Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / دہلی اسمبلی کی برخاستگی کی تجویز پر غور کا امکان : گورنر

دہلی اسمبلی کی برخاستگی کی تجویز پر غور کا امکان : گورنر

عام آدمی پارٹی لیڈر کمار وشواس کی نجیب جنگ پر سخت تنقید
نئی دہلی ۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک تازہ تنازعہ پیدا کرتے ہوئے لیفٹننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ نے آج کہا کہ وہ دہلی اسمبلی کی برخاستگی کی تجویز پر غور کرنے کے مخالفت نہیں ہیں۔ اگر ایسی تجویز ان کے روبرو پیش کی جاتی ہے تو عام آدمی پارٹی کی جانب سے لیفٹننٹ گورنر کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا۔ عام آدمی پارٹی نے الزام عائد کیا کہ دہلی کو مرکز کی جانب سے ’’جانچ‘‘ کی زمین کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے تاکہ پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکے۔ نجیب جنگ جنہوں نے کھل کر عام آدمی پارٹی کر گذشتہ ہفتہ دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد کہ لیفٹننٹ گورنر شہر کے انتظامی سربراہ ہیں، یہ بھی کہاکہ چیف منسٹر اروند کجریوال کو وزیراعظم نریندر مودی سے معذرت خواہی کرنی چاہئے کیونکہ کجریوال نے مودی کے نام بگاڑ کر انہیں مخاطب کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے کہا کہ نجیب جنگ اروند کجریوال سے دلی نفرت رکھتے ہیں اور ایک شخص کی جانب سے جو دستوری عہدہ پر فائز ہے، اس قسم کے سیاسی تبصرے دستور کی اہمیت کم کرنے کے مترادف ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران اس سوال پر کہ کیا وہ اس نظریہ پر کھلا ذہن رکھتے ہیں کہ دہلی اسمبلی برخاست کردی جائے۔ نجیب جنگ نے کہا تھا کہ ایک انسان کی حیثیت سے، دہلی کے ایک شہری کی حیثیت سے سوچنے پر وہ دہلی سے متعلق کسی بھی چیز پر غوروفکر کرنے کیلئے کھلا ذہن کیوں نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے کہا تھا بیشک میں کوئی بھی چیز سوچنے کیلئے آمادہ نہیں۔

ہم تمام انسان ہیں اور ہر قسم کے خیالات ہمارے دماغ میں آتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی شخص مجھ سے تحریری سوال کرے کہ آپ کی کیا رائے ہے تو بیشک میں اس پر غور کروں گا۔ میں کوئی روبوٹ نہیں جو سوچ نہیں سکتا۔ کجریوال کی جانب سے مودی پر تنقید کیلئے ماضی میں سخت لب و لہجہ اختیار کرنے پر نجیب جنگ نے خبر رساں چینل ایکس ٹی وی پر کہا تھا کہ جمہوریت میں آپ وزیراعظم کی پالیسیوں پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن ان کے نام بگاڑ کر انہیں پکار نہیں سکتے۔ عام آدمی پارٹی کے قائد کمار وشواس نے نجیب جنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے مرکز کو چیلنج کیا کہ دہلی اسمبلی کی تحلیل کیلئے قانون سازی کی جائے۔ عام آدمی پارٹی کو اسمبلی میں غالب اکثریت حاصل ہے۔ 70 رکنی ایوان اسمبلی میں اس کے 67 ارکان ہیں۔ وشواس نے کہا کہ نجیب جنگ کا تبصرہ مودی حکومت کے انداز فکر کی عکاسی ہے اور دہلی کو جانچ کی سرزمین کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے کیا ردعمل ظاہر ہوگا۔ کیا نجیب جنگ یہی زبان استعمال کرتے اگر بی جے پی کے 67 ارکان اسمبلی ہوتے؟ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی نفرت اور اروند کجریوال سے حسد کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اس کی نفرت کا شکار ہورہی ہے۔ وشواس نے کہا کہ میں لیفننٹ گورنر سے درخواست کرتا ہوں کہ 10 روزہ وپسنا کورس کریں اور نفرت کو اپنے دماغ سے نکال پھینکے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نجیب جنگ نے کجریوال سے اپنی تنقید کیلئے وزیراعظم سے معذرت خواہی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے سیاسی تبصرے ایک ایسے شخص کی جانب سے جو دستوری عہدہ پر فائز ہے، دستور کی اہمیت کم کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رائے صرف مرکز کے انداز فکر کی عکاس ہے۔ کسی ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو برخاست کرنا ان کی سفارش پر منحصر نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے۔ اگر مرکز ایسا کرنا چاہتا ہے تو ہم حکومت کو چیلنج کریں گے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون منظور کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انٹرویو دیتے ہوئے نجیب جنگ کوشش کررہے ہیں کہ عام آدمی پارٹی حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے پیش نظر عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہوسکیں۔ سابق دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی پر تنقید کرتے ہوئے جنہیں یو پی ایس سی کا رکن ان کی سبکدوشی کے بعد بنایا گیا ہے، وشواس نے کہا کہ نجیب جنگ کو انتخابی مقابلہ کرنا چاہئے۔ بسی عام آدمی پارٹی حکومت کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں جس نے مرکز کے حکومت پر اعتراض کیا تھا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور گورنر نجیب جنگ کے درمیان کشیدگی کا پہلے ہی دن سے آغاز ہوگیا ہے۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد اس کشیدگی میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔ نجیب جنگ نے فیصلہ سے حوصلہ پاکر عام آدمی پارٹی پر سخت تنقیدیں کی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT