Monday , June 18 2018
Home / اداریہ / دہلی انتخابات اور بی جے پی

دہلی انتخابات اور بی جے پی

جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلاف قاضی شہر کچھ اس باب میں ارشاد کرے دہلی انتخابات اور بی جے پی

جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلاف
قاضی شہر کچھ اس باب میں ارشاد کرے
دہلی انتخابات اور بی جے پی
دہلی میں اسمبلی انتخابات کیلئے جیسے جیسے وقت قریب آتا جا رہا ہے ویسے ویسے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بی جے پی دہلی میں بہرصورت اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد سے اس کی کامیابیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ اسے جھارکھنڈ ‘ ہریانہ اور مہاراشٹرا میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا سلسلہ برقرار رکھا جائے اور دہلی میں بھی اسے اقتدار مل جائے ۔ پارٹی اس کیلئے ہر طرح کی جدوجہد کرتی نظر آ رہی ہے لیکن یہ تاثر بیجا نہیں ہوسکتا کہ دہلی انتخابات میں اس کی مہم اور کوششوں کی سمت درست نہیں ہے اور وہ شائد رائے دہندوں پر اس حد تک اثر اندازنہ ہونے پائے جتنی اسے امید ہے یا پھر اسے رائے دہندوں کی اتنی تائید نہ ملنے پائے جتنی اقتدار حاصل کرنے ضروری ہے ۔ اب تک جو انتخابی سروے ہوئے ہیں اور ان کی جو رپورٹس سامنے آئی ہیں ان کے مطابق بی جے پی کو اقتدار ملنا مشکل سے مشکل ہے اور عام آدمی پارٹی ایک بار پھر رائے دہندوں کی اولین پسند ہے ۔ انتخابی سروے اور پہلے سے حالات کو دیکھنے کے بعد بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی روایت سے انحراف کرتے ہوئے وزارت اعلی امیدوار کو پیش کردیا ہے اور اس نے انتخابات کیلئے اپنا کوئی منشور بھی جاری نہیں کیا ہے ۔ اس نے صرف ویژن دستاویز کی اجرائی کو ترجیح دی ہے ۔ کرن بیدی کو وزارت اعلی امیدوار کے طور پر پیش کرنا اس کی مجبوری ہے کیونکہ اگر دہلی میں شکست ہوگئی تو پارٹی سے زیادہ وزیر اعظم کی مقبولیت پر اثر ہوگا اور اسی وجہ سے وزیر اعظم کا چہرہ بچانے بی جے پی نے کرن بیدی کو اپنی وزارت اعلی امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس کے بعد پہلے سے ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے جو دہلی میں حکمرانی کرسکے ۔ اس کے برخلاف اروند کجریوال کے پاس چند دن کی حکمرانی کا ریکارڈ ہے اور اس بار انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ پانچ سال تک دہلی چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے ۔ کجریوال کا یہ وعدہ عوام کیلئے اہمیت کا حامل ہے اور عوام اس پر یقین بھی کرنے لگے ہیں کیونکہ کجریوال نے اس سے قبل انتخابات میں جو وعدے کئے تھے اپنے مختصر ترین دور میں انہیں پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی تھی ۔
اس بار دہلی اسمبلی انتخابات کے موقع پر بی جے پی ایک جٹ اور متحد بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ کرن بیدی کو وزارت اعلی امیدوار کے طور پر پیش کرنے کے نتیجہ میں پارٹی کے قائدین میں ناراضگی ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری جماعتوں سے بی جے پی کی صفوں میں شامل ہونے والے قائدین کو اہمیت دئے جانے سے پارٹی کے موجودہ قائدین اور کیڈر میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے اور ان کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی ہے ۔ کیڈر کی حوصلہ شکنی کے علاوہ رائے دہندوں میں بھی یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بی جے پی شائد اپنے طور پر کجریوال کی عام آدمی پارٹی سے مقابلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ یہ دو ایسے عنصر ہیں جن کی وجہ سے بی جے پی کے انتخابی نتائج متاثر ہوسکتے ہیں اور شائد اس کا اندازہ پارٹی کو بھی ہونے لگا ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے کرن بیدی کو امیدوار بنانے کے بعد اب منشور جاری کرنے سے بھی گریز کیا ہے اور صرف ویژن دستاویز پر اکتفا کیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارٹ کے پاس رائے دہندوں سے کرنے کیلئے کوئی وعدے نہیں ہیں ۔ اس کے پاس دہلی کیلئے کوئی خاص ایجنڈہ ‘ اسکیمات یا پروگرامس نہیں ہیں جن کو پیش کرتے ہوئے وہ رائے دہندوں سے ووٹ طلب کرسکے ۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے حوصلے کافی بلند ہیں ۔ مختلف سروے میں اس کی کارکردگی سے متعلق جو رپورٹس سامنے آئی ہیں ان سے بھی دوسرے رائے دہندوں پر اثر ہوسکتا ہے ۔ ایک ہفتے میں عام آدمی پارٹی کے حق میں چار فیصد ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ یہ اضافہ بی جے پی کے نقصان کی قیمت پر ہو رہا ہے ۔
بی جے پی نے کہا ہے کہ دہلی میں تبدیلی اور ترقی لائیگی اگر اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے ۔ یہ عوام سے دھوکہ ہے ۔ دہلی میں پہلے سے صدر راج نافذ ہے ۔ مرکز میں مودی حکومت کو اقتدار پر آئے نو ماہ ہوچکے ہیں۔ نو ماہ سے دہلی صدر راج میں ہے اور بالواسطہ طور پر یہاں بی جے پی ہی انتظامیہ چلا رہی ہے کیونکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ ایسے میں نو مہینوں میں بی جے پی نے دہلی اور اس کے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ۔ بلکہ یہاں فرقہ وارانہ فساد بھڑکایا گیا تھا ۔ پارٹی کی مسلسل کامیابیوں کے بعد اگر دہلی میں اسے شکست ہوتی ہے تو اس کی مستقبل کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ پارٹی نے یہاں جس طرح کی حکمت عملی اختیار کی ہے وہ نہ اس کیلئے کامیابی کی ضمانت ہوسکتی ہے اور نہ اس سے وہ یقین دکھائی دیتا ہے جس کا پارٹی نے دوسری ریاستوں میں انتخابات سے قبل اظہار کیا تھا ۔ بحیثیت مجموعی پارٹی کے حوصلے پست دکھائی دیتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT