Thursday , January 18 2018
Home / سیاسیات / دہلی حکومت کے متنازعہ سرکیولر پر حکم التواء

دہلی حکومت کے متنازعہ سرکیولر پر حکم التواء

نئی دہلی ۔ 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج حکومت دہلی کے ایک سرکیولر پر حکم التواء جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چیف منسٹر اروند کجریوال اور دیگر وزراء کے خلاف رسواء کن خبر شائع کرنے پر میڈیا اداروں پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے اور وضاحت طلب کی کہ یہ سرکیولر کیوں جاری کیا گیا ہے۔ جسٹس دیپک مصرا اور جسٹس پروفلاپنت پر مشتمل بنچ نے کجریوال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عبوری اقدام کے طور پر 6 مئی 2015ء کو جاری کردہ سیکولر پر عمل آوری کو تاحکم ثانی روک دینے کی ہدایت دی ہے اور کجریوال سے وضاحت طلب کی ہیکہ ڈائرکٹوریٹ آف انفارمیشن نے کیوں اس طرح کا سرکیولر جاری کیا ہے۔ عدالت نے اندرون 6 ہفتے جواب دینے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت کی تاریخ 8 جولائی مقرر کی ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم ایک سینئر ایڈوکیٹ امیت سیبل کی عرضی پر جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ایک ٹرائیل کورٹ زیرسماعت ہتک عزت مقدمہ کی کارروائی پر عدالت العالیہ کے حکم التواء کو برخاست کرنے کی استدعا کی ہے۔ امیت سیبل نے پٹیالہ ہاؤز کورٹ میں کجریوال اور دیگر کے خلاف ایک ہتک عزت کا کیس دائر کیا تھا اور کہا تھا کہ ایک طرف چیف منسٹر ہتک عزت پر قوانین تعزیرات کو کالعدم قرار دینے کے خواہشمند ہیں تو دوسری طرف اس طرح کا سرکیولر جاری کیا ہے۔ دریں اثناء بی جے پی اور کانگریس نے حکومت دہلی کے متنازعہ سرکیولر پر سپریم کورٹ کے حکم التواء کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جمہوریت فتح قرار دیا ہے جبکہ سیکولر میں سرکاری عہدیداروں کو ہدایت دی گئی تھی۔ رسوا کن خبریں شائع کرنے پر میڈیا کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کریں۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر اروند کجریوال مخالفین کا گلا گھونٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صدر دہلی پردیش کانگریس اجئے ماکن نے کہا کہ کجریوال حکومت نہ صرف میڈیا بلکہ سیاسی مخالفین کی آواز خاموش کرنا چاہتی ہے جس کیلئے قانون ہتک عزت کا سہارا لیا جارہا ہے۔ بی جے پی لیڈر وجیندر گپتا نے کہا کہ جمہوریت میں میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی اور حکومت پر سرکیولر کے خلاف عدالت کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔

وزیراعظم کے انتخابی حلف نامہ کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست
احمدآباد ۔ 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کے ایک رکن نے گجرات ہائیکورٹ میں درخواست پیش کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی خواہش کی ہے۔ اس نے الزام عائد کیا ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی نے ناقص حلف نامہ داخل کیا تھا جبکہ انہوں نے 2012ء کے اسمبلی انتخابات میں منی نگر کے حلقہ سے مقابلہ کیا تھا۔ درخواست گذار نشانت ورما نے کہا کہ اس نے ضلع کی سیشن عدالت کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے وزیراعظم اور سابق ریٹرننگ آفیسر منی نگر حلقہ کے خلاف کارروائی کرنے کی خواہش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT