے واقعات کا اعادہ ہوتا ہے تو مغربی ملکوں کی برہمی صرف زبانوں تک ہی محدود رہتی ہے وہ بڑے مکارانہ انداز میں زبانی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، حالانکہ بحیثیت انسان انسانوں کے قتل پر ہر انسان کو مذمت کرنی چاہئے۔ فیس بک وغیرہ پر پیرس حملوں کے بعد ایک ہنگامہ مچ گیا۔ فرانسیسی حکومت اور عوام سے اظہار یگانگت کرنے والوں کے پروفائلس کو فرانسیسی پرچم کے رنگوں سے رنگا گیا۔ اس طرح کے مناظر امریکہ پر کئے گئے۔ 9/11 دہشت گرد حملوں کے بعد بھی  دیکھے گئے تھے جب اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے القاعدہ سے انتقام لینے کی قسم کھائی تھی۔ حالیہ عرصہ کے دوران پیرس میں ہی طنز و مزاح کی میگزین چارلی ہیبڈو کے گستاخ صحافیوں کو کسی نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، تب بھی ایسے ہی مناظر کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔ جہاں تک انسانی جانوں کی اہمیت ان کی قدر و منزلت کا سوال ہے۔ بلا لحاظ مذہب و ملت، ذات پات، رنگ و نسل ، علاقہ و صنف اور عقیدہ دولت و غربت اور عمر ہر انسان کی زندگی قیمتی ہوتی ہے۔ جب پیرس حملوں کے بعد ساری دنیا کی اہم عمارتوں کو فرانس کے قومی پرچم کے رنگوں میں روشن کیا گیا تب دہشت گردی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کے لوگوں نے یہ سوال کرنا شروع کردیا کہ جب دہشت گردوں کے ہاتھوں ان کے ملکوں میں کثیر تعداد میں بے قصور لوگ مارے گئے۔ اس وقت آخر کسی ملک کو ان ملکوں کے قومی پرچموں کو ان کے رنگوں میں روشن کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔

انٹرنیٹ پر سرچ کے دوران مغرب کے دوہرے پن پر ہمیں کئی مضامین، تبصرے اور ریمارکس پڑھنے کو ملے جن میں لبنان کے ایک ڈاکٹر کا تبصرہ بڑا دلچسپ تھا ۔ لبنانی ڈاکٹر ایلائی فیرس نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ 12 نومبر کو بیروت میں خودکش بمباروں کے حملہ میں 43 افراد مارے گئے جن میں خواتین اور بچے سب شامل تھے، لیکن دہشت گردی کے اس واقعہ پر مغربی ملک تو دور اس کی  اندھی تقلید کرنے والے ترقی پذیر ملکوں نے لبنان کے پرچم کے رنگوں کی روشنیاں نہیں کیں۔ لبنانی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یگانگت نہیں کیا گیا۔ بیروت میں مقیم ایک امریکی فری لانس جرنلسٹ انا لیکاس نے بھی اس طرح کے خیالات ظاہر کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیروت میں پیش آئے خودکش دھماکوں کو مغربی ممالک میں بمشکل اہمیت دی گئی۔ اس خاتون محافی کے خیال میں پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے ساتھ ہی ان کی سوشل سائٹس پر فرانس سے اظہار یگانگت سے متعلق ان کے دوست احباب اور جان پہچان والوں کے پیامات کا ایک سیلاب امڈ پڑا جس میں ان حملوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں بدترین ظلم سے تعبیر کیا گیا، لیکن انہیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ پیرس کے دہشت گرد حملوں پر اظہار مذمت و تشویش کا سیلاب برپا کرنے والے سماجی رابطہ کی سائٹس پر بالکل خاموش رہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ بیروت میں 43 قیمتی جانیں خودکش بمباروں کے حملوں میں ضائع ہوئی ہیں۔ ایسے میں تمام انصاف پسند بشمول دیانتدار صحافیوں کے پاس ایک ہی سوال تھا کہ آخر مغربی ممالک مغرب اور دنیا کے دیگر حصوں میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات پر دوہرا رویہ اور دوغلاپن کیوں اختیار کرتے ہیں؟ ماہرین اور صحافیوں کے خیال میں فرانس ایک ایسا ملک ہے جہاں مغربی سیاحوں کی کثیر تعداد ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ انہیں اندازہ ہیکہ اگر وہاں کوئی دہشت گرد حملہ پیش آتا ہے تو اس میں ترقی پذیر ممالک کے لوگ نہیں بلکہ مغربی ملکوں کے شہری مارے جاتے ہیں۔ ایسے میں چونکہ وہ ان کی تہذیب و تمدن سے قربت رکھتے ہیں اس لئے مغربی ملکوں ان کی حکومتوں اور عوام کو اس طرح کے واقعات پر بہت زیادہ تشویش ہوتی ہے جبکہ ان کے زعم رعب و دبدبہ سے مرغوب غریب و ترقی پذیر ممالک مغرب کی دیکھا دیکھی اپنی عمارتوں کو روشن کردیتے ہیں۔ اگر مغربی ممالک شہروں کو تاریک کرتے ہیں تو اس کی تقلید میں تیسری دنیا کے ملک بھی کچھ دیر کے لئے ان سے اظہار یگانگت کے لئے برقی کا استعمال بند کردیتے ہیں۔ یہ دراصل تیسری دنیا کے ممالک کی مغرب سے مرغوبیت اور غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ اور برطانیہ میں دہشت گردی کا ایک معمولی واقعہ بھی پیش آتا ہے تو واشنگٹن سے لے کر لندن اور کولمبونک ایک ہنگامہ مچ جاتا ہے۔ کثیر تعداد میں جب لوگ نائیجیریا ، پاکستان ، افغانستان ، ہندوستان ، مصر جیسے ملکوں میں دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی مذمت بھی نہیں کی جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ملکوں میں دہشت گردانہ حملوں اور اس میں ہزاروں افراد کا مارا جانا مغربی میڈیا کے لئے ایک خبر نہیں۔ اگر امریکہ میں پیش آئے 9/11 دہشت گردانہ حملوں کے بعد کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس تاریخ سے لے کر آج تک کئی بڑے دہشت گردانہ حملوں کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو دہشت گردوں کے حملوں میں تباہ و برباد کیا گیا جس میں 3000 مردو خواتین مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ 13 دسمبر 2001ء کو نئی دہلی میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا جس میں 7 ہلاکتیں ہوئیں۔ 12 اکتوبر 2002کو انڈونیشیا کے تفریحی مقام بالی میں بم حملے کئے گئے جن میں 202 افراد ہلاک اور 240 زخمی ہوئے۔ 23 اکتوبر 2002ء کے دوران ماسکو میں پیش آئے دہشت گردانہ واقعہ میں 170 افراد ہلاک اور 700 زخمی ہوئے۔ مارچ 2004ء میں میڈرڈ ٹرین بم دھماکوں کا واقعہ پیش آیا اس واقعہ میں 191 افراد کی موت ہوئی۔ تقریباً 1800 زخمی ہوئے ان میں کئی معذور ہوچکے ہیں۔ یکم ستمبر سال 2004 کو روس کے سیلان میں دہشت گردوں نے زبردست تباہی مچائی جس میں 344 افراد بشمول 186 بچے مارے گئے۔ 14 فروری کو لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کو دہشت گرد حملہ میں ہلاک کیا گیا۔ 7 جولائی 2005ء کو لندن میں بم حملے کئے گئے ان میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے۔ 11 جولائی 2006ء کو ممبئی کے ٹرینوں میں دھماکے ہوئے۔ 200 افراد ہلاک اور 700 زخمی ہوئے۔ 14 اگست 2007ء کو عراق میں دنیا کی تاریخ کے بدترین بم دھماکے کئے گئے جن میں 796 افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد 26 نومبر 2008 کو ممبئی کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ۔ 166 افراد ہلاک اور بے شمار زخمی ہوئے  مہلوکین میں اعلیٰ پولیس عہدہ دار بھی شامل تھے۔ 11 جولائی 2010ء کو یوگانڈا میں پیش آئے دہشت گردانہ حملوں میں 74 لوگوں کی جانیں گئیں۔ 4 اکتوبر 2011کو صومالیہ میں دہشت گردوں نے 100 افراد کو ہلاک اور 110 کو زخمی کردیا۔ 16اگست 2012ء کو عراق میں خودکش دھماکے کئے گئے۔ ان میں 128 افراد ہلاک اور 417 شدید زخمی ہوئے۔ 10 جنوری 2013ء کو پاکستان میں دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ اس واقعہ میں تقریباً 150 افراد جاں بحق ہوئے اور 270 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد 22 مئی 2014ء کو ارمقی چین میں پیش آئے واقعہ میں 34 افراد مارے گئے اور 240 زخمی ہوئے۔

26 نومبر 2014ء میں نائیجیریا کو دہشت گردوںنے نشانہ بتایا جس میں 120 لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ 240 زخمی ہوئے 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے ایک اسکول میں خودکش بمباروں نے حملہ کردیا۔ 8 اساتذہ کے بشمول 140 طلبہ جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ 7 جنوری 2015ء کو چارلی ہیبڈو پر (فرانس) میں حملہ کیا گیا۔ 17 ہلاک اور 22 زخمی ہوئے اسی طرح 8 جنوری 2015ء کے بعد سے نائیجیریا، کینیا، انقرہ، چاڈ، بیروت، مالی وغیرہ میں پیش آئے دہشت گردانہ واقعات میں 672 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 31 اکتوبر سینائی میں روسی مسافر بردار طیارہ کو مار گرایا۔ اس واقعہ میں 224 لوگ ہلاک ہوئے۔ اہم بات یہ ہے کہ 9/11کے بعد دنیا کے مختلف مقامات پر 20 سے زائد دہشت گردانہ حملے کئے گئے ان میں 3,897لوگ مارے گئے ان تمام واقعات کے باوجود  مغرب میں صرف مغربی ملکوں میں پیش آئے واقعات پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا لیکن تیسری دنیا اور افریقی ملکوں میں پیش آئے واقعات پر کسی قسم کا سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا جاتا۔ مغربی دنیا کو اس دوغلے پن سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ انسان چاہے وہ دنیا کے کسی خطہ میں کیوں نہ ہو اس کی جان قیمتی ہوتی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT