Monday , February 26 2018
Home / Top Stories / دہلی بدترین فضائی آلودگی کے سبب ’’گیس چیمبر‘‘ میں تبدیل

دہلی بدترین فضائی آلودگی کے سبب ’’گیس چیمبر‘‘ میں تبدیل

عوام کو شدید تکالیف، دم گھٹنے اور آنکھوں میں جلن کی شکایات، 300 سے زائد پروازیں اور کئی ٹرینس کی آمدورفت متاثر، اسکولس کو آج تعطیل

نئی دہلی ۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں فضاء آج موسم اب تک کی بدترین صورتحال اختیار کرگئی جہاں اناج کی بھوسی جلانے اور کہر نے شہر کو ’’گیس چیمبر‘‘ میں تبدیل کردیا جس کی وجہ سے لوگ دم گھٹتا محسوس کررہے تھے چنانچہ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے سلسلہ وار اقدامات کئے ہیں۔ اس ضمن میں کل پرائمری اسکولس کو تعطیل کا اعلان کیا گیا اور پارکنگ فیس میں چار گنا اضافہ کردیا گیا۔ سارا شہر آج کہر کی چادر میں لپیٹے ہوئے تھا اور صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس سے پروازیں اور ٹرین سرویس بھی متاثر رہی۔ فضائی آلودگی گھر کے کمروں یہاں تک کہ زیرزمین میٹرو اسٹیشنس تک پھیل گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور سوجن کی شکایات دیکھی گئی۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے کہا کہ دارالحکومت نئی دہلی ’’پبلک ہیلت ایمرجنسی‘‘ کا شکار ہے۔ حکومت سے اپیل کی گئی ہیکہ وہ اسکولس میں آوٹ ڈور اسپورٹس اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی لگائے تاکہ بچوں کی صحت کا تحفظ ہوسکے۔ حکومت نے بچوں، معمر افراد، حاملہ خواتین اور دمہ کے علاوہ امراض قلب کا شکار
افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے رات میں یہ اعلان کیا ہیکہ پرائمری اسکولس کل بند رہیں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ پولیویشن اتھاریٹی نے کہا ہیکہ آلودگی پر قابو پانے کیلئے تمام تر اقدامات پر تاحکم ثانی عمل آوری جاری ہے گی۔ اس نے اس علاقہ میں تمام ریاستوں کو یہ حکم دیا ہیکہ مختلف اقدامات جیسے ’’جفت ۔ طاق اعداد‘‘ پر عمل آوری کرے تاکہ بحران پر قابو پایا جاسکے۔ آلودگی کے سبب پروازیں بھی متاثر رہیں اور 300 سے زائد طیاروں کی پرواز میں تقریباً دو گھنٹے تاخیر ہوئی کیونکہ تین رن ویز کے منجملہ صرف ایک کو ہی استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی طرح دہلی کی تقریباً 25 ٹرینوں کے شیڈول میں بھی تاخیر ہوئی۔ فضائی آلودگی کی جانچ کی گئی تو یہ 500 کے پیمانے پر 448 تھی اور اسے انتہائی سنگین زمرہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ جاریہ سال دوسری مرتبہ ایسی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

کجریوال کی مرکزی وزیرماحولیات سے ملاقات نہ ہوسکی
آج دہلی کی فضائی صورتحال کے پیش نظر چیف منسٹر اروند کجریوال نے مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی لیکن وہ ماحولیاتی تبدیلی چوٹی اجلاس میں شرکت کیلئے جرمنی گئے ہوئے ہیں۔ سرکاری عہدیدار نے کہا کہ چیف منسٹر بحران کے سلسلہ میں ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن کوئی شیڈول طئے نہیں کیا جاسکا۔ امکان ہیکہ 9 نومبر کو یہ ملاقات ہوگی۔

ماسک کی خریداری کیلئے ہجوم
دہلی میں لوگ خود کو بچانے کیلئے ماسک کی خریداری کرتے دیکھے گئے حالانکہ ڈاکٹرس نے موجودہ صورتحال میں ان کے مؤثر ہونے کے تعلق سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ایمس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریانے کہا کہ فضائی آلودگی جب زیادہ ہوجائے تو ماسک معاون نہیں ہوتے کیونکہ بازو سے ہوا اندر داخل ہونے کا امکان رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بچے اور معمر افراد ماسک لگانے پر بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف فلٹرس یا ایرپیوریفائر ہی کسی حدتک راحت فراہم کرسکتے ہیں۔
ایرپیوریفائر اور ماسک کافی نہیں
فضائی آلودگی سے فکرمند والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ اسکولس بند کردے اور صورتحال پر قابو پانے کیلئے طویل مدتی اقدامات یقینی بنائیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں ایرپیوریفائرس اور ماسک بھی ناکافی ثابت ہورہے ہیں۔ گڑگاؤں کے ایک شہری نے کہا کہ ہمیں اپنے 6 سالہ بچے کو اسکول بھیجنے کے بارے میں فکر لاحق ہے۔ اسی طرح ایک آئی ٹی پروفیشنل خاتون نے کہا کہ اس نے خود کیلئے اور اپنی بیٹی کیلئے ماسک خریدا لیکن یہ کافی نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں لیکن ان کی زندگی خطرہ سے دوچار نہیں کرسکتے۔ آج آلودگی کے سبب دہلی یونیورسٹی کالجس میں حاضری انتہائی کم ریکارڈ کی گئی۔

دہلی حکومت پانی کا چھڑکاؤ کرسکتی ہے : مرکزی وزیر
مرکزی وزیرماحولیات ہرش وردھن نے کہا کہ دہلی حکومت فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے پانی کا چھڑکاؤ بھی کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب دہلی کے وزیرماحولیات عمران حسین نے مکتوب روانہ کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر یا طیارہ کے ذریعہ پانی کا چھڑکاؤ کرنے کی درخواست کی تاکہ گرد پھیلنے نہ پائے۔

TOPPOPULARRECENT